سینیٹ الیکشن سے پہلے گنڈا پور نے اپوزیشن اتحاد کے گھٹنے کیوں پکڑ لیے؟

سینیٹ انتخابات کے قریب آتے ہی خیبر پختونخوا میں سیاسی ہلچل اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، اقتدار اور طاقت کے کھیل نے کل کے سیاسی حریفوں کا ایک دوسرے کا حلیف بنا دیا ہے۔ تحریک انصاف کی خبیرپختونخوا حکومت اور اپوزیشن اتحادکے مابین باہمی رضامندی سے سینیٹ کی سیٹوں کی تقسیم بارے معاہدہ طے پا گیا ہے۔ سینیٹ کی سیٹوں کے حوالے سے اپوزیشن سے ہاتھ ملانے پر گنڈاپور سرکار شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کے مطابق بلامقابلہ انتخابات کے خفیہ معاہدوں، سرمایہ داروں کو ٹکٹ دینے، اور اندرونی احتجاج کو دبانے جیسے روایتی سیاسی ہتھکنڈوں کی وجہ سے پی ٹی آئی انتشار کا شکار دکھائی دیتی ہے ایسے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طرف سے کارکنوں کو اختلاف رائے سے روکنے کی ہدایت نے کارکنان کے غم و غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخابات 21 جولائی کو ہوں گے جن میں 7جنرل جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو دو نشستوں پر پولنگ ہو گی۔ تاہم اب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن نے بلامقابلہ سینیٹ انتخابات پر اتفاق کرلیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بلا مقابلہ سینیٹ انتخاب کے لیے رابطے اور مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پشاور میں حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان رات دیر تک جاری رہنے والی میٹنگ میں 6/5 فارمولے پر کافی حد تک اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ فارمولے کے تحت تحریک انصاف کو 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستیں ملیں گی۔ تاہم صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ ان معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو پی ٹی آئی کے باقی امیدواروں کو دستبردار کرانے کا کہا گیا ہے ۔پی ٹی آئی امیدواروں کو دستبردار کرانا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ذمہ داری ہوگی جس پر مشاورت جاری ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کا ماننا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ روکنے کا واحد راستہ یہی ہے، اس سلسلے میں آج رات بلا مقابلہ انتخاب کے حوالے سے حتمی ملاقات متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت بھی چاہتی ہے کہ ان کے امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوں تاکہ انتخابی عمل میں ممکنہ سیاسی نقصان سے بچا جا سکے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہو چکی ہیں اور اپنے امیدواروں کے بلا مقابلہ انتخاب کے لیے کوشاں ہیں۔ذرائع کے مطابق اگر بلا مقابلہ انتخابات نہ ہوئے تو ووٹنگ کی صورت میں صورتحال حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے غیر یقینی ہو سکتی ہے، اسی لیے دونوں اپنے امیدواروں کی 100 فیصد کامیابی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تاہم مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے لیے سیاسی جوڑ توڑ اپنے آخری مراحل میں ہے، مگر اس بار کہانی صرف حکومت اور اپوزیشن کے معاہدے تک محدود نہیں، بلکہ خود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر زبردست دھڑے بندی اور مایوسی کی لہر دوڑ رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے سینیٹ کی جنرل نشستوں کے لیے مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا خان آفریدی اور مولانا نور الحق قادری جیسے نمایاں چہروں کو میدان میں اتاراگیا ہے، جبکہ ٹیکنوکریٹ نشست پر اعظم سواتی اور خواتین نشست پر روبینہ ناز کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ تاہم، اس فیصلے نے دیرینہ اور وفادار کارکنوں کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ عرفان سلیم، عائشہ بانو، اور خرم ذیشان جیسے کئی قابل کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا جس پر پارٹی میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔پشاور پریس کلب کے باہر مظاہرے اور سڑکوں کی بندش اس غم و غصے کا عملی اظہار تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پارٹی نے سرمایہ داروں اور بااثر افراد کو ترجیح دے کر اپنے ہی اصولوں سے انحراف کیا ہے۔
خیبرپختونخوا : اسمبلی کا اجلاس 20 جولائی کو طلب، مخصوص نشستوں پر حلف برداری متوقع
دوسری طرف پارٹی کے بانی عمران خان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے کارکنوں کو سختی سے ہدایت دی کہ کوئی بھی پارٹی کے اندرونی اختلافات کو عوامی سطح پر نہ لائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں پارٹی کو یکجہتی کی ضرورت ہے، ذاتی رنجشوں کی نہیں۔یہ ہدایت اس وقت سامنے آئی ہے جب پارٹی کے اندر شدید اضطراب موجود ہے۔ ناقدین کے مطابق عمران خان کی یہ خاموشی کی تلقین درحقیقت حقیقی جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے تاکہ پارٹی قیادت بلا روک ٹوک فیصلے کر سکے۔
خیال رہے کہ سینیٹ انتخابات 21 جولائی کو ہوں گے جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس کا 20 جولائی کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مخصوص نشستوں پر نومنتخب ارکان سے حلف لیا جا سکے۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی فہرستیں اور ضوابط جاری ہو چکے ہیں۔ تاہم، یہ تمام ضابطے اور تیاریاں اس وقت بے معنی لگتی ہیں جب خود جماعتیں بلامقابلہ انتخاب کے نام پر جمہوریت کی روح کا سودا کر رہی ہوں۔نقادین کے مطابق پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائی، کارکنوں کی ناراضی، عمران خان کی "چپ” کی پالیسی اور بلامقابلہ انتخابات کا کھیل، سب مل کر اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ نئی سیاست کا نعرہ ایک بار پھر پرانی سیاست کے سائے میں دفن ہو رہا ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو وہ جماعت جس نے تبدیلی کا خواب دکھایا تھا، خود ایک ناپسندیدہ تبدیلی کی علامت بن جائے گی۔ مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات نے نہ صرف پاکستان تحریک انصاف کے اندر چھپے اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے، بلکہ حکومتی و اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ہونے والی "مفاہمتی ڈیل” نے پی ٹی آئی کی اصول پسندی کی بھی قلعی کھول دی ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کی حالیہ روش سے پتا چلتا ہے کہ تبدیلی کا وعدہ کرنے والی جماعتیں بھی وقت آنے پر پرانی سیاسی چالوں کا سہارا لینے سے نہیں چوکتیں۔
