حامد میر نے صدر ٹرمپ کو ذہنی مریض کیوں قرار دے دیا؟

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن حامد میر نے ایران پر بلاوجہ حملہ آور ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ کو ایک ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سرکش اور حواس باختہ دماغی مریض کا علاج صرف امریکی کانگریس ہی کر سکتی ہے۔ انکے مطابق امریکی قانون میں ایسے صدر کا علاج موجود ہے اور کانگریس کو امریکہ اور جمہوریت دونوں کو بچانے کے لیے فوری ایکشن لینا ہو گا۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ امریکی عوام کافی عرصے سے اپنے صدر سے بیزار نظر آ رہے تھے لیکن 28 مارچ کو یہ بیزاری ایک ملک گیر عوامی بغاوت میں تبدیل ہو گئی۔ ایک ہی دن امریکا کے درجنوں شہروں میں لاکھوں افراد گو ٹرمپ گو کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ۔ وہ ٹرمپ جس نے مارچ 2026 کے آغاز میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرتے ہوئے ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکل کر ریجیم چینج کرنے کا کہا تھا، اس کے اپنے خلاف امریکی عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ ٹرمپ کے خلاف اس عوامی بغاوت کی سب سے بڑی وجہ ایران کے خلاف اُن کی جنگ ہے جس نے امریکی عوام کو بھی معاشی جھٹکے دینے شروع کر دئیے ہیں۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ عام امریکیوں میں ٹرمپ کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے دوسری مرتبہ صدر بننے کیلئے اپنے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکا کو نئی جنگوں میں نہیں دھکیلیں گے ۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں ایسا کوئی کارنامہ نہیں کیا تھا جسکی وجہ سے عوام انہیں دوسری مرتبہ صدر بناتے لیکن اپنے جنگ مخالف نعروں کے ذریعے انہوں نے امریکیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور پھر ’’امریکا فرسٹ‘‘کے نعرے کی بنیاد پر غیر قانونی طور امریکا میں داخل ہونے والوں کو واپس بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ امریکی افواج دوسرے ممالک میں جا کر جنگوں پر کھربوں ڈالرز خرچ کرنے کی بجائے غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونیوالوں کو نکال کر امریکیوں کیلئے روزگار پیدا کریں گے۔ ٹرمپ نے دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد غیر ملکی باشندوں کے خلاف مہم تو شروع کی لیکن نئی جنگیں نہ شروع کرنے کے وعدے کی دھجیاں اڑا دیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ ٹرمپ نے دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد شام ، نائیجریا ، صومالیہ ، عراق اور یمن پر بمباری کرائی۔ انہوں نے ونیزویلا پر حملہ کیا اور گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش ظاہر کر کے یورپ کو بھی ناراض کر لیا ۔انہوں نے 2025 میں ایران پر حملہ کیا اور اعلان کر دیا کہ ہم نے ایران کا نیوکلیئر پروگرام ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے 2026 میں ایران پر ایک اور حملہ کیا اور کہا کہ اس کا مقصد ریجیم چینج کے ساتھ ساتھ ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ سپریم لیڈر آیت الله علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں ریجیم چینج ہو جائے گا اور جس طرح ونیزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد امریکی کمپنیوں نے ونیزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا ہے، ایران میں بھی ایسا ہی ہو گا ۔
لیکن ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے تمام اندازے غلط نکلے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے پوری دنیا میں تیل کا بحران پیدا کر دیا۔ جیسے جیسے یہ جنگ لمبی ہوتی گئی، ٹرمپ کے خلاف عوام میں بیزاری نے نفرت کا رنگ اختیار کرنا شروع کر دیا ۔ یورپی ممالک نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ۔ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکا کے فوجی اڈوں پر حملے شروع کر دیئے جسکے باعث امریکا کی بطور ایک سپر پاور ساکھ بھی ختم ہو گئی ۔ امریکا کے آرتھو ڈاکس یہودیوں نے بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ایران کے خلاف جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا اور امریکی میڈیا پر ایسے تبصرے سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو بلیک میل کرکے ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس میں امریکا کا کوئی مفاد نہیں۔ سب سے زیادہ تنقید اس معاملے پر ہوئی کہ 2025 میں ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم کر دی ہے۔ لہذا 2026 میں ایران پر دوسری مرتبہ حملہ کرنے کے بعد پھر سے یہ کیوں کہا گیا کہ ہم ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم کرنا چاہتے ہیں؟
حامد میر کے بقول سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ نے 2025 میں جو دعویٰ کیا تھا وہ جھوٹ تھا؟ اسکے علاوہ ٹرمپ کی اپنی ہی پارٹی کے کئی سینیٹرز نے اعتراض کیا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکا نے ایک اور جنگ کیسے شروع کردی؟ ہفتہ کو امریکا کے تمام بڑے شہروں میں ٹرمپ کے خلاف مظاہروں میں یہ نعرہ بھی لگایا گیا کہ ہمیں امریکا میں بادشاہت نہیں چاہئے۔ ٹرمپ کے خلاف ان مظاہروں میں انہیں کو جھوٹا قرار دیا گیا۔ بہت سے بینرز پر ٹرمپ کو ایک پاگل شخص لکھا گیا۔ یہ بینرز دیکھ کر مجھے امریکا کی معروف ماہر نفسیات بینڈی لی کی کتاب یاد آگئی ۔ بینڈی نے 2017 میں امریکا کے 27 ماہرین نفسیات کی مدد سے ایک کتاب شائع کی تھی جس میں ٹرمپ کی نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں کا تجزیہ کیا گیا ۔ کتاب میں بتایا گیا تھا کہ ٹرمپ سے قبل بھی امریکا کے کئی صدور ذہنی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ابراہم لنکن ڈپریشن کے مریض تھے۔ جانسن کو ‘بائی پولر ڈس آرڈر’ کا عارضہ لاحق تھا ۔ ریگن کو بھول جانے کی بیماری تھی۔ رچرڈ نکسن جھوٹ بہت بولتے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی نفسیاتی اور اعصابی بیماریاں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ امریکا کے صدر بننے کے اہل نہیں۔
اس کتاب میں لکھا گیا ہے کہ ٹرمپ صرف اپنے لئے ہی نہیں بلکہ دوسروں کیلئے زیادہ خطرناک ہیں، اس کے علاوہ اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ اگر وہ صدر بن گئے تو چند سیکنڈز میں اتنے بندے مار دیں گے جتنے کسی ڈکٹیٹر نے اپنے کئی سالہ دورِ اقتدار میں بھی نہ مارے ہوں گے
اس کتاب پر امریکی میڈیا میں بڑی بحث ہوئی اور ٹرمپ کی ذہنی حالت کو امریکا کیلئے خطرہ قرار دے دیا گیا۔ لیکن وہ بقول حامد میر، اسے جمہوریت کی خصوصیت کہیں یا خامی کہیں کہ امریکی ووٹرز کی اکثریت نے ماہرین نفسیات کی وارننگ نظر انداز کرکے ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب کروا دیا ۔
ایران کو انا کے گھوڑے سے اتر کر مذاکرات کامیاب کیوں بنانے چاہییں؟
اب ان ماہرین نفسیات کی وارننگ امریکیوں کو دوبارہ یاد آنے لگی ہے ۔ جذباتی ہیجان اور خود پسندی کے شکار ٹرمپ گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ کہنے لگے ہیں۔ وہ ایک ہی تقریر میں سعودی ولی عہد کے بارے میں نازیبا الفاظ بھی ادا کرتے ہیں اور اگلے ہی لمحے انکی تعریف شروع کر دیتے ہیں۔ ٹرمپ صرف دشمنوں کیلئےہی نہیں دوستوں کیلئے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔ وہ امریکی عوام سے کئے گئے سب وعدے بھی بھول چکے ہیں ۔اس وعدہ خلافی پر عوام اُن کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں ۔جمہوریت میں سڑکوں پر نکل کر نعرے لگانا تو جائز ہے لیکن نعروں سے حکومت تو نہیں بدلتی۔ صدر ٹرمپ کو اقتدار سے نکالنے کیلئے اُن کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے اور یہ فیصلہ کانگریس نے کرنا ہے جسکے پاس ایک سرکش ذہنی مریض کا علاج موجود ہے۔
