شفافیت کا دعویٰ کرنےوالوں کے دور میں کرپشن کیوں بڑھ گئی؟

تمام تر حکومتی دعوؤں، اعلانات اور اقدامات کے برعکس شہباز شریف کے دور اقتدار کے پہلے سال کے دوران پاکستان میں بدعنوانی اور کرپشن میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ نے حکومتی دعووں کی قلعی کھول دی۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن انڈیکس رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپشن انڈیکس میں مزید تنزلی کے بعد 180 ممالک کی فہرست میں 135 ویں نمبر پر آ گیا ہے جس کے بعد پاکستان دنیا کا 46 واں کرپٹ ترین ملک بن گیا ہے۔ماہرین کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت کرپشن سکو کی کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرپشن کے حوالے سے پاکستان کی ناقص کارکردگی کی بڑی وجہ ملک کا نظام انصاف، سماجی رویے اور ملک کی مشکل معاشی صورتِ حال ہے جس میں کرپشن کو ایک معمول سمجھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تنزلی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے کوئی کوشش بھی نہیں کی جا رہی۔

خیال رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، کرپشن پرسیپشن انڈیکس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے آٹھ مختلف ذرائع استعمال کیے گئے ہیں۔کرپشن پرسیپشن انڈیکس  یعنی سی پی آئی 2024 میں پاکستان کی رینکنگ 2 درجے تنزلی سے 180 ممالک میں سے 135 پر آگئی ہے۔جو 2023 میں 133 ویں درجے پر رہی تھی۔ پاکستان کی درجہ بندی 27 ہو گئی جبکہ 2023ء میں پاکستان کی درجہ بندی 29 تھی۔

واضح رہے کہ سکور کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک کے پبلک سیکٹر میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں عوامی تاثر کیا ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی ملک کا اسکور صفر ہے تو وہ انتہائی کرپٹ ملک ہے اور اگر 100 ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں بدعنوانی بالکل نہیں ہے۔ سی پی آئی ممالک میں پبلک سیکٹر میں بدعنوانی کی سطح کے لحاظ سے صفر یعنی انتہائی بدعنوان سے 100 یعنی انتہائی شفاف کے پیمانے پر درجہ بندی کرتا ہے۔2023ء میں پاکستان کا کرپشن انڈیکس میں مجموعی سکور 233 تھا جو 2024ء میں 216 ہو گیا ہے جبکہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے عہدیداران کے خلاف قانونی کارروائی یا سزا کا انڈیکس سکور بدستور 21 رہا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پبلک وسائل کے غلط استعمال اور اس سے متعلقہ انڈیکس کا سکور 20 سے کم ہو کر 18 ہو گیا، کاروبار کے لئے رشوت دینا یا کرپٹ پریکٹس کا سامنا کرنے کا سکور 35 سے کم ہو کر 32 ہو گیا اور سیاسی نظام میں کرپشن کا انڈیکس 32 سے بڑھ کر 33 ہو گیا۔حکومتی اداروں اور سرکاری ملازمین کی جواب دہی، بااثر گروہوں کے ریاست پر قبضے کا انڈیکس 35 سے بڑھ کر 39 ہو گیا، کرپشن کی وجہ سے عوامی فنڈز افراد یا کمپنیوں کو دینے کا انڈیکس 45 سے کم ہو کر 33 پر آ گیا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایگزیکٹو، عدلیہ، ملٹری اور قانون سازوں کا ذاتی مقاصد کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال کا سکور 25 سے بڑھ کر 26 ہو گیا، پبلک سیکٹر، ایگزیکٹو، عدلیہ اور لیجسلیٹو کرپشن کا سکور 20 سے کم ہو کر 14 ہو گیا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک دستاویز کے مطابق جس میں پاکستان کی سی پی آئی کی درجہ بندی اور 1996 سے 2024 تک کے سکورز کو درج کیا گیا، اس کے مطابق گزشتہ 10 سالوں میں ملک کا سکور 27 سے 33 پوائنٹس کے درمیان رہا،۔2012 میں 10 سے 100 کے سکورنگ سکیل پر تبدیل ہونے کے بعد سے پاکستان کا اسکور 2018 میں 27 سے بڑھ کر 33 ہو گیا لیکن مسلسل گھٹتے ہوئے گزشتہ برس 27 پر آگیا۔ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ میں ڈنمارک کو سب سے کم بدعنوان ملک قرار دیا گیا ہے جب کہ جنوبی سوڈان، صومالیہ اور وینزویلا کو سب سے زیادہ کرپٹ ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔ایران، عراق اور روس میں بھی کرپشن میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ روس 154 ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے جب کہ افغانستان 165 ویں اور بنگلہ دیش 151 ویں نمبر پر موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے گزشتہ سال کافی خراب رہا ہے اور 2015 کے بعد پہلی بار پاکستان کا اسکور 30 سے بھی کم ہو گیا ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں کرپشن بڑھنے کی اصل وجہ کیا ہے؟

پاکستان میں جمہوری اقدار پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری ادارے ‘پلڈاٹ’ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ گزشتہ سال بنیادی طور پر پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی شکایات بڑھی ہیں۔ سیاسی دباؤ کی وجہ سے حکومت کی طرف سے کسی کرپٹ آدمی پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی مخالف پر تو ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے لیکن باقی اپنے لوگوں پر ہاتھ ہلکا رکھا جاتا ہے اور ان کی کرپشن کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ احمد بلال محبوب کے مطابق ہمارے ہاں کچھ عرصہ قبل موسمیاتی تبدیلی کے نام پر متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے پیسہ پاکستان آیا لیکن ان میں بھی خردبرد کی گئی۔ یہ سب بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔احمد بلال محبوب کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا نظامِ انصاف کمزور ہونے کی وجہ سے بھی بہت سے خلا ہیں اور اگر کوئی اچھا وکیل کر لے تو وہ کرپشن یا پھر قتل کا ہی کیس کیوں نہ ہو۔ اس سے بچ سکتا ہے۔اس نظامِ انصاف میں صرف عدالتیں نہیں بلکہ وہ تمام ادارے بھی شامل ہیں جو کرپشن کی روک تھام میں شامل ہیں۔ان میں قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تفتیشی ادارے (ایف آئی اے) پولیس اور دیگر ادارے شامل ہیں لیکن یہ تمام ادارے بھی سیاسی وجوہات کی بنا پر کمپرومائز ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے کرپشن میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہم بعض دیگر ماہرین کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ ریٹنگ صرف اس بنیاد پر نہیں ہوتی کہ اس ملک میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے بلکہ دوسرے ممالک کی ریٹنگ میں بہتری کی وجہ سے بھی آپ کی ریٹنگ کم ہوسکتی ہے۔ اگر کوئی ملک دو رینک اوپر جائے گا تو آپ کا رینک کم ہو جائے گا۔ پاکستان سمیت وہ ممالک جو 130 سے 140 کی رینکنگ کے درمیان ہے ان کے تقریباً ایک جیسے حالات ہیں اور ان کی رینکنگ میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔اُن کے بقول موجودہ حالات میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر حالات بہت زیادہ اچھے نہیں ہوئے تو بہت زیادہ برے بھی نہیں ہوئے ہیں۔

دوسری جانب حکومت کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ ملک میں کرپشن کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔حکام کے مطابق قومی احتساب بیورو یعنی نیب اور اینٹی کرپشن کے محکمے ملک میں کرپشن روکنے کے لیے سرگرم ہے اور اس حوالے سے متعدد افرادکے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔

Back to top button