اڈیالہ جیل میں قید عمران خان ماضی کا قصہ کیوں بن گئے؟

پونے تین برس سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کرپشن کیسز میں قید کاٹنے والے عمران خان اب ایک قصۂ پارینہ بنتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ اب ان کی رہائی کے حوالے سے نہ تو کوئی مؤثر تحریک چلتی نظر آتی ہے اور نہ ہی ان کی سزاؤں کے خاتمے کا کوئی امکان باقی رہ گیا ہے۔
خطے میں جاری خلیجی جنگ اور اس کے منفی اثرات نے جہاں حکومت پاکستان کی ترجیحات کو بدل دیا ہے، وہیں عوامی توجہ بھی دیگر مسائل کی طرف منتقل ہو چکی ہے، جس کے باعث مرکزی دھارے کا میڈیا بھی تحریک انصاف کے بانی کو بھلاتا دکھائی دیتا ہے۔ پچھلے برس جب عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ کا منصب سونپا تھا تو پارٹی کارکنان کو امید بندھی تھی کہ اب مزاحمت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگی اور خان کی رہائی کے لیے بھرپور تحریک دیکھنے کو ملے گی۔ ابتدائی دنوں میں واقعی ایسا محسوس بھی ہوا، جب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ بارہا اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے اور عمران خان سے ملاقات کی کوششیں کرتے رہے۔ ان مواقع پر کئی مرتبہ پارٹی کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا اور لاٹھی چارج جیسے واقعات نے ماحول کو کشیدہ بنائے رکھا۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ سرگرمیاں مدھم پڑتی چلی گئیں اور اب صورتحال یہ ہے کہ عملی اقدامات کے بجائے محض بیانات تک محدود ایک خاموشی چھا چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پارٹی قیادت کی جانب سے اگرچہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ مسلسل دہرایا جاتا ہے، لیکن زمینی سطح پر کوئی جامع حکمت عملی یا مؤثر تحریک سامنے نہیں آ سکی۔
اسی دوران ایک نئی پیش رفت کے طور پر عمران خان کی رہائی کے لیے ایک خصوصی فورس کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس کی رجسٹریشن کا عمل بھی شروع کیا گیا۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کے مطابق یہ ایک غیر سیاسی فورس ہوگی جو پارٹی پالیسی کے تحت کام کرے گی۔ تاہم یہ فیصلہ بھی متنازع بن گیا جب یکم اپریل کو ایک عدالتی سماعت کے دوران اس فورس کے قیام پر سوالات اٹھائے گئے اور جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ کسی سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے اس نوعیت کی فورس تشکیل دینا ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے لہذا یہ فورد غیر قانونی ہے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئیر صحافی لحاظ علی عمران خان کی رہائی کا معاملہ پس منظر میں جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سہیل آفریدی ابتدا میں ایک جارحانہ اور جذباتی مؤقف رکھتے تھے، یہاں تک کہ وہ اڈیالہ جیل کے باہر راتیں بھی گزارتے رہے اور عمران کی صحت، خصوصاً آنکھوں کی بینائی کے معاملے پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ تاہم اب اس سخت مؤقف میں واضح نرمی آ چکی ہے اور کسی ٹھوس لائحہ عمل کا فقدان نمایاں ہے۔ ان کے بقول ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ پی ٹی آئی قیادت بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، جبکہ عوامی سطح پر کوئی بڑی تحریک یا جلسہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
انکا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست میں وہ شدت اور تسلسل باقی نہیں رہا جو ابتدائی دنوں میں نظر آتا تھا۔ ان کے مطابق مسلسل احتجاجی سرگرمیوں نے کارکنان کو تھکا دیا ہے، جبکہ ریاستی اداروں کی جانب سے سخت ردعمل نے بھی کسی بڑی تحریک کے امکانات کو محدود کر دیا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان رہائی فورس کا تصور بھی علامتی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا دائرہ محدود دکھائی دیتا ہے، جو زیادہ تر پشاور اور اس کے نواحی علاقوں تک ہی مرکوز ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ابتدائی مہینوں میں ملک بھر میں چھوٹے بڑے مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا، لیکن اب یہ تحریک سکڑ کر چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو چکی ہے۔ خود وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعتراف کیا کہ ڈیڑھ سال سے کوئی بڑا احتجاج نہیں کیا گیا، اس کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان بھی کیا، تاہم ساتھ ہی یہ عندیہ دیا کہ اگر اجازت نہ ملی تو جہاں روکا گیا، وہیں احتجاج کیا جائے گا۔ دوسری جانب اگر گزشتہ پونے تین برس کی مجموعی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی کے لیے متعدد بڑی تحریکیں چلائیں، مگر کوئی بھی فیصلہ کن ثابت نہ ہو سکی۔ 2022 میں حکومت کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والا “حقیقی آزادی مارچ” لاہور سے اسلام آباد تک ایک بڑے عوامی دباؤ کی کوشش تھا، جس نے ابتدائی طور پر خاصی توجہ حاصل کی، مگر وزیرآباد واقعے اور سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنی رفتار کھو بیٹھا۔
اسی طرح نومبر 2022 میں دارالحکومت کی جانب ایک اور مارچ اور دھرنے کی کوشش کی گئی، مگر یہ بھی کسی بڑی سیاسی کامیابی میں تبدیل نہ ہو سکی۔
عمران خان پر اقتدار کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کیوں؟
مارچ 2023 میں عدالتی پیشی کے دوران جھڑپوں نے وقتی طور پر سیاسی درجہ حرارت بڑھایا، لیکن کوئی دیرپا نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ پھر مئی 2023 کے 9 مئی کے مظاہرے اور ہنگامے کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاجی لہر اٹھی، مگر اس کے نتیجے میں ہونے والے سخت کریک ڈاؤن، ہزاروں گرفتاریوں اور تنظیمی دباؤ نے تحریک انصاف کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد “جیل بھرو تحریک” بھی شروع کی گئی، لیکن محدود شرکت اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث یہ بھی جلد ختم ہو گئی۔ 2023 کے آخر اور 2024 کے انتخابات کے دوران ہونے والے احتجاج بھی کوئی بڑی تبدیلی نہ لا سکے، اور نہ ہی عمران خان کی رہائی ممکن ہو سکی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان تمام ناکامیوں کے پیچھے ریاستی کریک ڈاؤن، قیادت کی عدم دستیابی، اندرونی اختلافات، اور بدلتی ہوئی سیاسی حکمت عملی جیسے عوامل کارفرما رہے۔
ایسے میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عمران خان کی رہائی کی تحریک نہ صرف اپنی شدت کھو چکی ہے بلکہ عملی طور پر ایک تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔ عوامی توجہ کی منتقلی، میڈیا کی بدلتی ترجیحات، اور سیاسی حکمت عملی کے فقدان نے مل کر اس امید کو تقریباً دم توڑنے پر مجبور کر دیا ہے، جو کبھی ان کی رہائی کے لیے ایک بھرپور عوامی تحریک کی صورت میں نظر آتی تھی۔
