عمران دوبارہ حکومت کی بجائے فوج سے مذاکرات کی بات کیوں کرنے لگے؟

حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو جہاں محمود خان اچکزئی نے قابل ستائش اور وقت کی ضرورت قرار دیا ہے وہیں بانی پی ٹی آئی نے ایک بار پھر فوجی قیادت کے ترلے کرتے ہوئے صرف اسٹیلبشمنٹ سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔ تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی خی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے کہ وجہ سے لیگی قیادت اپنی مذاکرات کی پیشکش سے پیچھے ہٹتی دکھائی دیتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، نوازشریف نے پی ٹی آئی کو کسی قسم کے مذاکرات کی دعوت دی اور نہ ہی پیشکش کی۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ نوازشریف نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنے کی بات کی،نوازشریف کی تجویز کا سیاسی مذاکرات کی جانب کوئی اشارہ نہیں تھا، پی ٹی آئی کٹی پتنگ کی طرح گھوم رہی ہے، مذاکرات کیلئے جو فضا اور ماحول چاہئے وہ ابھی نہیں ہے، پی ٹی آئی مذاکرات نہیں صرف رعایتیں چاہتی ہے۔ جو نہ تو حکومت دے گی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کسی رعایت کیلئے تیار ہو گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف 9 مئی واقعات کی لٹکتی ہوئی تلوار کو دیکھ کر کبھی ادھر مذاکرات کی بات کرتی ہے اور کبھی ادھر مذاکرات کی بات کرتی ہے، تاہم انھیں کہیں سے این آر او نہیں ملے گا  کیونکہ بانی پی ٹی آئی کی کوئی بھی ضمانت نہیں دے سکتا۔

عرفان صدیقی کا دعوی ایک طرف جبکہ دوسری جانب مذاکرات کی حکومتی پیشکش بارے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ بات ان سے ہوگی جو بااختیار ہیں، اچکزئی حکومت سے مذاکرات کرسکتے ہیں، جب مذاکرات کی بات ہوتی ہے یہ 9 مئی کا شور مچاتے ہیں، 9 مئی ختم ہوا تو انکی حکومت اور سیاست دونوں ختم ہوجائیں گی۔ صرف اسٹیلبشمنٹ سے مذاکرات کے طلبگار عمران خان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی باتیں کرنے والے بوٹ کے آگے لیٹ گئے ہیں۔نواز شریف اڑھائی سال تک ووٹ کو عزت دو کا کہتے رہے، فوج اور مارشل لا پر تنقید کرتے رہے۔ تاہم وقت آنے پر انھوں نے ووٹ کو عزت دینے کی بجائے بوٹ کو عزت دے دی۔ تاہم ناقدین کے مطابق نون لیگی قیادت پر بوٹ کو عزت دینے کا الزام لگانے والے عمران خان شاید بھول گئے کہ وہ ماضی میں بوٹ چاٹ کر فوج کی گود میں بیٹھ کر اقتدار میں پہنچے تھے اور اب بھی وہ صرف عسکری سہاروں کی تلاش میں ہیں اور اسی لئے صرف اسٹیلبشمنٹ سے مذاکرات پر بضد ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی سے مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف والے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے نام پر این آر او مانگ رہے ہیں، رؤف حسن ترلے کررہے ہیں کہ این آر او دے دو۔پی ٹی آئی والے سمجھ لیں جب تک 9 مئی کا حساب کتاب نہیں ہو گا ان سے نہ تو مذاکرات ہونگے اور نہ ہی پی ٹی آئی والوں کو معافی ملے گی۔خواجہ آصف نے کہاکہ پی ٹی آئی والوں نے جن کی گود میں بیٹھ کر پرورش پائی ہے ان کو بار بار گود یاد آجاتی ہے، یہ بھول جاتے ہیں کہ اب نہ باجوہ رہے اور نہ فیض حمید۔خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی والے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، بانی پی ٹی آئی عمران خان بھی صرف فوج سے مذاکرات چاہتے ہیں۔ تاہم انھیں سمجھنا ہوگا یہ نیا نظام ہے، نئی قیادت ہے، پی ٹی آئی والوں کو بھنگ کی طرح عسکری سہارے کے نشے کا ٹھرک لگا ہوا ہے، انہیں بار بار وہی یاد آرہا ہے، اسٹیبلشمنٹ مان جائے تو بھلے پی ٹی آئی والے ان سے مذاکرات کرلیں ورنہ منت کا کوئی اور طریقہ دریافت کرلیں۔

Back to top button