فوج سے پنگا لیتے ہوئے عمران اپنی اوقات کیوں بھول گئے؟

 

 

 

اقتدار سے نکالنے کی صورت میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مزید خطرناک ہو جانے کی دھمکی دینے والے عمران خان کے لیے سبق یہ ہے کہ بھائی لوگوں کے ساتھ پنگا کرتے ہوئے اپنی اوقات اور دائرے کے اندر رہنا چاہیئے۔ پاکستانی سیاست دانوں کے لیے بھی یہ سبق ہے کہ وہ کمزوروں اور چھوٹوں سے شفقت کریں نہ کریں لیکن "بڑوں” کا احترام کرتے ہوئے ان کے ترتیب شدہ آدابِ حکمرانی و ملازمت کی حرمت برقرار رکھیں۔ اسکے علاوہ وسائل کی نیلامی کے نتیجے میں جس فوجی بھائی کا جتنا حق بنتا ہے، اسے بغیر مانگے دے دیں۔

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان بی بی سی اردو کے لیے اپنی تحریر میں مزید کہتے ہیں کہ اگر، مگر، چونکہ اور چنانچہ جیسی مغلظات ذہن سے نکال کے پھینک دیں۔ اس کے باوجود آپ کو کرسی نہ ملے تو بھی مٹھی چاپی، اور مالش پالش جاری رکھنی چاہیے۔ کسی کو نہیں معلوم کب کھل جا سم سم ہو جائے اور کس لمحے جاری ہونے والے گزٹ نوٹیفکیشن میں آپ غدار سے محبِ وطن، چور سے ایماندار، پاگل سے جینئیس، اور موقع پرست سے اصول پسند قرار پائیں۔ اوپر والا یا اوپر والے مہربان ہوں تو سینکڑوں مقدمات ایسے اڑن چھو ہوں گے کہ کیا کوئی دودھ کا دھلا ہو گا۔ لیکن اگر یہ سب نہیں سمجھیں گے، سسٹم کے خلاف چلنے کی کوشش کریں گے تو پھر آپ کی زبان بھی کٹے گی، آپ بھانت بھانت کی کوٹھڑیوں میں بھی منتقل ہوتے رہیں گے، اور آنکھ کیا، آپ اپنے ہوش و حواس سے بھی جائیں گے۔

 

وسعت اللہ خان اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے سوال کرتے ہیں کہ انہیں کیا ضرورت تھی یہ کہنے کی کہ میں اگر اقتدار سے نکالا گیا تو اور بھی خطرناک ہو جاؤں گا۔ اب بھگتو اپنی دھمکی کو۔ ان کا کہنا ہے کہ خان صاحب کو اپنی ایک آنکھ 85 فیصد خراب ہو جانے پر بھی اتنا شور مچانے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ ان کی دوسری آنکھ تو صحیح سلامت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں طاقت ور کو ہر سہولت میسر ہے۔  گھر کے کھانے، سرکاری بجلی پر مسلسل اے سی، ٹی وی، ڈیک، ہاتھ باندھے مشقتی، موبائل فونز کا من چاہا استعمال، یار دوستوں سے حسبِ خواہش ملاقات۔ گھر کی یاد آئے تو رات گھر پے گذار کے صبح واپسی کی سہولت۔ اسکے علاوہ جیل کی کوٹھری اور صحن دیکھ دیکھ کر جیا اکلانے لگے تو پرائیویٹ ہسپتال کے پرائیویٹ کمرے کو سب جیل قرار دلوا دینا بھی با اثر افراد کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اس کے بود قیدی کی مرضی ہے کہ وہ کتنے دن یا کتنے مہینے ‘بیمار’ رہنا چاہتا ہے۔ ایسے دبنگ اسیر کے سامنے اے بی سی کلاس کے جیل مینوئل کی اوقات ٹشو پیپر سے بھی کم ہے۔ ایسے دھانکڑ سے تو جیلرز اپنی ترقی کی سفارش کرواتے ہیں۔

 

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اگر آپ نے کروڑوں اربوں کا غبن کیا ہو تو بھی کوئی بات نہیں۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ نیب کے ساتھ پلی بارگین کا راستہ آخر کس لیے دیا گیا ہے، اسے استعمال کیجیے اور باعزت گھر جائیے۔ آپ کے ہاتھوں کوئی خادمہ، کوئی مزدور، کوئی بھکاری، کوئی نشئی ایسے میں مر جائے جب آپ خود نشے میں دھت اسے ڈنڈوں اور سریوں سے ماریں یا پھر گاڑی کے نیچے دے ڈالیں، کاہے کو ٹینشن لینے کا ہے۔

 

انکا کہنا ہے کہ مرنے والے کے ورثا کی اتنی اوقات کہاں کہ سب چھوڑ چھاڑ کے انصاف کے سراب چھونے کے لیے برس ہا برس جوتیاں چٹخانے پر آمادہ ہوں۔ کوئی انگلا کنگلا پھر بھی اڑ جائے تو اسے تحکمانہ پیار سے سمجھانے کے لیے پولیس، وکیل، گماشتے اور دور پرے کے رشتہ دار ہیں نا۔ تب بھی نہ مانے تو افسردہ سا منہ بنا کر مقتول کے ورثا کے سامنے خجالت کی ایکٹنگ کریں۔ بیس پچیس پچاس لاکھ منہ پہ ماریں۔ مقتول کے تو اچھے بھی اللہ کے نام پر آپ کو یہ کہتے ہوئے معاف کر دیں گے کہ مرنے والا تو چلا گیا، جو اللہ کی مرضی۔ اور پھر ایک مشترکہ تحریری معافی نامہ بنا کے جج کے سامنے دھر دیں۔ ہو گیا عزت سے سارا کام۔ جج بھی سکھ کا سانس لے گا، مقتول کے ورثا بھی راضی اور آپ اپنی جگہ حسبِ معمول معزز۔

بنی گالہ شفٹ کرنے کی بجائے عمران کی جیل بدلنے کا فیصلہ کیوں ہوا؟

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ آپ بھلے فیکٹری کو آگ لگا کے سینکڑوں انسان بھسم کر دیں، جعلی خوراک و ادویات کے خنجر سے ہزاروں انسانوں کی موت کا سامان کر دیں، ناقص تعمیر کر کے بیسیوں خاندانوں کی کثیر منزلہ قبر بنا دیں۔ اس سب کے باوجود آپ کی نجات کا کوئی نہ کوئی قانونی راستہ نکل ہی آئے گا۔ بس کبھی آدرشی انسان بننے کی بے وقوفی مت کیجئے گا، سماج بدلنے کا خناس کبھی دماغ میں نہ آئے، ہر ایک کو اس کی قابلیت کے مطابق حق مانگنے سے لازماً گریز کریں۔ چند ہاتھوں میں وسائل و دولت و طاقت کے ارتکاز کو مت چیلنج کریں، زندگی کو بلیک اینڈ وائٹ کے بجائے گرے میں دیکھنے کی عادت ڈالیں۔

آئین کو کوئی سنجیدہ کتاب سمجھ کر کبھی نہ پڑھیں، وقت کی ہر اسٹیبلشمنٹ کے دائیں ہاتھ پر رہیں، بائیں یا سامنے آنے کی سوچیں بھی نہ۔

 

وسعت اللہ مشورہ دیتے ہیں کہ یہ جان لیوا غلط فہمی بھی اپنے سے دس ہاتھ دور رکھیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ کیا آپ نے نہیں سنا یا دیکھا کہ ہزاروں بھیڑ بکریوں کی رکھوالی کے لیے بس ایک گڈریا اور ایک کتا کافی ہوتا ہے؟

 

Back to top button