بلوچ خواتین BLAاورTTPکی آلہ کار کیوں بننے لگیں؟

 

 

 

بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران دہشتگردی کے بدلتے ہوئے رجحانات نے سیکیورٹی ماہرین اور پالیسی سازوں کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ خاص طور پر مختلف دہشتگردانہ کارروائیوں میں خواتین کا بڑھتا ہوا کردار ایک تشویشناک اور غیر معمولی پیش رفت کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ خضدار سے گرفتار ہونے والی مبینہ خودکش بمبار لائبہ عرف فرزانہ کےکیس کو اسی بدلتے ہوئے منظرنامے کی ایک اہم کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اب اپنی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی لا رہی ہیں۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جن میں نوجوان خواتین کو دہشتگردی کے نیٹ ورکس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس ساری صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی مخالفت میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں نے باقاعدہ گٹھ جوڑ بنا لیا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کے ساتھ پاکستان کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ حالیہ دنوں سامنے آنے والی مبینہ خودکش حملہ آور لائبہ کا کیس ان حقائق کو واضح کرتا نظر آتا ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق لائبہ عرف فرزانہ کا ابتدائی رابطہ تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر سے ہوا، جس نے اسے ذہنی طور پر خودکش حملے کے لیے تیار کیا۔ بعد ازاں اسے بلوچستان لبریشن آرمی کے نیٹ ورک کے حوالے کیا گیا، جہاں نہ صرف اس کی مزید تربیت کی گئی بلکہ اسے دیگر لڑکیوں کو بھی اس نیٹ ورک میں شامل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تاہم لائبہ کسی دہشتگردانہ کارروائی کا حصہ بننے سے قبل ہی سیکیورٹی اداروں کے شکنجے میں آ گئی۔

 

ماہرین کے مطابق یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جب دہشتگرد اور شدت پسند تنظیموں کی جانب سے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے کسی خاتون کو ٹریپ کیا گیا ہو۔ لائبہ عرف فرزانہ سے قبل بھی بلوچستان اور دیگر علاقوں میں خواتین دہشتگردوں یا مبینہ خودکش حملہ آوروں کی گرفتاری کے کئی کیس سامنے آچکے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے 2022 میں ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب میں ایک خاتون نور جہاں کو گرفتار کیا تھا، جس کا تعلق مبینہ طور پر بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ سے تھا اور وہ سی پیک روٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ اسی سال تربت میں بھی ایک خاتون کو حراست میں لیا گیا، جبکہ 2023 میں کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن سے ایک اور مبینہ خودکش بمبار کو گرفتار کیا گیا۔ ان واقعات کا تسلسل اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسی دہشتگرد تنظیموں میں خواتین کا استعمال اب ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

ملا ہیبت اللہ پاکستان میں دہشت گردی کیوں کروا رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق اس رجحان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے اہم وجہ سیکیورٹی نظام میں موجود وہ خلا ہے جہاں خواتین کی تلاشی نسبتاً نرم ہوتی ہے، جس سے شدت پسند تنظیمیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جذباتی استحصال، سماجی دباؤ اور نظریاتی برین واشنگ کے ذریعے بھی نوجوان خواتین کو ریاست مخالف سرگرمیوں کیلئے قائل کیا جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے بقول سوشل میڈیا نے اس عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے، جہاں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ذہن سازی اور بھرتی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس ساری صورتحال کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بعض کیسز میں خواتین کو خاندان یا قریبی تعلقات کے ذریعے اس راستے پر ڈالا جاتا ہے، جس سے ان کے لیے انکار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض گرفتار ہونے والی لڑکیوں کو سیکیورٹی ادارے مجرم کے بجائے شدت پسند پروپیگنڈے کا شکار بھی قرار دیتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے بقول 2022 میں جامعہ کراچی پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد یہ رجحان خاص طور پر نمایاں ہوا، جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ اس واقعے کے بعد خواتین کے ملوث ہونے کے مزید کیسز سامنے آئے، جس سے یہ واضح ہوا کہ دہشتگرد تنظیمیں روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئی حکمتِ عملی اپنا رہی ہیں۔سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ رجحان خطرناک ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس کے تدارک کے لیے اپنی حکمتِ عملی کو اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے ذریعے متعدد ممکنہ حملے بروقت ناکام بنائے جا چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے اس نئے چیلنج سے نمٹنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس نئے رجحان پر قابو پانے کیلئے محض سیکیورٹی اقدامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ اس مسئلے کے حل کے لیے سماجی سطح پر آگاہی، معیاری تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے سمیت آن لائن شدت پسندی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ہو گی تاکہ اس مکروہ حکمت عملی کا مکمل تدارک کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق  بلوچستان میں خواتین کا دہشتگردی میں بڑھتا ہوا استعمال ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے، جو صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی اور معاشی عوامل سے بھی وابستہ ہے۔ اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ نہ صرف سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے بلکہ معاشرے کے بنیادی ڈھانچے پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

 

Back to top button