عمران مذاکراتی عمل کے دوران فوج پر کیوں حملہ آور ہو گئے؟

کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاست کو بند گلی میں دھکیلنے اور اسے اقتدار کی راہداریوں سے دور کرنے کے مرکزی کردار عمران خان خود ہیں۔ ناقدین کے مطابق اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے زیر عتاب بانی پی ٹی آئی عمران خان یا ان کی جماعت کیلئے جب بھی ریلیف کی کوئی امید پیدا ہوتی ہے تو عمران خان کوئی ایسی بونگی مار دیتے ہیں جس سے نہ صرف پی ٹی آئی قیادت مزید مشکلات سے دوچار ہو جاتی ہے بلکہ عمران خان کے گرد بھی گھیرا مزید تنگ ہو جاتا ہے جبکہ یوتھیے رہنما ریلیف کی فراہمی کیلئے ترلے منتیں کرنے کی بجائے عمران خان کی بیان کی وضاحتیں کرتے نظر آتے ہیں۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکراتی عمل کے دوسرے دور پر جہاں دونوں فریق مطمئن اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں اسی دوران عمران خان نے ایک ٹوئٹ داغتے ہوئے جہاں اسٹیبلشمنٹ کو ہدف تنقید بنا ڈالا وہیں ایک بار پھر بائیڈن انتظامیہ کو اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ عمران خان نے جہاں ترسیلات زر پاکستان نہ بھیجنے کے حوالے سے پی ٹی آئی کی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا وہیں مطالبات تسلیم نہ کرنے پر سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی بھی دھمکی دے دی ہے۔مبصرین کے مطابق عمران خان نے بات چیت کے ذریعے مثبت پیشرفت کے دوران دھمکی آمیز رویہ اختیار کرکے اپنے پاوں پر کلہاڑی مار لی۔ عمران خان کی دھمکی اور الزام تراشی سے جہاں مذاکراتی عمل سبوتاژ ہونے کا خدشہ ہے وہیں بانی پی ٹی آئی کی جیل یاترا ختم ہونے کے امکانات بھی معدوم ہو گئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق عمران خان پچھلے ڈیڑھ برسوں سے جیل میں قید ہیں اور بظاہر ان کی فوری رہائی کے امکانات کم ہی ہیں۔ ان کے خلاف بعض کیسز میں سزائیں سنائی گئیں، مگر ان میں سے زیادہ تراعلیٰ عدالتوں سے ختم ہوگئیں۔ سائفر کیس جس کے بارے میں حکومت کو بہت امیدیں تھیں کہ اس کی سزا سے عمران خان کا بچنا نا ممکن ہے، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو اس سے بھی بری کر دیا۔اسی طرح عدت کیس میں وہ اور ان کی اہلیہ بری ہوچکی ہیں۔ توشہ خانہ کیس میں بھی ان کی سزا معطل ہے، تاہم توشہ خانہ 2 اور 199 ملین پاؤنڈز کیس میں انہیں سزا کا خطرہ موجود ہے، البتہ ہائیکورٹ میں وہ سزا قائم رہ سکے گی یا نہیں؟، اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔البتہ عام تاثر یہی ہے کہ عمران خان کے لیے جیل سے باہر آنا بہت مشکل ہے کیونکہ جہاں ایک طرف ان پر 9 مئی کے کیسز میں ملٹری ٹرائل کی تلوار لٹک رہی ہے وہیں ان کا متکبرانہ، غیر سیاسی اور غیر دانشمندانہ طرز سیاست بھی ان کیلئے مشکلات کھڑی کر رہا ہے۔

تحریک انصاف نے سزاؤں کی معافی کو ڈھکوسلہ قرار دے دیا

مبصرین کے مطابق عمران خان سیاست کی پچ پر جیسی جارحانہ بیٹنگ کرتے رہے ہیں، اس سے انہیں فائدے کی بجائے نقصان پہنچا ہے۔ تجزیہ کاروں کے بقول کسی بریک تھرو کے لیے انہیں اب جذباتی پن تعمیر کے قدرے صبر اور تحمل سے وکٹ پر ٹھہر کر وقت گزارنا ہوگا۔ اپنی اور اپنی پارٹی کے بعض رہنماؤں کی زبان خاموش کرا کر مفاہمت کے راستے کی طرف پیش قدمی کرنا ہوگی۔ تاہم۔اگر عمران خان نے مسلسل الزام تراشیوں اور دھمکیوں کی پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھا تو پی ٹی آئی کی سیاست کو انجام تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

مبصرین کے مطابق عمران خان کو اب  سولو فلائٹ کی پالیسی ترک کر کے کسی سیاسی اتحاد کی طرف جانا چاہیے۔ پاکستانی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ اپوزیشن ہمیشہ گرینڈ آلائنس بناتی ہے۔ ’ایم آر ڈی‘ سے ’اے آر ڈی‘ اور پھر ’پی ڈی ایم‘ تک ہمیشہ اپوزیشن نے سیاسی اتحاد بنائے اور انہیں اس کے فوائد بھی ملے۔ ایسے اتحاد عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے لیے نئے راستے کھول سکتا ہے۔ تاہم عمران خان کی "میں میں کی پالیسی” کی وجہ پی ٹی آئی کا کسی بھی جماعت کو ساتھ لے کر چلنا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button