اسٹیبلشمنٹ مخالف سہیل آفریدی اچانک ’گڈ بوائے‘ کیوں بن گئے؟

 

 

 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حالیہ سرگرمیوں، ملاقاتوں اور بیانات نے پی ٹی آئی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ کل تک اپنے سخت بیانیے، جارحانہ مؤقف اور مقتدر حلقوں سے فاصلہ رکھنے کی وجہ سے یوتھیوں کے منظور نظر قرار پانے والے سہیل آفریدی آج ان کے لہجے کی نرمی، رویے میں لچک اور فیصلوں میں ہم آہنگی کی وجہ سے عمرانڈوز کے نشانے پر ہیں۔ سہیل آفریدی کی جانب سے صوبائی اپیکس کمیٹی کی سربراہی، وزیراعظم سے ملاقات اور پرو اسٹیبلشمنٹ بیانات کے بعد یہ سوال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ کیا واقعی سہیل آفریدی سیاسی حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے ’گڈ بوائے‘ بن چکے ہیں، یا محض اقتدار کی مجبوری اور کرسی کو بچانے کیلئے نرم رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں؟

 

گزشتہ چند دنوں میں سہیل آفریدی کے طرزِ سیاست میں آنے والی تبدیلی نے پارٹی کے اندر موجود دراڑوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ سہیل آفریدی مخالف دھڑے کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کے اصل بیانیے سے ہٹ چکے ہیں۔ ناقدین کے بقول وزیراعلیٰ نامزد ہونے کے بعد سہیل آفریدی کا ابتدائی رویہ خاصا جارحانہ تھا۔ انہوں نے نہ صرف مقتدر حلقوں پر کھل کر تنقید کی بلکہ عمران خان کی اجازت کے بغیر کسی سے ملاقات نہ کرنے کا اعلان اور خیبرپختونخوا میں جاری سیکیورٹی آپریشنز کی سخت مخالفت کر کے پی ٹی آئی کارکنان کا اعتماد جیتنے میں بھی کامیاب رہے۔ تاہم زمینی حقائق نے جلد ہی سہیل آفریدی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور انھوں نے مقتدر حلقوں کی ہاں میں ہاں ملانی شروع کر دی۔ باجوڑ میں جرگے کی ناکامی اور وادی تیراہ میں رضاکارانہ نقل مکانی کرنے والے عوام کی مکمل معاونت کا حکومتی اعلان وہ موڑ تھا جہاں سہیل آفریدی کے لہجے میں پہلی بار واضح نرمی دیکھی گئی۔

 

مبصرین کے مطابق گزشتہ ہفتے ضلع خیبر میں جرگے کے دوران سہیل آفریدی نے قبائل کو لے کر اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا، مگر اس کے اگلے ہی روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کے مالی معاملات اور امن و امان کی صورتحال پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی۔ جس سے جہاں سہیل آفریدی کے قول و فعل میں واضح تضاد کھل کر سامنے آیا وہیں پی ٹی آئی کی اپنی سوشل میڈیا بریگیڈ نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو نشانے پر لے لیا۔ سہیل آفری صرف وزیر اعظم سے ملاقات پر ہی نہیں رکے بلکہ اس کے فوراً بعد سہیل آفریدی نے صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی سربراہی بھی کی، جس میں کور کمانڈر پشاور بھی شریک تھے۔ اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج اور سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ریاست سے افغانستان کے خلاف دہشت گردی کے ثبوت مانگنے والے سہیل آفریدی یکسر مختلف انداز میں نظر آئے اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ صوبائی حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی جان چکے ہیں کہ کہ اداروں کے ساتھ ٹکر لے کر حکومت چلانا ممکن نہیں کیونکہ پاکستان میں مقتدر حلقوں سے فاصلے کی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے یوٹرن سے یہ خدشات موجود ہیں کہ اگر سہیل آفریدی کا یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو پارٹی کے اندر ان کے خلاف بھی وہی مزاحمت جنم لے سکتی ہے جو ماضی میں علی امین گنڈاپور کو درپیش رہی۔تاہم بعض دیگر سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول سہیل آفریدی پہلے بھی مکمل طور پر ’اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘ نہیں تھے، مگر وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے حکمرانی کی نزاکت کو زیادہ سنجیدگی سے سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ سہیل آفریدی یہ سمجھ چکے ہیں کہ وفاق اور اداروں کے ساتھ مل کر چلنا کسی بھی صوبائی حکومت کی مجبوری ہے، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اب اس حقیقت کو اپناتے نظر آ رہے ہیں۔

8 فروری کے ناکام احتجاج سے PTI کی رہی سہی ساکھ بھی اڑ گئی

سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول سہیل آفریدی ابتدائی دنوں میں گورننس کے تقاضوں سے پوری طرح واقف نہیں تھے، مگر اب ان کے بیانات زیادہ نپے تلے اور عملی دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق چاہے سہیل آفریدی جتنی بار یہ کہیں کہ انہیں کرسی کی فکر نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کی ذمہ داری نے انہیں محتاط بنا دیا ہے۔ 100 دن گزرنے کے بعد اب انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ حکومت کیسے چلتی ہے اور وفاق کے ساتھ ہم آہنگی کیوں ضروری ہے۔مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ ایک طرف پی ٹی آئی کا جذباتی اور مزاحمتی بیانیہ ہے، تو دوسری جانب صوبہ چلانے کی عملی ضرورتیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ سہیل آفریدی اس توازن کو برقرار رکھ پاتے ہیں یا پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی ان کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن کر سامنے آتی ہے اور وہ گنڈاپور کی طرح اپنی کرسی بچانے میں ناکام رہتے ہیں۔

Back to top button