عمران کو گوشت سپلائی کرنے والا گنڈاپور بپھرا ہوا سانڈ کیوں بن گیا؟

عوامی حلقوں میں بوتل والی سرکار کی پہچان رکھنے والے جارح مزاج وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور عمرانڈوز میں اپنی شعلہ بیانی اور جذباتی انداز کی وجہ سے مشہور ہیں۔ گنڈا پور کا شمار عمران خان کے بااعتماد ورکرز میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم عمران خان کو شکار کیے ہوئے جانوروں کا گوشت سپلائی کر کے ان کی قربت حاصل کرنے والے گنڈا پور کی اسلام آباد جلسے میں خصوصی شہد کے زیر اثر بپھرے ہوئے سانڈ جیسی حرکات نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جہاں ایک طرف پارٹی رہنما گرفتاریوں کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکے ہیں وہیں دوسری جانب تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ میں مفاہمت کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں۔

خیال رہے کہ علی امین گنڈاپور کا مؤقف پاکستان تحریکِ انصاف کی مخالف سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے متعلق خاصا سخت رہا ہے۔بیشتر افراد کا ماننا تھا کہ انھیں وزیراعلیٰ بنا کر عمران خان کی مفاہمت کی بجائے ٹکراؤ کی پالیسی جلد ان کے گلے پڑنے والی ہے۔جہاں ایک طرف صوبے میں گورنر راج کی خبریں گرم ہیں وہیں گنڈاپور کو گھر بھجوانے کے انتظامات بھی شروع ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ گنڈاپور کی ماضی میں بھی بدزبانیاں سامنے آتی رہی ہیں تاہم اسلام آباد جلسے میں حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور صحافیوں بارے سخت زبان کے استعمال کے بعد انھیں تمام حلقوں کی جانب سے ملعون کیا جا رہا ہے اور کئی مبصرین کا ماننا ہے کہ اسلام آباد جلسے میں گنڈاپور شہد کے زیر اثر تھے اس لئے وہ خطاب میں اپنی زبان پر کنٹرول کھو بیٹھے تھے۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی علی امین گنڈا پور کی شہد کی بوتلوں کے میڈیا پر بڑے چرچے ہوتے رہے ہیں۔ اکتوبر 2016 کو علی امین گنڈاپور اپنے ساتھیوں سمیت بنی گالہ جا رہے تھے کہ کلمہ چوک پر پولیس نے ان کی گاڑی کی تلاشی لی جس کے دوران پولیس نے ان کی گاڑی سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور شراب کی بوتلیں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ وہ خود فرار ہو گئے تھے۔بعد ازاں علی امین گنڈاپور نے پولیس کے موقف کو مسترد کیا اور موقف اپنایا تھا کہ ان کے پاس ذاتی گارڈ نہیں پولیس اہلکار سیکیورٹی پر تعینات ہیں جبکہ بوتلیں شہد کی تھیں جو پولیس نے شراب قرار دیں۔

 مبصرین کے مطابق اپنی بدزبانی کی وجہ سے مستقبل قریب میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بڑی مصیبت میں پھنستے نظر آتے ہیں، اسلام آباد جلسے میں کی جانے والی زبان درازی کے بعد مقتدر حلقوں نے گنڈاپور کو قابوکرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گنڈاپور کیخلاف شکنجہ کسنے کیلئے خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقوں میں دہشت گردی کے حالیہ ہولناک واقعات اور ان میں تحریک انصاف کے سرکردہ افراد اور کارکنوں کے مبینہ ملوث ہونے کے بعد مقتدر حلقوں نے گنڈاپور کیخلاف چارج شیٹ مرتب کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ جس کے بعد علی امین گنڈاپور کو مورد الزام ٹھہرا کر ان کی چھٹی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے

وفاقی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں حالات گزشتہ برسوں میں اس قدر ابتر نہیں ہوئے تھے جو خرابی کی سطح صوبے میں موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد آئی ہے۔صوبے میں نہ صرف امن وامان کا تباہ کن حد تک بریک ڈاؤن ہوا ہے بلکہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مدد کرنے کے مجرمانہ واقعات بھی سامنے آئے ہیں دوسری جانب اطلاعات یکجا کرنے والے اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے میں کرپشن بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے صوبائی وزیر اعلی کے قریبی افراد کے علاوہ ان کے بھائی بھی صوبے کے وسائل کی لوٹ مار اور ملازمتوں سمیت ہر قسم کی سرکاری مراعات کے لئے کھلم کھلا نذرانہ وصول کررہے ہیں۔گورنر فیصل کنڈی نے ان الزامات کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ اس امر کے شواہد موجود ہیں کہ اعلی حکومتی عہدیداران کرپشن میں ملوث ہیں۔ کرپشن اور بد انتظامی کے ساتھ ساتھ گنڈاپور کی زبان درازی نے ان کا بوریا بستر گول کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پچھلے کچھ عرصے سے خیبرپختونخوا میں کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروپس پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں، حکومتی نااہلی کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے 6اضلاع میں حکومت رٹ باقی نہیں رہی،ان علاقوں میں طالبان نے اپنی چیک پوسٹیں قائم کرلی ہیں، تاہم خیبرپختونخوا حکو۔ت نے سیاسی صورتحال قومی سلامتی کے ساتھ مکس کر دی ہے، ریاست کی دہشت گردی کیخلاف جنگ کی بات کا مطلب سیاسی احساسات کے طور پر لیا جارہا ہے،  تاہم اب لگتا ہے سیکیورٹی اداروں نے آپریشن عزم استحکام کے ذریعے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا قلع قمع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس ریاستی آپریشن میں رکاوٹیں ڈالنے والے بھی جلد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔

Back to top button