دادو کی ام رباب قاتل سرداروں کو انجام تک پہنچانے میں ناکام کیوں رہی؟

دادو کی فضا میں آج بھی سرداروں کی وہ گولیاں گونجتی محسوس ہوتی ہیں جنہوں نے ایک ہی خاندان کے تین چراغ بجھا دیے تھے تاہم آٹھ سال تک عدالتوں کے دروازوں پر دستک دینے والی اُم رباب کی جدوجہد، ننگے پاؤں احتجاج اور انصاف کی امید سے جڑی ہر صدا اُس لمحے بالکل خاموش ہو گئی جب عدالت نے ایف آئی آر میں تاخیر، گواہوں کے بیانات میں تضادات اور شواہد کی کمزوری کی بنیاد پر تہرے قتل کیس میں نامزد پیپلز پارٹی کے دو ایم پی ایز سمیت تمام ملزمان کو بری کر دیا اور وہ ڈھول کی تھاپ پر نعرے لگاتے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ تہرے قتل کیس بارے انوکھے عدالتی فیصلے پر جہاں سیاسی جماعتوں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آ رہا ہے وہیں دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی طوفان برپا ہے اور ہر طرف یہی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا انصاف واقعی اندھا ہوتا ہے، یا کبھی کبھی طاقتور حلقوں کے سامنے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے؟
واضح رہے کہ عدالتی فیصلے کے تحت رہائی پانے والوں میں پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سردار احمد خان چانڈیو،ان کے بھائی ایم پی اے برہان خان چانڈیو بھی شامل ہیں جن پر قتل کی سازش کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ مرتضیٰ چانڈیو، علی گوہر چانڈیو، سکندر چانڈیو، ذوالفقار چانڈیو، ستار چانڈیو اور سابق ایس ایچ او عبدالکریم چانڈیو پر براہِ راست فائرنگ کا الزام تھا۔ تاہم عدالت نے تمام ملزمان کو بری کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ تہرے قتل کا یہ مقدمہ 17 جنوری 2018 کو ضلع دادو کے علاقے میہڑ میں پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے سے شروع ہوا، جہاں اُم رباب کے والد مختیار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل حسین چانڈیو کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ اگلے روز درج ہونے والی ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملہ سرداری نظام کی مخالفت، پرانی دشمنی اور مقامی طاقت کے تنازعات کا نتیجہ تھا، جس میں بااثر شخصیات کو بھی نامزد کیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان نے دن دیہاڑے آ کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دو افراد موقع پر جاں بحق جبکہ ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ تاہم تہرے قتل کا یہ مقدمہ ابتدا ہی سے سنگین سوالات کی زد میں رہا۔ ایف آئی آر واقعے کے تقریباً 16 گھنٹے بعد درج کی گئی، جسے عدالت نے مشکوک قرار دیا۔ مزید برآں 392 پیشیوں پر مشتمل طویل عدالتی کارروائی کے دوران چشم دید گواہوں کے بیانات میں نمایاں تضادات سامنے آئے، جبکہ میڈیکل شواہد بھی ان بیانات سے مطابقت نہ رکھ سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ استغاثہ کسی ایک بھی آزاد گواہ کو پیش کرنے میں ناکام رہا، حالانکہ واقعہ ایک گنجان آباد علاقے میں پیش آیا تھا۔ان تمام کمزوریوں اور شواہد کی عدم مطابقت کے پیشِ نظر عدالت نے آٹھ سال بعد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام نامزد ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو “معقول شک سے بالاتر” ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ جج نے عینی شاہدین کے بیانات کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ گواہان ٹرائل کے دوران ایسی نئی تفصیلات اور نام شامل کرتے رہے جو نہ تو ابتدائی بیانات میں موجود تھے اور نہ ہی ایف آئی آر کا حصہ تھے، جس سے ان کی ساکھ مزید کمزور ہو گئی۔ مزید برآں، کال ڈیٹیل ریکارڈز کی باقاعدہ تصدیق نہ ہونا اور بعض ملزمان کی جائے وقوعہ پر موجودگی سے متعلق شکوک و شبہات نے بھی استغاثہ کے مؤقف کو نقصان پہنچایا۔ عدالت کے مطابق ان تمام تضادات، کمزوریوں اور ناقص شواہد کے پیشِ نظر مقدمہ کسی مضبوط قانونی بنیاد پر قائم نہیں رہ سکا، جس کے باعث عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام آٹھ ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔
مبصرین کے مطابق اُم رباب کی جدوجہد اس مقدمے کا سب سے نمایاں اور مؤثر پہلو بن کر سامنے آئی۔ اپنے والد، دادا اور چچا کو انصاف دلانے کے لیے وہ کبھی ننگے پاؤں عدالت پہنچیں، کبھی لالٹین اٹھا کر خاموش احتجاج کیا، اور کبھی اعلیٰ عدلیہ کے سامنے انصاف کی اپیل کرتی دکھائی دیں۔ ان کی یہ علامتی مزاحمت وقت کے ساتھ ایک عوامی آواز میں بدل گئی، جہاں سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے اس طویل قانونی جنگ کے دوران مسلسل ان سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ تاہم جیسے ہی عدالتی فیصلہ سامنے آیا، یہی حلقے شدید برہمی کا اظہار کرتے نظر آئے۔ ناقدین کے مطابق عدالت نے ملزمان کو بری کر کے سندھ میں سرداروں اور وڈیروں کو قتل کرنے کا لائسنس دے دیا ہے،عدالت نے تو تین سال تک روپوش رہنے والے ملزمان کو بھی بری کر دیا ہے۔ تین افراد کے قتل میں کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ ملنا نہ صرف “باعثِ تعجب” ہے بلکہ نظامِ انصاف کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ اگر ایک تہرے قتل جیسے سنگین مقدمے میں بھی تفتیش، شہادت اور استغاثہ اس حد تک کمزور ثابت ہوں کہ تمام ملزمان بری ہو جائیں، تو سوال صرف ملزمان کی رہائی کا نہیں رہتا بلکہ ایسے فیصلوں سے پورا نظام انصاف بے نقاب ہو جاتا ہے۔ ناقدین کے بقول کیا یہ محض تفتیشی ناکامی ہے، یا پھر یہ فیصلہ ایک ایسے نظام کو بے نقاب کرتا ہے جہاں طاقت، سیاست اور اثر و رسوخ ہی انصاف کے ترازو کا رخ متعین کرتے ہیں؟
اگلے ہفتے پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان
سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی اس فیصلے پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بعض رہنماؤں نے اسے “طاقتوروں کی جیت” اور “انصاف کی ہار” قرار دیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بحث ایک طوفان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر انصاف کا پیمانہ یہی ہے تو عام شہری کے لیے انصاف کی امید کہاں باقی رہ جاتی ہے؟یہ مقدمہ اب اپنے قانونی انجام کو پہنچ چکا ہے، مگر اس کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اُم رباب نے اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے یہ واضح ہے کہ یہ جدوجہد ابھی جاری ہے۔
