دنیا بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں کو پر کیوں لگ گئے؟

 

 

 

سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر یقینی سیاسی و معاشی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش نے سونے اور چاندی کو ایک بار پھر سب سے پرکشش اثاثہ بنا دیا ہے،  جس کے نتیجے میں سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی عالمی اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کی ترجیحات بدل کر رکھ دی ہیں۔ اب زیورات کی خریداری سے لے کر سرمایہ کاری تک، چاندی سونے کے متبادل کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی طلب کے باعث سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق بدھ 14 جنوری 2026 کو 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 4 ہزار 300 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 86 ہزار 162 روپے ہو گئی ہے جبکہ 24 قیراط 10 گرام سونا 3 ہزار 687 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 16 ہزار 805 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح 22 قیراط 10 گرام سونے کی قیمت 3 ہزار 380 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 82 ہزار 85 روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔ سونے کے ساتھ ساتھ مقامی مارکیٹ میں چاندی کی قیمتوں میں بھی واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔24 قیراط چاندی کی فی تولہ قیمت 500 روپے اضافے کے بعد 9 ہزار 575 روپے ہو گئی ہے جبکہ 24 قیراط 10 گرام چاندی 429 روپے مہنگی ہو کر 8 ہزار 209 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا جہاں فی اونس سونا 43 ڈالر اضافے کے ساتھ 4 ہزار 638 ڈالر پر پہنچ گیا ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 5 ڈالر اضافے کے ساتھ 91 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں ڈالر کی قدر میں کمی اور سونے اور چاندی کی طلب میں اضافے اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت پانچ لاکھ روپے جبکہ چاندی کی قیمت 10ہزار روپے فی تولہ کی حد پار کر سکتی ہے۔

 

معاشی ماہرین کے مطابق محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھوتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ عالمی مالیاتی بحران کے بعد آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمت میں مزید اضافہ متوقع ہے سونے اور چاندی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ بظاہر عالمی مالیاتی رجحان ہے، مگر اس کی گونج پاکستانی معیشت اور عوام کی زندگی میں صاف سنائی دے رہی ہے۔ نتیجتاً، اس کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور جا چکی ہے۔

 

دنیا بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ سونے کی قیمت میں گزشتہ ایک سال کے دوران 55 فیصد اور چاندی کی قیمت میں 65 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔بین الاقوامی منڈی میں فی تولہ سونا تقریباً 1750 ڈالر اور فی کلو چاندی 1900 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔  "گزشتہ چند دنوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 35 سے 40 ہزار روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اپریل سے اب تک سونے کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے، جسے 1970 کی دہائی کے بعد سونے کی قیمتوں میں ہونے والا تیز ترین اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی معاشی حالات کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان آئندہ پانچ برس تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے بقول رواں سال اب تک سونے کے ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) میں 64 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جبکہ عالمی سطح پر سونے میں مزید سرمایہ کاری کا رجحان بدستور مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔

 

معاشی ماہرین کے مطابق سونا اور چاندی اب ایک ایسا ’’محفوظ سرمایہ‘‘ بن چکے ہیں جو معاشی بے یقینی کے دور میں بھی اپنی قدر برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑی بڑے مالیاتی ادارے اب ڈالرز کی بجائےسونے اور چاندی میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں اس صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف  اگست 2025 میں دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے 15 ٹن سے زائد سونا خریدا، جس سے سالانہ خریداری کی مجموعی مقدار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ "پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست عالمی مارکیٹ سے جڑا ہے۔ چین، بھارت اور ترکی جیسے ممالک کے مرکزی بینک بھی بڑے پیمانے پر سونا اور چاندی خرید رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان ممالک نے ڈالر کے بجائے سونے اور چاندی یا مقامی کرنسی میں تجارت شروع کر دی ہے، جس سے ڈالر کمزور اور سونا اور چاندی مزید سے مزید مضبوط ہو رہے ہیں جبکہ عالمی تجارتی کشیدگی نے بھی سونے اور چاندی کو ایک بار پھر سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنا دیا ہے۔

کیا ٹرمپ فیملی کرپٹو کمپنی سے معاہدہ پاکستان کے گلے پڑ سکتا ہے؟

ماہرین کے بقول ’سونے اور چاندی کی قیمت بڑھنے کی وجہ عالمی سطح پر جاری جنگی صورت حال بھی ہے۔ پہلے یوکرین اور روس جنگ کی وجہ سے سونے اور چاندی کی قیمت میں اضافی ریکارڈ کیا گیا تھا، پھر پاکستان انڈیا جنگ نے ملک میں سونے کی قیمت بڑھائی، اس کے بعد ایران اسرائیل جنگ سونے اور چاندی کی قیمت میں اضافے کی وجہ بنی اور پھر امریکہ اور چائنا ٹیرف وار نے سونے کی قیمت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ میں معاشی استحکام نہ آیا تو چند ماہ میں سونے کی قیمت پانچ ہزار فی اونس تک بڑھ سکتی ہے۔‘

 

Back to top button