ڈکی بھائی نے اپنی رہائی کا کریڈٹ عاصم منیر کو کیوں دیا؟

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کاوشوں سے آن لائن جوئے کی تشہیر کے الزام میں گرفتار ڈکی بھائی کی رہائی کی خبروں نے عوامی حلقوں میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ سوشل میڈیا پر جہاں ایک طرف ایف آئی اے کے کرپٹ افسران کے احتساب کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے وہیں فیلڈ مارشل کی ڈکی بھائی کی رہائی کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں کو خوب سراہا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ این سی سی آئی اے کی 100 روزہ حراست سے رہائی کے بعد پہلی بار خاموشی توڑتے ہوئے معروف یوٹیوبر سعد الرحمن المعروف ڈکی بھائی نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے افسران پر تشدد، ہراسانی، بلیک میلنگ اور بھاری رقوم کی طلبی کے الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر اور ڈی جی ایم آئی کی وجہ سے ان کی رہائی عمل میں آئی عسکری قیادت کرپٹ افسران کی چنگل سے نکلنے میں مدد نہ کرتی تو وہ ابھی تک کال کوٹھڑی میں قید ہوتے۔ رہائی دلوانے پر فیلڈ مارشل اور ڈی جی ایم آئی کا مشکور ہوں۔

یوٹیوبر نے تفتیشی عملے پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کی حراست کے دوران انہیں شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دوران حراست پیش آنے والے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈکی بھائی آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’این سی سی آئی کے ڈائریکٹر نے میری بیگم کے اوپر مقدمہ بنانے کی دھمکی دی اور ساتھ میں 60 لاکھ روپے مانگے۔ میری فیملی نے ادھار لے کر 60 لاکھ روپے ڈائریکٹر کو دئیے۔ اس کے بعد ڈائریکٹر نے میرے دوست سے رابطہ کیا اور اسے کہا کہ یہ 60 لاکھ روپے تو ہو گئے لیکن میرے پاس چار پرچے اور ہیں، میں ڈکی پر دوں گا اگر تم مجھے ڈیڑھ کروڑ نہیں دیتے۔‘

ڈکی بھائی کا مزید کہنا تھا کہ ایک دن انھیں ہتھکڑی لگا کر ایڈیشنل ڈائریکٹر کے روم میں لے جایا جاتا ہے، وہاں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ تم کس ایپلی کیشن کے کنٹری ہیڈ ہو؟ میں نے کہا میں کسی ایپ کا کنٹری ہیڈ نہیں ہوں۔‘’وہ اپنی کرسی سے اٹھتے ہیں، مجھے گالی دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کدھر سے آتا ہے پیسہ تیرے پاس، میں نے کہا میں یوٹیوبر ہوں، اس پر وہ کہتے ہیں تم وطن عزیز کے بچوں کو خراب کر رہے ہو، اس کے بعد اس نے مسلسل مجھے ماں بہن کی گالیاں دیں اور بہت زور کا میرے منہ پر تھپڑ لگایا۔ اس کے بعد وہ اس وقت تک مجھے تھپڑ مارتے رہے جب تک ان کا دل بھر نہیں گیا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں ویڈیو کال پر ایک بچے سے بات کرنے کے لیے مجبور کیا گیا اور پھر اس بچے سے انہیں گالیاں بھی نکلوائی گئیں۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انویسٹی گیشن آفیسر اور اس کے ’فرنٹ مین‘ نے بار بار رشوت طلب کی، کبھی 7 تا 8 کروڑ، کبھی 60 لاکھ، اور کبھی ڈیڑھ کروڑ روپے کا مطالبہ کیاگیا۔ ڈکی بھائی کے مطابق اہلکاروں نے ان کی اہلیہ کو بھی کیس میں نامزد کرنے کی دھمکیاں دیں اور کہا کہ ’یہاں جج بھی ہم ہیں، وکیل بھی ہم ہیں۔‘ڈکی بھائی نے الزام لگایا کہ اہلکاروں نے ان کے، اہلیہ کے، والدین کے، بھائی کے اور حتیٰ کہ 80 سالہ دادا کے بینک اکاؤنٹس تک بلاک کر دیے، جس کے باعث خاندان مالی بحران کا شکار ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان پر غیر معمولی حد تک طویل ریمانڈ لیا گیا، جس کا مقصد صرف پیسے نکلوانا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہلکاروں نے ان کی کرپٹو ٹریڈز بند کر کے نقصان پہنچایا، پھر زبردستی 3,26,000 USD اپنے والٹ میں بھجوائے اور بعد میں اسی رقم کو ’ریکوری‘ ظاہر کر کے عدالت میں پیش کیا۔ ان کے مطابق یہ رقم برآمد کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ خود رکھنے کی نیت سے لی گئی تھی، مگر جب بات محکمے میں پھیل گئی تو ریکوری دکھانا مجبوری بن گئی۔ڈکی بھائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے عدالت میں مکمل تعاون کیا مگر مسلسل تشدد اور ذہنی دباؤ کے باوجود رشوت دینے سے انکار کیا۔ تاہم، اہلکاروں کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر ان کی فیملی کو ساٹھ لاکھ روپے ادھار لے کر رشوت کے طور پر ادا کرنا پڑے۔

یوٹیوبر نے بتایا کہ رشوت لینے والے اہلکار مطلوبہ رقم نہ دینے پر مزید پرچے دینے کی دھمکی دیتے رہے۔ آخر میں ڈکی بھائی نے کہا کہ ان کا کیس قانون کے مطابق چلا لیکن وہ قوم سے معافی چاہتے ہیں اگر ان کے کسی بھی کانٹینٹ نے کبھی کسی کو نقصان پہنچایا ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت انہیں انصاف دے گی اور وہ عدالتی فیصلے کو تسلیم کریں گے۔آخر میں انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ڈی جی ایم آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’جنہوں نے اتنی پروفیشنلزم دکھائی اور انھیں کرپٹ مافیا کے چنگل سے نکلنے میں مدد کی۔‘

ڈکی بھائی نے اپنی اس ویڈیو میں گرفتاری سے لے کر رہائی تک کی کہانی بیان کی ہے۔ ڈکی بھائی کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں، سوشل میڈیا صارفین ڈکی بھائی کے ساتھ افسوس اور ہمدردی کا اظہار کر تے ہوئے مبینہ تشدد اور کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے خالد حسین تاج نے لکھا کہ سرفراز چوہدری سمیت این سی سی آئی کے کرپٹ افسران کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے انہیں ایسی سخت سزا ملنی چاہیے کہ ان کو دیکھ کر دیگر سرکاری افسران بھی عبرت پکڑیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے مطالبہ کیا کہ یہ ادارہ آپ کے ماتحت ہے امید ہے کہ آپ ڈکی بھائی کو انصاف دلائیں گے۔

معروف اینکر پرسن شہزاد اقبال کا کہنا تھا کہ کیا این سی سی آئی اے کے سابق افسر سرفراز چودھری جیسےلوگوں کا یہ کام ہےکہ وہ یوٹیوبرز کی مورل پولیسنگ کریں، اخلاقیات کا درس دیں اور خود رشوت لیں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کریں؟

سلمان حیدر کا کہنا تھا کہ آج واقعی اندازہ ہو رہا ہے کہ ڈکی بھائی کو کتنی اذیت دی گئی ہو گی کہ یہ اتنا مجبور ہو گیا کہ اس کو ویڈیو بنانا پڑ گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کب تک یہ افسر شاہی چلتی رہے گی اور اس طرح کا سلوک ہوتا رہے گا؟

ایک صارف نے سوال کیا کہ ذرا سوچیں ابھی تو ڈکی کے پاس پیسہ تھا، شہرت تھی تب اس کے ساتھ ایف آئی اے کے افسروں نے برا حال کیا، عام بندے کے ساتھ یہ لوگ کیا کرتے ہوں گے۔

NCCIA حراست میں تشدد کیا گیا ، 9 کروڑ اکاؤنٹ سے نکالے، ڈکی بھائی کے الزامات

واضح رہے کہ ڈکی بھائی کو 17 اگست 2025 کو لاہور ایئرپورٹ پر جوا ایپس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی درخواست ضمانت منظور کی اور انھیں 100 روزہ حراست کے بعد 26 نومبر کو رہا کیا گیا ہے۔

Back to top button