5 اگست کے احتجاج میں گنڈاپور نے بھگوڑا پن کیوں دکھایا؟

5 اگست کو عمران خان کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال پر عمل کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے پشاور سے ایک احتجاجی ریلی تو نکال لی لیکن اس کے اختتام پر موصوف حسب معمول مظاہرین سے خطاب کرنے کی بجائے چپکے سے غائب ہو گئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے غائب ہو گئے۔

گنڈاپور حقیقتا وہ ’وزیر اعلیٰ آن ڈیوٹی‘ ہیں جو صرف گاڑی سے ہاتھ ہلانے آتے ہیں اور پھر کارکنوں کو دھوپ، لاٹھی، اور مایوسی کے حوالے کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ لاہور ہو یا اسلام آباد، پشاور ہو یا صوابی، ہر بار علی امین گنڈاپور ریلی کا شور مچاتے ہیں، فوٹو بنواتے ہیں، اور پھر موقع پر پہنچنے سے پہلے یا عین وقت پر بھاگ جاتے ہیں۔ تاہم بھگوڑے وزیر اعلیٰ ان حالات کا الزام بھی ورکرز پر دہراتے نظرآ تے ہیں کبھی کہتے ہیں "ورکر کم تھے”، کبھی "ٹریفک زیادہ تھی”، اور کبھی کہتے ہیں "خان صاحب نے ابھی حکم نہیں دیا”۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ علی امین گنڈ پور قیادت کی کرسی پر براجمان تو ہیں لیکن ان میں نہ وژن ہے اور نہ ہی حوصلہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی قیادت کر سکیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے پانچ اگست کو ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جن میں مرکزی قائدین اور ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی ریلیاں نکالی گئیں جبکہ مرکزی ریلی وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پشاور میں نکالی گئی۔

شیڈول کے مطابق وزیراعلیٰ کا قافلہ رات 10 بجے قلعہ بالا حصار کے سامنے پہنچا۔پی ٹی آئی پشاور کے کارکنوں کی بڑی تعداد قلعہ بالاحصار پر وزیراعلیٰ کی آمد کی منتظر تھی مگر وہ بالاحصار پہنچنے سے قبل ہی کنٹینر سے اتر گئے اور اپنی گاڑیوں کے قافلے میں سی ایم ہاؤس جانے کے لیے روانہ ہو گئے۔

وزیراعلیٰ کی واپسی کا سن کر کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی اور وزیراعلیٰ کے خلاف نعرے بازی شروع ہو گئی جب کہ کچھ مشتعل کارکن وزیراعلیٰ کی گاڑیوں کے آگے کھڑے ہو گئے جن کو سکیورٹی اہلکاروں نے دھکے دے کر ہٹایا۔

پی ٹی آئی کے ورکرز نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ڈی چوک کی طرح ایک بار پھر کارکنوں کو چھوڑ کر چلے گئے۔‘وزیراعلیٰ نے چھ گھنٹے تک ریلی کی قیادت کی مگر آخر میں 30 سیکنڈ کی تقریر کر کے چلے گئے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’وزیراعلیٰ کے سامنے ورکرز کی کوئی حیثیت نہیں ہے ورنہ وہ ہر بار ریلی چھوڑ کر نہ جاتے، مگر اس بار کارکن بہت نالاں نظر آئے اور انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ آخر اس ریلی کا مقصد کیا تھا۔‘

کچھ پارٹی ورکر شکوہ کناں نظر آئے کہ ’عمران خان کی رہائی کے معاملے پر پارٹی کی قیادت میں اتفاق نہیں ہے اسی لیے وزیراعلیٰ کے ساتھ کوئی سینئر قیادت نظر نہیں آئی جبکہ ایم این اے اسد قیصر، عاطف خان اور دیگر رہنمائوں نے صوابی کے مقام پر الگ احتجاجی ریلی نکالی-‘

تاہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے قریبی حلقے ان تمام الزامات کی تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ احتجاجی ریلی کے اختتام پر کارکنان سے خطاب وزیر اعلیٰ کے پلان کا حصہ نہیں تھا، ویسے بھی احتجاجی ریلی میں جگہ جگہ رک کر مختصر تقریر کرنا پڑتی ہے۔ یہ کوئی جلسہ نہیں تھا جس سے ان کا خطاب ضروری ہو۔‘ویسے بھی’آئندہ کا لائحہ عمل عمران خان نے دینا ہے۔ وہ پارٹی کے پیٹرن ان چیف ہونے کے ناطے تمام فیصلے کرتے ہیں۔‘گنڈاپور’کارکنوں کے سامنے لائحہ عمل اس وقت ہی پیش کر سکتے ہیں جب بانی چئیرمین کی جانب سے اس حوالے سے انھیں کوئی حکم دیا جائے گا۔‘

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا عوامی احتجاج سے غائب ہو گئے ہوں اس سے قبل وہ لاہور اور ڈی چوک میں ہونے والی احتجاجی مظاہروں سے بھی دم دبا کر بھاگ گئے تھے۔پاکستان تحریک انصاف کے لاہور میں 21 ستمبر کو ہونے والے احتجاج میں علی امین گنڈا پور مقررہ مقام سے پہلے واپس چلے گئے تھے جس پر کارکنوں نے تشویش کا اظہار کیا جبکہ 24 نومبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر ہونے والے احتجاج میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور منظرنامے سے غائب ہو کر کے پی ہائوس چلے گئے تھے۔کارکنوں نے الزام لگایا کہ ورکرز پر تشدد ہوتا رہا اور وزیراعلیٰ واپس چلے گئے تھے، علی امین گنڈاپور دو روز روپوش رہنے کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی میں منظر عام پر آئے تو انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ وہ چھپ کر خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے ہوتے ہوئے خیبرپختونخوا پہنچے ہیں۔یاد رہے کہ 26 نومبر کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر کارکنوں کو اکیلا چھوڑنے کے معاملے پر بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے تھے

Back to top button