پاکستان میں اچانک سائبر حملے کیوں بڑھ گئے؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی اور ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کے بعد پاکستان پر سائبر حملوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے بیرونِ ملک سے پاکستانی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی منظم کوششیں جاری تھیں، تاہم یہ حالات اُس وقت سنگین رُخ اختیار کر گئے جب یکم مارچ کو جیو، اے آر وائے سمیت ملک کے مختلف الیکٹرانک میڈیا چینلز اور ویب سائٹس کو ہیک کر کے ان پر اشتعال انگیز پیغامات نشر کر دئیے گئے، جس سے نہ صرف نشریاتی نظام متاثر ہوا بلکہ سائبر سکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات مزید بڑھ گئے۔
ان حملوں کے دوران بعض ٹی وی چینلز کی نشریات عارضی طور پر متاثر ہوئیں اور براڈکاسٹ فیڈ میں غیرمجاز مداخلت ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح معروف آن لائن سٹریمنگ پلیٹ فارم ’تماشا‘ کو بھی کچھ دیر کے لیے ہیک کیا گیا۔ ان سائبر حملوں کے ردعمل میں پاکستان نے بھی انڈیا کے کچھ ٹی وی چینلز اور اسرائیل کی متعدد ویب سائٹس کو ہیک کیا ہے۔ دوسری جانب قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ان واقعات کا باقاعدہ نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور متاثرہ سسٹمز کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ یہ حملے کس نوعیت کے تھے اور انہیں کیسے انجام دیا گیا۔تاہم حکومتی ذمہ داران کے مطابق’یہ حملے ابتدائی طور پر بیرونی ذرائع سے کیے گئے محسوس ہوتے ہیں، تاہم حتمی رائے تکنیکی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔‘
این سی ای آر ٹی کے مطابق ہیکرز صرف چند ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں جبکہ بیشتر حملوں کو بروقت ناکام بنا دیا گیا، تاہم بعض کیسز میں حملہ آور عارضی طور پر نشریاتی یا آن لائن سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔‘ایسے میں سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا عام پاکستانی سوشل میڈیا صارفین بھی ان سائبر حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں، اور ایسے سائبر اٹیکس سے بچنے کیلئے عوام کو کیا کرنا چاہیے؟ ماہرین کے مطابق عمومی طور پر ایسے حالات میں سرکاری ادارے، میڈیا ہاؤسز، بینکنگ نظام اور اہم قومی تنصیبات ہی ہیکرز کا بنیادی ہدف ہوتی ہیں، چنانچہ یہ ضروری ہے کہ نہ صرف ریاستی سطح پر سائبر دفاعی نظام کو مضبوط کیا جائے بلکہ نجی شعبے اور عام صارفین کو بھی سائبر سکیورٹی کے اصولوں اور پروٹوکولز پر سختی سے عمل کرنا چاہیے تاکہ ایسے حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق دو ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں سائبر محاذ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔’ہائبرڈ وار کے تناظر میں موجودہ صورتِ حال میں سپلائی چین حملوں کا خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے،تاہم ایسے حملوں میں زیادہ تر سرکاری اداروں یا ان سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’جعل ساز کسی بڑے پلیٹ فارم یا سرکاری اداروں سے منسلک افراد کے اکاؤنٹس ہیک کر کے وہاں سے ایسا پیغام نشر کر سکتے ہیں جو ان کے مفاد میں ہو۔‘تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’ان حالات سے بچنے کے لیے صرف یہ اعلان کر دینا کہ کوئی مخصوص ایپلیکیشن استعمال نہ کی جائے، مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے،اس کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت کو چاہیے کہ وہ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی متبادل پلیٹ فارمز تیار رکھے، مکمل ٹیسٹنگ کرے اور ہنگامی حالات میں واضح لائحہ عمل مرتب کرے تاکہ ایسے مواقع پر فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔‘
سائبر ماہرین کے مطابق ایسے حملوں سے بچنے کیلئے سوشل میڈیا صارفین کو اپنے اکاؤنٹس میں ٹو سٹیپ ویریفکیشن لازمی طور پر فعال رکھنی چاہیے تاکہ ان کا اکاؤنٹ ہیک کر کے کوئی ان کی فالوونگ کا غلط استعمال نہ کر سکے۔‘ وی پی این کے استعمال سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ہاں عام طور پر وی پی این کو منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔‘ان کے مطابق سائبر سیکیورٹی ماہرین خود وی پی این کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وی پی این کے ذریعے جب آپ کوئی ڈیٹا ان پٹ کرتے ہیں یا کسی ویب سائٹ کا وزٹ کرتے ہیں، تو یہ آپ کی پرائیویسی کو انکرپٹ کر کے محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔تاہم انہوں نے یہ نشان دہی بھی کی کہ مستند اور قابلِ اعتماد وی پی این استعمال کرنا چاہیے، اور مفت اور غیر معروف وی پی این کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جعلسازوں اور فراڈیوں سے محفوظ رہنے کیلئے سوشل میڈیا صارفین کو کوئی بھی معلومات حاصل کرنے یا آن لائن خریداری کے لیے صرف آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز اور معتبر ویب سائٹس سے ہی رجوع کرنا چاہیے۔‘
