بشریٰ کے جن عمران کو جیل سے نکالنے میں ناکام کیوں ہوئے؟

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں گزشتہ دو برس سے قید عمران خان آج کل یقینا یہ سوچتے ہوں گے کہ اگر ساتھ والی کوٹھری میں بند انکی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی واقعی مافوق الفطرت روحانی طاقت رکھتی تھیں اور ان کے زیرِ اثر جن بھی موجود ہیں، تو پھر وہ خود اب تک قید میں کیوں ہیں اور دوبارہ وزارتِ عظمیٰ حاصل کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکے۔
یہ خیال معروف لکھاری ندیم ایف پراچہ نے انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع اپنے تجزیے میں ظاہر کیا ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ نومبر 2025 کے دی اکانومسٹ میگزین نے بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کے مبینہ روحانی اثر و رسوخ پر ایک تفصیلی مضمون شائع کیا جو جیل میں قید عمران خان کی اہلیہ ہیں۔پراچہ کے مطابق بشریٰ اس وقت خود بھی جیل میں ہیں اور عام تاثر یہی ہے کہ عمران خان اب بھی ان کی روحانی قوتوں کے اثر میں ہیں۔ ان کے مطابق دی اکانومسٹ کی تحریر میں اس جوڑے کے سابق قریبی ساتھیوں اور گھریلو عملے کے بیانات بھی شامل تھے جن کے مطابق بشریٰ جادو ٹونے سے عمران خان کی سیاسی طاقت برقرار رکھنے اور انکے مخالفین کی کمر توڑنے کی کوشش کرتی رہیں۔
ندیم پراچہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ برطانوی جریدے میں شائع ہونے والی تحریر کا مواد پاکستانی میڈیا کے لیے نیا نہیں تھا، تاہم جب یہ الزامات ایک معروف بین الاقوامی جریدے میں سامنے آئے تو ملکی سطح پر ردعمل شدید ہوا۔ عمران خان کے سیاسی مخالفین نے فوراً سوشل میڈیا پر اس رپورٹ کو موضوعِ بحث بنایا جبکہ وہ صحافی، جن پر ماضی میں پی ٹی آئی کی جانب سے ’’افواہیں پھیلانے‘‘ کا الزام لگایا جاتا تھا، وہ سچے ثابت ہو گئے۔ ناقدین نے الزام لگایا کہ بشریٰ نے عمران کے پرآشوب دورِ حکومت میں براہِ راست سیاسی فیصلوں میں مداخلت کی، جو عمران کے اس دعوے کے برعکس تھا کہ ان کی اہلیہ محض ایک سادہ گھریلو خاتون ہیں۔
کچھ سیاسی مخالفین نے تو عمران خان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ رہنما ہونے کے باوجود وہ شدید توہم پرست ہیں۔ کچھ لوگوں نے عمران خان کی ناکام حکمرانی کا الزام براہِ راست بشریٰ بی بی پر عائد کیا۔ پراچہ نے اپنی تحریر میں عالمی سیاست کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ جادو، توہمات اور مافوق الفطرت عقائد کو آمریت قائم کرنے کے لیے استعمال کرنا نیا نہیں۔ خان کی طرح کئی دیگر ممالک میں بھی سیاستدانوں نے اپنا خوف قائم کرنے کے لیے روحانی عقائد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ کوریا کے کِم خاندان کو دیوتا نما طاقتوں کا حامل قرار دیا جاتا رہا، صدام حسین کے جادوئی تعویذ رکھنے کی کہانیاں عام تھیں۔ سری لنکا میں سیاستدان اکثر علمِ نجوم اور توہمات پر انحصار کرتے ہیں تاکہ عوامی حمایت حاصل کر سکیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ بھارت میں بھی ہے۔ ندیم پراچہ کہتے ہیں کہ مافوق الفطرت قوتوں کا ساتھ ہونے کا چورن صرف خوف کی سیاست کی ایک شکل ہے جس میں عوامی نفسیات کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ تاہم یہ حکمتِ عملی خطرناک بھی ہوتی ہے کیونکہ مخالفین پر ’’کالا جادو‘‘ کرنے کے الزامات ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان نے ہمیشہ بشریٰ بی بی کو ایک مذہبی اور صوفی مزاج خاتون کے طور پر پیش کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کے مخالفین انہیں جادوگرنی بنا کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ مگر ندیم پراچہ کے مطابق ایسے الزامات صرف سیاسی مخالفین کی طرف سے نہیں بلکہ عمران کی اپنی جماعت کے رہنما بھی یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ بشریٰ عمران کی پارٹی کے اندر اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے روحانی طاقتوں کا نام استعمال کیا۔ پراچہ کے مطابق ممکن ہے کہ خان اور بشری کا جوڑا پنجاب کے دیہی علاقوں میں رائج روحانی و صوفیانہ رجحانات سے فائدہ اٹھا کر سیاسی حمایت حاصل کرنا چاہتا ہو۔ اسکے علاوہ بشریٰ بی بی نے خود بھی اپنا مافوق الفطرت شخصیت ہونے کا تاثر بنایا تاکہ سیاسی مخالفین اور پارٹی کے اندر موجود عناصر پر اثر انداز ہو سکیں۔
پی ٹی آئی پنجاب عمران کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنانے سے انکاری کیوں؟
ماضی میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کئی مواقع پر ایسے انداز میں گفتگو کرتے رہے ہیں جیسے وہ کسی روحانی رہنمائی کے تابع ہوں۔ اس طرزِ عمل نے ان کے گرد گھومنے والی کالے جادو اور ٹونے کی کہانیوں کو تقویت دی۔ تاہم ندیم پراچہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ سب روحانی طاقتیں واقعی اتنی مؤثر تھیں تو پھر وہ عمران خان کو جیل سے باہر لانے اور دوبارہ اقتدار دلانے میں کیوں مددگار ثابت نہ ہو سکیں؟ چنانچہ کوئی بعید نہیں کہ جیل میں بند عمران خان آجکل یہی سوچتے ہوں۔
