آرمی چیف اور صدر کے لیے استثنیٰ غیر اسلامی کیوں نکلا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت آرمی چیف اور صدرِ مملکت کو تاحیات استثنا دینے کی مخالفت کرتے ہوئے اس تصور کو نہ صرف غیر جمہوری اور غیر منطقی بلکہ سراسر غیر اسلامی بھی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق آرمی چیف اور صدر جیسے طاقت ور افراد کے لیے تاحیات استثنی کی خواہش دراصل تاریخ کے پہیے کو الٹا گھمانے کی کوشش ہے، جو نہ تو ماضی میں کامیاب ہوئی اور نہ ہی آج کامیاب ہو سکتی ہے۔
اپنی تحریر میں حماد غزنوی نے جنگل کے قانون کی مثال پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جنگل میں طاقت ور کے لیے کوئی قانون نہیں ہوتا؛ شیر جو چاہے کر سکتا ہے لیکن اس کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں ہو سکتی۔ اس مثال کا مقصد یہ بتانا تھا کہ طاقت ور کو قانونی گرفت سے بچانا دراصل اسی قدیم غیر انسانی روایت کی بحالی ہے جس میں کم زور ہمیشہ بے بس رہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اصول انسان نے قبائلی دور میں بھی اپنایا اور بادشاہت کے عہد میں بھی یہی سوچ برقرار رہی کہ قانون صرف رعایا پر لاگو ہوتا ہے، اور بادشاہ اس سے بالاتر ہوتا ہے۔
حماد غزنوی نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ بادشاہت کا فلسفہ اس عقیدے پر قائم تھا کہ بادشاہ خدا کا چنیدہ ہوتا ہے اور اسی لیے اسے کسی انسانی عدالت میں جواب دہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے برطانوی تاریخ کا مشہور جملہ ’’The King can do no wrong‘‘ دہراتے ہوئے واضح کیا کہ دنیا کے کئی بادشاہ اسی اصول کو اپنی طاقت کی بنیاد سمجھتے رہے۔ بادشاہ خود ہی عدالت تھا، خود ہی پارلیمنٹ، اور خود ہی پورا قانون۔ اس لیے اسے ہر اخلاقی اور انتظامی قانون سے استثنا حاصل تھا، گویا ریاست کا پورا نظام اس کی ذات سے شروع ہو کر اسی کی ذات پر ختم ہو جاتا تھا۔
حماد غزنوی نے جمہوری نظام کے احیا کو انسانیت کی سب سے اہم پیش رفت قرار دیا، کیونکہ جمہوریت کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی کہ قانون کی حکمرانی ہوگی اور ہر شخص قانون کے سامنے برابر ہوگا۔ حماد کے مطابق جمہوریت میں طاقت ور افراد کی جواب دہی بے حد ضروری ہوتی ہے، کیونکہ یہ لوگ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اقتدار میں آتے ہیں اور ان کے پاس عوام کا پیسہ، ادارے، اختیارات اور اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جمہوریت میں کسی کو کوئی تاحیات استثنی نہیں دیا جاتا، بلکہ مہذب معاشروں میں تو جس شخص کے پاس اختیار جتنا زیادہ ہو، اس کی جواب دہی بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن حماد کے بقول، پاکستان مین طاقت ور حکومتی اور عسکری عہدے دار عوامی جواب دہی سے بچنے کے لیے استثنی کو اپنا بنیادی حق سمجھنے لگے ہیں۔
حماد غزنوی نے اس معاملے میں اسلامی تعلیمات کو بھی تفصیل سے بیان کیا اور کہا کہ موجودہ سسٹم بھی سابق وزیراعظم عمران خان کی طرح ’’اسلامی ٹچ‘‘ دینے میں ماہر ہے، لیکن جب طاقت ور کے لیے استثنی کی بات آتی ہے تو کوئی بھی اسلامی دلیل سامنے نہیں لائی جاتی۔ انہوں نے صحیح بخاری کی مشہور حدیث نقل کی، جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر ان کی بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ حماد غزنوی کے بقول یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں کسی طاقت ور یا با اثر فرد کو قانون سے بالاتر یا بڑا نہیں سمجھا جاتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خلیفہ عمرؓ کو کبھی استثنی دیا گیا؟ کیا خالد بن ولیدؓ کو کبھی قانون سے بالاتر سمجھا گیا؟ ان کے مطابق اسلامی تاریخ میں ایسے کسی استثنی کی مثال موجود نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی تعلیمات میں استثنی مجبور اور کم زور کے لیے ہوتا ہے، جیسے بیماری میں روزہ چھوڑنے یا سفر کے دوران نماز میں نرمی کی اجازت۔ لیکن طاقت والوں کو استثنا دینے کا نہ کوئی مذہبی جواز ہے اور نہ کوئی اخلاقی بنیاد ہے۔
حماد غزنوی نےتاحیات استثنی کے تصور کو طنز کرتے ہوئے ایک ایسا نایاب پرندہ قرار دیا ہے جو تاریخ میں کہیں نہیں ملتا۔ حماد نے موجودہ سیاسی رویوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج طاقت ور افراد استثنی کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ وہ عوام سے اختیار اور اعتماد تو لے لیتے ہیں، لیکن جواب دہی سے مکمل نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص ایک عوامی امانت قبول کرے اور پھر یہ اعلان کر دے کہ وہ کبھی حساب نہیں دے گا، نہ اب نہ بعد میں، اور یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی نہیں۔
حماد کے مطابق ظلم یہ ہے کہ ہمارے نظام میں طاقتوروں کی بجائے کمزوروں سے جواب دہی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ جواب دہی کس سے ہونی چاہیے؟ کیا چھابڑی والے، چنگ چی ڈرائیور، مزدور یا مالی سے جواب دہی ہونی چاہیے؟ یا ان سے جن کے پاس تمام تر ریاستی اختیارات اور وسائل موجود ہیں؟ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جن سے جواب دہی ہونی چاہیے تھی، وہی خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں۔ حماد غزنوی نے اپنی تحریر میں دوستو وسکی کے معروف ناول ’’جرم و سزا‘‘ کا ذکر بھی کیا، جس میں مرکزی کردار قتل کرنے کے بعد یہ سمجھنے لگتا ہے کہ بڑے لوگ قانون سے بالاتر ہوتے ہیں، لیکن ضمیر کی خلش اسے اقرار جرم پر مجبور کر دیتی ہے۔ حماد کے مطابق اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ جرم کا مرہم سزا ہی ہوتی ہے، لیکن آج کے طاقت ور افراد ضمیر کی اس خلش سے بھی بے نیاز ہو گئے ہیں۔
نئے صوبوں کا قیام ملکی سالمیت خطرے میں کیوں ڈال دے گا؟
آخر میں حماد غزنوی نے طنزیہ سوال اٹھایا ہے کہ جس طرح پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے والے کو نوبل انعام نہیں دیا جا سکتا، اسی طرح طاقت وروں کو بھی بادشاہت دوبارہ بحال کرنے یا جنگل کا قانون دوبارہ رائج کرنے پر بھی داد نہیں دی جا سکتی۔ انکے مطابق یہ کوششیں نہ تو ماضی میں قابلِ قبول تھیں اور نہ ہی آج کسی طرح درست قرار دی جا سکتی ہیں۔
