کلے کی سیاست میں عمران کیوں ہارا اور شہباز شریف کیوں جیتا؟

معروف لکھاری، تجزیہ کار اور عمران خان کے سابقہ بہنوئی حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ بانی تحریک انصاف کے بیٹوں کی قیادت میں بھی حکومت مخالف احتجاجی تحریک کا وہی حشر نشر ہوگا جو 26 نومبر 2024 کے ناکام دھرنے کے بعد سے ہر احتجاجی کال کا ہو رہا ہے، بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں مضبوط کلے کی حکمرانی ہے، یہ کلہ جو ماضی میں عمران خان کو برسر اقتدار لایا تھا اور پھر شہباز شریف کو اقتدار سے سرفراز کروایا۔
روزنامہ جنگ میں اپنے سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ خان نیازی لکھتے ہیں کہ شہباز حکومت کا کِلہ اسلیے مضبوط ہے کہ حکومت کی سلامتی مضبوط کِلے ہی کی مرہون منت ہے۔ یادش بخیر، جنرل ضیاء الحق کا طوطی بولتا تھا، نئے نویلے سیاستدان نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب بنے تو پی ہی پی کے پرانے گھاگ سیاستدانوں کو نہ بھایا، انہوں نے پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے شریف حکومت کا تختہ اُلٹنے کی ٹھانی تو جنرل ضیاء الحق کا کڑاکے دار بیان سامنے آیا، ضیا نے کہا کہ ’’نواز شریف کا کِلہ مضبوط ہے‘‘، یوں میاں صاحب کے مخالفین کی خواہشات بِن کھلے مرجھا گئیں۔
حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ شہباز حکومت کا کلہ بھی عمران خان کی مزاحمتی تحریک کی حد تک مضبوط ہے کیونکہ یہ تحریک حکومت مخالف نہیں بلکہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف تصور کی جا رہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اس تحریک کی کامیابی کا ویسے بھی کوئی امکان نہیں چونکہ عمران خان کو کھڈے لائن لگانا مضبوط کلے کا تھا اور ایک ادارتی فیصلہ ہے۔ صوبوں پر نظر دوڑائیں تو KP میں علی امین گنڈاپور اور بلوچستان میں سرفراز بگٹی کا کِلہ جی ابھی تک اسی لیے مضبوط ہے کہ دونوں ان کے اپنے لوگ ہیں۔ پنجاب میں مریم نواز بھی اسی کلے کی مرہون منت ہیں اور اسی لیے یہ گلے کرتی ہیں کہ صوبے کی بیوروکریسی، پولیس کی اہم پوزیشن،، جیلوں اور بڑے اداروں کی سربراہی وزیر اعلیٰ کی بجائے مضبوط کِلے کی جانب سے کی جا رہی ہے۔
حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان نے اپنی رہائی کے لیے ایک اور احتجاجی تحریک کا اعلان کیا تو مہینوں بعد قومی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ کیا زمانہ تھا ، عمران خان کا کِلہ بھی شہباز حکومت کی طرح مضبوط تھا ۔ موصوف کو مضبوط کِلے کی پدرانہ شفقت میسر رہی۔ یہ مضبوط کِلے کی برکت ہی تھی کہ 2014 کے دھرنے میں اپوزیشن میں ہونے کے باوجود پی ٹی آئی کے یوتھیے بے خوف ہو کر پولیس کو پھینٹی لگاتے تھے۔ تب چار سو خان تھا اور اسلام آباد اسکے قبضہ میں تھا۔ یہ سب کچھ بوجوہ مضبوط کِلے ہی کی بدولت تو تھا۔
حفیظ اللہ نیازی بتاتے ہیں کہ حالات اتنے خراب ہو چکے تھے کہ ایک روز تحریک انصاف کے غنڈے مسلح ہو کر وزیراعظم ہاؤس کے باہر پہنچ گئے اور وزیراعظم اپنے گھر میں قید ہو کر رہ گیا۔ خواجہ سعد رفیق کی زبانی معلوم ہوا کہ جب وہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو نواز شریف مبہوت تھے۔ الٹی گنتی شروع کر چکے تھے۔ باہر چند سو غنڈے ڈنڈوں سوٹوں سمیت دندنا رہے تھے ۔ ان کا اصرار تھا کہ ہ۔یں عمران خان کا حکم ہے کہ نواز شریف کو وزیراعظم ہاؤس سے گھسیٹ کر باہر نکالنا ہے۔ تب ظہیر الاسلام اور فیض حمید ریاستی ادارے کا ملازم ہونے کے باوجود خان کا ساتھ دے رہے تھے۔ میرے دو وزراء دوستوں پرویز رشید اور مشاہد اللہ خان کی برخاستی بھی مضبوط کلے نے ہی کروائی تھی حاکانکہ حکومت نون لیگ کی تھی۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ نومبر 2016 میں جنرل راحیل شریف کے جانے اور جنرل قمر باجوہ کے آنے سے عسکری قیادت تبدیل ضرور ہوئی لیکن ” کِلہ ” عمران کی پشت پر اسی طاقت سے موجود رہا ۔ چشم فلک نے ایسے مناظر دیکھے کہ وزیراعظم نواز شریف گریڈ 20 کے افسران کے آگے سر جھکائے اپنی تذلیل کروانے پر مجبور رہے اور بالاخر ان کا اقتدار نااہلی کی صورت میں عدلیہ کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا ۔ ایک مرتبہ پھر کلے نے ثابت کیا کہ اقتدار اسی کا ہے۔ 2018 تا 2021 نواز شریف، اسکے خاندان اور مسلم لیگی رہنماؤں پر جو قیامت ٹوٹی عمران خان کو اسکا احساس شاید کبھی بھی نہ ہو ۔ درجنوں واقعات ہیں لیکن افسوس ناک ترین حرکت وہ تھی جب کلثوم نواز بستر مرگ پر تھیں اور جیل میں قید مریم3 نواز اور نواز شریف کو ان سے فون پر بات کرنے کی اجازت بھی نہ ملی۔ بیگم کلثوم کی بیماری کا مذاق اُڑانا اور مریم کو باپ کے سامنے گرفتار کرنا، نہ بھولنے والے واقعات ہیں۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ اس کے بعد 2018 کے الیکشن ہوئے اور مضبوط کلے نے 18 اگست 2018 کو عمران خان کی تاج پوشی کراتے ہوئے انہیں وزیراعظم بنوا دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یاد رکھیں کہ نہ تو 25 جولائی 2018 کے آر ٹی ایس الیکشن عمران خان نے کروائے تھے اور نہ ہی 8 فروری 2024 کے فارم 47 الیکشن نواز شریف نے کروائے، ہاں ! ” کِلے” کی نظرِ کرم 2018 میں عمران خان پر اور 2024 میں شہباز شریف پر پڑ گئی اور یوں اقتدار کا ہما باری باری انکے سروں پر بٹھا دیا گیا۔
حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کے مسائل کی شروعات ہوئی تو کِلے کی سہولت واپس لے لی گئی۔ 27 اکتوبر 2022 کو فوجی ترجمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ہم نے یہ فیصلہ مارچ 2021 میں کر لیا تھا "۔ چنانچہ عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا فیصلہ ہو گیا۔ اس دوران جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں ایک اور توسیع کی حرص نے ادارے کیلئے مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا کیں۔ باجوہ عمران کو ہٹا کر خود اقتدار ہتھیانا چاہتا تھا۔ لیکن عمران اس حد تک خوش قسمت تھا کہ اقتدار سے بے دخلی کے باوجود اسے جنرل فیض حمید کی صورت میں آئی ایس آئی کی پشت پناہی میسر رہی۔ انہیں فنڈنگ، جلسے جلوس، ریلیوں اور میڈیا کی بھرپور سہولت تن من دھن فراہم کی گئی۔ اس سے پہلے ایسی مثال کسی کے تصور میں نہ تھی۔
تاہم عمران خان نے سب سے بڑی غلطی تب کی جب انہوں نے نئے آرمی چیف کی تعییناتی سے پہلے جنرل فیض حمید کے ساتھ مل کر ادارے پر چڑھائی تاکہ جنرل عاصم منیر کی ممکنہ تعیناتی رُکوائی جائے۔ یوں خان نے اپنے تابوت میں خود کیل ٹھونک ڈالی جو ابھی تک نہیں نکل پائی۔ ان کا کہنا ہے کہ عاصم منیر کی جگہ کوئی اور جرنیل بھی چیف بنتا تو عمران کیساتھ یہی سلوک روا رکھتا کیوں کہ خان کو ٹھکانے لگانا ایک اداراہ جاتی فیصلہ تھا۔ کسی کیلئے ممکن ہی نہیں تھا کہ ادارے کی عمران کے یاتھوں ہونے والی بے حرمتی کو نظر انداز کر سکے۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ اب دو برس سے اڈیالہ جیل میں ہے عمران خان نے اپنی رہائی کے لیے ایک نئی مزاحمتی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ یوتھیوں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک پچھلی تحریکوں سے کچھ مختلف ہو گی کیونکہ اس میں عمران کے دونوں بیٹے بھی حصہ لیں گے۔ لیکن اس چھو منتر کی کیا گارنٹی ہے کہ برطانوی شہریت رکھنے والے بیٹوں کی زیر قیادت حکومت مخالف یا فوج مخالف تحریک کامیاب ہو گی۔ ویسے بھی 26 نومبر 2024 کے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد خان کی جانب سے دی جانے والی تمام احتجاجی کالز مسلسل ناکامی کا شکار ہوئی ہیں۔ ترسیلات زر، جیل بھرو تحریک، اور سول نافرمانی تحریک مسلسل ناکام ہوئی ہیں۔ ایسے میں ایک نئی احتجاجی تحریک کی کامیابی کے امکانات بھی نظر نہیں آ رہے۔ پاکستانی سیاسی تاریخ کا سبق ایک ہی ہے کہ جب تک اپ کا کلہ مضبوط ہے، تب تک آپ کا قلعہ بھی مضبوط ہے اس لیے اپ کو کلے سے بندھ کر رہنا ہوتا ہے۔ یعنی مضبوط کِلہ پاکستانی سیاست کا محور وہ مرکز ہے۔ چنانچہ کِلے کی بنیاد پر اقتدار حاصل کرنیوالوں کو بطلِ حریت بننے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ انہیں اسی کِلے پر گزارا کرنا ہو گا۔
