عمران خان نے میر شکیل الرحمن کو کیوں گرفتار کروایا تھا؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان دور حکومت میں نیب کے ہاتھوں جنگ اور جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری وزیراعظم کی خواہش پر عمل میں لائی گئی، کیونکہ وہ اُن کے سخت خلاف تھے اور انہیں نشانِ عبرت بنانا چاہتے تھے۔
اپنی ایک تحریر میں جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اس واقعے کی تفصیل انہیں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بتائی۔ جنرل قمر باجوہ کے مطابق عمران خان کے دل میں میر شکیل الرحمٰن کے خلاف دیرینہ رنجش موجود تھی، جو غالباً 2005ء کے زلزلے کے دوران کسی مشترکہ پراجیکٹ کے دوران کام کرتے ہوئے پیدا ہوئی تھی۔ جنرل باجوہ کے بقول وزیر اعظم بنتے ہی عمران خان نے میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کرانے کا فیصلہ کیا۔ جنرل باجوہ نے گرفتاری کے بعد تین بار عمران خان کو سمجھایا کہ میر شکیل بیمار ہیں لہٰذا اگر جیل میں ابہیں کچھ ہو گیا تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، مگر عمران کا جواب تھا: کہ ’’میری بلا سے، بے شک اسے کچھ ہو جائے۔‘‘ جنرل باجوہ نے بتایا کہ وہ میر شکیل کی مدد کرنا چاہتے تھے، لیکن وزیراعظم کی شدید مخالفت کے باعث وہ صرف اتنا کر پائے کہ انہیں جیل سے ہسپتال منتقل کرا دیا جائے، جہاں انہیں دو کمرے دیے گئے اور وہ فیملی، دوستوں اور سٹاف سے ملاقات بھی کر سکتے تھے۔
اس سلسلے میں مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے انہیں بتایا کہ وزیراعظم شکیل الرحمن کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے پر ان سے سخت ناراض تھے، کیونکہ انہوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کو حکم دیا رکھا تھا کہ میر شکیل الرحمٰن کو ہرگز جیل منتقل نہ کیا جائے۔ چنانچہ جب شکیل الرحمن جیل سے ہسپتال منتقل ہو گئے تو عمران خان ہر دوسرے دن جنرل فیض سے شکوہ کرتے کہ ’’جب مجرموں کو سرکاری خرچ پر ہسپتال کے وی آئی پی کمروں میں رکھا جائے گا تو انصاف کیسے ہو گا؟‘‘ لیکن جنرل فیض حمید خاموش رہ کر بات ٹال دیتے۔
جاوید چوہدری مزید لکھتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے 2022 میں ان کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ عمران خان کے دور میں سینئر صحافی ابصار عالم پر ہونے والے حملے میں جنرل فیض حمید کا کردار تھا، تاہم ان کے مطابق انہوں نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیا تھا اور اس کے بعد کسی صحافی پر حملہ نہیں ہوا۔ یاد رہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں ابصار عالم کو اسلام آباد کے ایک پارک میں واک کے دوران گولی مار دی گئی تھی۔ جاوید چوہدری کے مطابق انہوں نے گفتگو کے دوران جنرل باجوہ کو اسد طور اور حامد میر کے کیسز یاد دلائے، جس پر سابق آرمی چیف نے کہا کہ وہ اسد طور کو جانتے ہی نہیں تھے اور اس کا نام انہوں نے پہلی بار اسی واقعے کے بعد سنا تھا۔ ان کے مطابق اسد طور کے ساتھ جو کچھ ہوا، غلط ہوا، لیکن انہیں ابصار عالم کی طرح گولی نہیں ماری گئی تھی۔
جنرل باجوہ نے جاوید چوہدری کو یہ بھی بتایا کہ حامد میر نے اسد طور پر حملے کے بعد تقریر کرتے ہوئے جنرل فیض حمید کے بارے میں غلط بیانی کی تھی۔ جنرل باجوہ کے مطابق فیض حمید کو کراچی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے کارکنوں کی فائرنگ سے پیٹھ پر گولی لگی تھی، تاہم حامد میر نے اسے فیض حمید کی اہلیہ سے جوڑ دیا، جو مکمل طور پر غلط تھا۔ باجوہ کا کہنا تھا کہ اس غلط بیانی کے باوجود حامد میر کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی، کیونکہ انہوں نے سختی سے حکم دے رکھا تھا کہ حامد میر سمیت کسی بھی صحافی کے ساتھ مس ہینڈلنگ نہیں ہوگی۔ جاوید چوہدری کے مطابق جنرل باجوہ نے اعتراف کیا کہ یہ حکم جنرل فیض کے لیے ’’برداشت کرنا مشکل‘‘ تھا۔
