عمران خان نے بشری بی بی کو اپنی ریڈ لائن کیوں قرار دیا تھا؟

 

عمران خان نے اپنی وزارت عظمی کے دوران خاتون اول بشری بی بی کی کرپشن کی فائلیں دکھانے پر جنرل قمر جاوید باجوہ سے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشری ان کی ریڈ لائن ہیں لہذا آئندہ کبھی انکے حوالے سے ایسی کوئی فائل بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ تاہم کچھ ماہ بعد جب آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل عاصم منیر نے بھی یہی غلطی دہرائی تو ان کو وقت سے پہلے ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹنٹ جنرل سید عاصم منیر کو انکے عہدے سے صرف 8 ماہ بعد ہی ہٹا دیا تھا۔ اس فیصلے کی وجہ وہ حساس معلومات تھیں جو عاصم منیر نے بطور خفیہ ایجنسی کے سربراہ اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے وزیراعظم تک پہنچائی تھیں۔ یہ وہ معاملہ تھا جس نے نہ صرف فوج اور حکومت کے درمیان اعتماد کے رشتے کو متاثر کیا بلکہ آنے والے برسوں کی ملکی سیاست اور طاقت کی تشکیل پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس تنازع کی ابتدا تب ہوئی جب آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے وزیراعظم عمران خان کو وہ فولڈر پیش کیا جس میں خاتونِ اول بشریٰ بی بی، انکی دوست فرح گوگی، اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور ان کے قریبی حلقے کی مالی کرپشن سے بارے تفصیلات شامل تھیں۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ ان الزامات کا بغور جائزہ لیں، مگر عمران خان نے اس دستاویز کو “یک طرفہ” قرار دیتے ہوئے فوراً مسترد کر دیا۔ خان نے باجوہ پر واضح کر دیا کہ “بشریٰ بی بی ان کی ریڈ لائن ہیں” اور وہ کسی صورت اپنی اہلیہ سے متعلق تحقیقات یا سوالات برداشت نہیں کریں گے۔ جنرل باجوہ نے ایک بار پھر عمران خان کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ متعلقہ افراد کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کریں، مگر وزیراعظم نے ایسی تمام فائلیں اور انکوائریاں مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا۔

لیکن کچھ عرصے بعد ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر نے بھی اس موضوع پر وزیراعظم کو بریفنگ دینے کی غلطی کر لی۔ چونکہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی انہیں حکومتی نظم و نسق سے متعلق حساس اور خفیہ رپورٹس تک براہ راست رسائی حاصل تھی، اس لیے انہوں نے سوچا کہ خان صاحب کی اہلیہ اور انکے قریبی حلقوں کی کرپشن کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کرنا ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ لیکن یہ بریفنگ عمران خان کے لیے ناقابلِ قبول تھی۔ ذرائع کے مطابق عمران نے چھٹی کے دن جنرل باجوہ کو فون کر کے مطالبہ کیا کہ عاصم منیر کو فوری طور پر آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹایا جائے۔ جنرل باجوہ نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا کرنا ادارے کے لیے مناسب نہیں ہوگا، مگر خان اپنے مؤقف پر اڑے رہے۔

بتایا جاتا ہے کہ عمران خان نے 24 گھنٹے کے اندر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی بنانے کا مطالبہ کر دیا حالانکہ فیض حمید کا نام سینئیر فوجی افسران کے پینل میں بھی شامل نہیں تھا۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تبدیل ہونے والے ڈی جی آئی ایس آئی کو ہمیشہ وزیر اعظم ہائوس میں “الوداعی چائے” کی دعوت دی جاتی ہے، مگر عمران خان نے جنرل باجوہ کی خواہش کے باوجود یہ روایت نبھانے سے بھی انکار کر دیا۔ چنانچہ بشریٰ بی بی کے بہت قریب سمجھے جانے والے فیض حمید کو انٹر سروسز انٹیلیجنس کا نیا چیف مقرر کر دیا گیا جو کہ عاصم منیر کے نمبر ٹو تھے۔ عمران نے عاصم منیر کو ہٹا کر ایک ایسے افسر کو نیا ڈی جی لگایا جس پر وہ مکمل اعتماد کرتے تھے اور جو خاتون اول کے قریبی حلقے بشمول فرح گوگی سے مضبوط تعلقات رکھتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب برطانوی اخبار Telegraph نے 2023 میں یہ رپورٹ شائع کی کہ عاصم منیر کو بشریٰ بی بی کے مالی معاملات کی چھان بین کی وجہ سے ہٹایا گیا تھا، تو عمران نے اس خبر کی سختی سے تردید کی اور اسے “مکمل جھوٹ” قرار دیا۔ لیکن بعد ازاں اپنی ایک پوسٹ میں عمران خان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے واقعی جنرل عاصم منیر کو ان کے عہدے سے وقت سے پہلے ہٹایا تھا جس کے بعد انہوں نے بشری بی بی سے رابطے کی کوشش بھی کی تھی۔ عمران کا یہ مؤقف انکے سابقہ مؤقف سے واضح تضاد رکھتا ہے، جو کہ وہ 2023 تک دہراتے رہے۔

ادھر عالمی جریدے دی اکانومسٹ نے نومبر 2025 میں اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عمران کے سیاسی فیصلوں اور حکومتی معاملات پر بشریٰ کا اثر غیر معمولی حد تک تھا۔ رپورٹ کے مطابق خان حساس سیاسی تقرریوں، وزرا کے چناؤ، پارٹی امیدواروں کی فہرستوں اور حتیٰ کہ حکومتی پالیسیوں تک میں بشری کی “روحانی بصیرت” سے استفادہ کرتے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ آئی ایس آئی کی بعض اندرونی معلومات غیر رسمی ذرائع کے ذریعے بشری بی بی تک پہنچتی تھیں اور وہ انہیں ایک روحانی تعبیر کے ساتھ خان تک پہنچاتی تھیں۔

دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ فوج کے سینئر افسران کو بشری کی بڑھتی ہوئی مالی سرگرمیوں اور سیاسی مداخلت پر شدید تحفظات تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ یہ سرگرمیاں حکومت اور فوج کے درمیان فاصلوں کو بڑھا سکتی ہیں۔ یہی تناؤ دھیرے دھیرے ایک بڑے ادارہ جاتی بحران میں بدل گیا جس نے عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی بنیاد رکھی۔ 2022 میں اسی جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف مقرر کرنے کی تیاری ہو رہی تھی تو عمران خان نے نہ صرف اس کی مخالفت کی بلکہ لانگ مارچ کی دھمکی کے ذریعے اسے روکنے کی کوشش بھی کی۔ تاہم ان کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور عاصم منیر کو نیا آرمی چیف لگا دیا گیا۔

Back to top button