عارف حبیب گروپ نے PIA جیسا مردہ گھوڑا135ارب میں کیوں خریدا؟

 

ملک کے بڑے مالیاتی ادارے عارف حبیب گروپ کی جانب سے 135 ارب روپے میں پی آئی اے جیسی مسلسل خسارے میں چلنے والی قومی ایئر لائن کی خریداری کا فیصلہ اب بھی سیاسی اور معاشی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔ مبصرین  سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک ایسا مضبوط مالیاتی گروپ، جو ماضی میں سٹاک ایکسچینج، رئیل سٹیٹ، کھاد، سیمنٹ، اسٹیل، انرجی اور فنانس سمیت مختلف شعبوں میں کامیاب سرمایہ کاری کر چکا ہے، اس نے پی آئی اے جیسے مردہ گھوڑے کوخریدنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال صرف خریداری کا نہیں بلکہ اس فیصلے کے پس منظر میں کارفرما حکمتِ عملی کا ہے کہ عارف حبیب گروپ کے لیے ایوی ایشن انڈسٹری میں قدم رکھنے کی اصل وجہ کیا ہے، اور کیا عارف حبیب کنسورشیم پی آئی اے کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کرنے اور اسے ایک منافع بخش ادارے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو پائے گا؟

مبصرین کے مطابق عارف حبیب گروپ کی جانب سے کسی نئے شعبے میں سرمایہ کاری پر سوالات اٹھنا کوئی نیا امر نہیں۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ عارف حبیب گروپ ایسے خدشات کا سامنا پہلے بھی کر چکا ہے۔ کراچی میں نیا ناظم آباد جیسے بڑے اور نسبتاً غیر روایتی منصوبے کے آغاز پر بھی یہی سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ آیا عارف حبیب گروپ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں اپنی صلاحیت ثابت کر پائے گا یا نہیں۔ تاہم نہ صرف یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل کیا گیا بلکہ آج نیا ناظم آباد کراچی میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے، جو جدید منصوبہ بندی، بہتر تعمیرات اور جدید سہولیات کے باعث شہر کے نمایاں ہاؤسنگ پراجیکٹس میں شمار ہوتا ہے۔تاہم اب ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک مالیاتی ادارہ ایوی ایشن جیسے پیچیدہ اور تکنیکی شعبے کے تقاضوں کو کس حد تک مؤثر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق عارف حبیب گروپ کی سامنے آنے والی حکمت عملی سے لگتا ہے کہ وہ اس بار بھی پی آئی اے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر کے اپنا نام بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ عارف حبیب گروپ پاکستان کا بڑا کاروباری گروپ ہے جو سٹاک ایکسچینج سے اپنے سفر  کا آغاز کرنے کے بعد مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرتے کرتے اب ایوی ایشن انڈسٹری میں بھی داخل ہو چکا ہے۔ عارف حبیب گروپ پاکستان نے اپنے سفر کا آغاز سٹاک ایکسچینج سے کیا اور وقت کے ساتھ بروکیج ہاؤس، رئیل اسٹیٹ، کھاد، سیمنٹ، اسٹیل، انرجی اور فنانس سمیت متعدد شعبوں میں کامیاب سرمایہ کاری کی۔ اب یہ گروپ ایوی ایشن انڈسٹری میں قدم رکھتے ہوئے ایئر کراچی میں بھی سرمایہ کاری کرنے کے علاوہ پی آئی اے کو خریدنے والے بڑے گروپ کی شکل میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ مبصرین کے مطابق بروکیج ہاؤس، رئیل اسٹیٹ، کھاد، سیمنٹ اور سریے کے بعد ایوی ایشن تک کا سفر ایک کاروباری گروپ کی اونچی اڑان تو ہے لیکن سوال یہ کہ عارف حبیب گروپ نے آخر خسارے کا شکار پی آئی اے کو کیوں خریدی؟

پی آئی اے کو 135 ارب میں خریدنے والے عارف حبیب  کا کہنا ہے کہ پی آئی اے میں کافی صلاحیت ہے، اگلے مرحلے میں ہم کسی بین الاقوامی ایئر لائن کو بھی اپنے ساتھ شامل کر سکتے ہیں، حج و عمرے سمیت مذہبی سفراوربیرونِ ملک پاکستانی بھی ایئر لائن کے لیے بہت اہم ہیں۔ موجودہ اور نیا پروفیشنل عملے کو ملا کر بہتر کارکردگی دکھائیں گے ہم تو چاہتے ہیں کہ مل کر پاکستان کے لیے بڑے پروجیکٹس کریں، ہمارا مؤقف ہے کہ ایک دوسرے کو سپورٹ کرنا چاہیے تاکہ پاکستان ترقی کرے۔ پی آئی اے کی خریداری بھی ہماری اسی سوچ کی عکاس ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی پروفیشنلز نے کئی ممالک کی ایئر لائنز کھڑی کی ہیں۔ اب بھی انھیں ساتھ ملا کر پی آئی اے کی عظمت کو بحال کریں گے۔

مبصرین کے مطابق ماضی میں پی آئی اے کا شمار دنیا کی بہترین ائیرلائنز میں ہوا کرتا تھا لیکن اب ایسا وقت آگیا ہے کہ حکومت نے خسارے کے بڑھتے بوجھ  کی وجہ سے قومی ائیر لائن کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کی بنیادی وجہ غیر ملکی مالیاتی اداروں کا دباؤ تھاتاہم معاشی ماہرین کے مطابق اب بھی پی آئی اے میں بہت صلاحیت موجود ہے اسی لئے عارف حبیب جیسے گروپ نے اسے 135ارب روپے میں خرید لیا ہے۔  پی آئی اے کے 150 کے قریب قومی و بین الاقوامی روٹس اسے دیگر ائیر لائنز سے ممتاز بناتے ہیں جن میں پیرس، لندن اور نیویارک بہت اہم ہیں۔ ان روٹس سے اچھا خاصا منافع کمایا جا سکتا ہے ساتھ ہی حج اور عمرے کا سیزن بھی بہت اہم ہے جس میں پی آئی اے کو اچھا منافع ملتا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر عارف حبیب گروپ کے کاروباری ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ گروپ نے ہمیشہ ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے جہاں منافع کی گنجائش سابقہ کاروبار کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رہی۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت گروپ نے ایوی ایشن سیکٹر میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اس شعبے میں طویل المدت بنیادوں پر منافع کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق محتاط اندازوں کے تحت پی آئی اے کی یومیہ آمدن تقریباً 63 کروڑ روپے ہے، جو ماہانہ بنیادوں پر 19 ارب روپے بنتی ہے، جبکہ سالانہ آمدن 230 ارب روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن نہایت وسیع ہے اور حج و عمرہ کے سیزن کے دوران مسافروں کی بڑی تعداد ایئرلائن کے لیے نمایاں آمدن کا ذریعہ بنتی ہے۔ کارگو سروس کے ذریعے دیگر ممالک کو سامان کی ترسیل بھی پی آئی اے کی کمائی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ایوی ایشن انڈسٹری ایک منافع بخش شعبہ ہے، اور کسی بڑے صنعتی و مالیاتی گروپ کا اس جانب آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ماضی کی طرح ایک بار پھر نئے شعبے میں اپنی صلاحیت کو منوانے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

Back to top button