چوہدریوں نے اسلام آباد چھوڑ کر لاہور میں ڈیرے کیوں لگا لیے؟

ایک ایسے وقت میں کہ جب ملک بھر کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اسلام آباد میں ڈیرے لگا کر سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں، قاف لیگ کی قیادت نے حیران کن طور پر لاہور میں ڈیرے لگا لیے ہیں جسے پرویز الہی کی جانب سے وزارت اعلیٰ حاصل کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے کا حربہ قرار دیا جا رہا ہے۔ قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار چونکہ قاف لیگ کے فیصلے پر ہے اس لئے اب جسے ان کی حمایت چاہیے وہ لاہور میں ان کے گھر پر آ کر بات کرے۔ اسی لیے وہ تمام تر سیاسی سرگرمیاں شہر اقتدار میں ہونے کے باوجود لاہور آ کر بیٹھ گئے ہیں۔ چوہدری برادران کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جو لوگ اسلام آباد میں بیٹھ کر یہاں وہاں زور لگا رہے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کی کنجی ظہور الہی پیلس لاہور میں موجود ہے لہذا انہیں اس کنجی کے حصول کے لیے لاہور پہنچنا چاہیے۔

قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں قیام کے دوران حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے ہی چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ پنجاب کی وزارت اعلی کے حوالے سے گفتگو ہوئی لیکن انہیں کسی بھی سائٹ نے کوئی حتمی یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔ بظاہر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے یہی کہا جا رہا ہے کہ مرکز میں تبدیلی کے بعد پنجاب میں بھی فوری تبدیلی لائی جائے گی لیکن وہ ایسی یقین دہانیوں پر بغیر کسی معاہدے کے اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ چوہدری پرویز الہی کو حکومت کی جانب سے وزارت اعلی دیے جانے کا 25 فیصد جبکہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعلی بنائے جانے کا 75 فیصد یقین ہے لہذا غالب امکان یہی ہے کہ وہ بلآخر اپوزیشن کے ساتھ ملائیں گے۔ تاہم ان کا اسلام آباد چھوڑ کر لاہور آ بیٹھنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اب جس کو بھی ان کی حمایت چاہیے، وہ چل کر لاہور میں ان کے گھر کے دروازے تک آئے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کو تو بار بار چوہدری برادران کے گھر جانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا لیکن وزیراعظم عمران خان کے لیے بار بار ان کے در پر جانا کافی مشکل ہوگا، اور شاید اسی لئے خان صاحب کا امتحان لینے کے لیے چوہدری برادران لاہور جا بیٹھے ہیں۔ خیال رہے کہ عمران اور انکی حکومت کے بارے میں تنقیدی انٹرویوز کے بعد پرویز الٰہی سمیت قاف لیگی قیادت کی اچانک لاہور روانگی نے ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کو پریشان کر دیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ ق لیگی قیادت کی اسلام آباد چھوڑنے کے بعد اپوزیشن سربراہان ایک اور اہم اتحادی ایم کیو ایم کے پاس پہنچے جسکی جانب سے اب تک حکومت کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ تو نہیں کیا گیا لیکن ساتھ دینے کا بھی کوئی واضح اعلان نہیں ہوا۔ یاد رہے کے پہلے ایم کیو ایم اور قاف لیگ کے ساتھ اپوزیشن رہنماؤں کی مشترکہ ملاقاتیں ہو رہی تھیں۔ سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا ہے کہ فیڈرل لاجز اسلام آباد میں خالد مقبول صدیقی کے فلیٹ پر ہونے والی اپوزیشن راہنماؤں سے ملاقات میں معاملات کافی آگے تک چلے گئے ہیں اور معاہدے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم نے تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دینے کے لئے پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک تحریری معاہدے کی شرط رکھی ہے جس پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

حکومتی اجلاس میں ق لیگ کا وزارت اعلیٰ کا مطالبہ نامناسب قرار

جب ایم کیو ایم کے سینیٹر فیصل سبزواری سے پوچھا گیا کہ کیا مسلم لیگ ق، بلوچستان عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم کوئی مشترکہ فیصلہ کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ق کسی منصب کی خواہشمند ہے جبکہ ایم کیو ایم کسی منصب یا وزارت میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ تاہم ہمارا مسلم لیگ ق سے رابطہ ضرور ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ بھی ہے لہذا میرے خیال میں تینوں حکومتی اتحادی جماعتیں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود سے کریں گی۔

اس دوران یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ اپوزیشن کی قیادت نے اب عمران خان کی تینوں بڑی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، قاف لیگ اور باپ پارٹی کے ساتھ مشترکہ کی بجائے علیحدہ علیحدہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں منانے میں آسانی ہو سکے۔ اسی لئے اب ایم کیو ایم کے بعد اپوزیشن بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت سے بھی مسلسل ملاقاتیں کر رہی ہے جن کے نتیجے میں باپ کے بلوچستان چیپٹر نے خیبر پختونخوا میں حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ باپ پارٹی اس وقت دو دھڑوں میں تقسیم ہے جن میں سے جام کمال دھڑے کے پاس قومی اسمبلی میں تین ووٹ ہیں جبکہ صادق سنجرانی دھڑے کے پاس دو ووٹ ہیں۔ لہذا کوشش کی جارہی ہے کہ کوئی درمیانی راستہ نکال کر دونوں دھڑوں سے تعلق رکھنے والے ایم این ایز کو تحریک عدم اعتماد میں اپنے ساتھ ملا لیا جائے۔

Why did Chaudhrys leave Islamabad and camp in Lahore? Urdu

Back to top button