جو لڑائی گاما پہلوان نے چھوڑ دی وہ عمران نے اپنے گلے کیوں ڈالی؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے رستم زمان کا ٹائٹل جیتنے والے برصغیر کے عظیم پہلوان گاما پہلوان کی ایک مثال دیتے ہوئے عمران خان کی سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر لڑائی لڑنے کے لیے نہیں ہوتی، بعض اوقات لڑائی سے بچ جانا بھی بہادری ہوتی ہے، ویسے بھی جو جنگ جیتی نہیں جا سکتی وہ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر عمران خان نے ملک، پارٹی اور اپنی سیاست بچانی ہے تو انہیں اسٹیبلشمنٹ سے اپنی جنگ فوراً بند کرنا ہو گی، ورنہ اس جنگ میں نہ صرف خان بلکہ ریاست کب نقصان ہو جائے گا۔

 

جاوید چوہدری اپنے سیاسی تجزیے میں بتاتے ہیں کہ گاما پہلوان کا اصل نام غلام محمد بخش بٹ تھا جو اپنے زمانے کے رستمِ ہند اور عالمی ہیوی ویٹ چیمپیئن مانے جاتے تھے، ایک روز انہوں نے لاہور کی ایک تنگ گلی میں ایک اڑیل بیل کے حملے سے بچنے کے لیے بھاگ کر ایک گھر میں پناہ لے لی۔ دیکھنے والے اس منظر پر حیران تھے کیونکہ ان کے نزدیک گاما پہلوان وہ شخص تھا جو بیل کو سینگوں سے پکڑ کر زمین پر دے مارتا تھا، مگر یہاں رستمِ ہند بیل سے جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔

 

شام کو جب ان کے ایک شاگرد نے اس واقعی پر مایوسی کا اظہار کیا تو گاما پہلوان نے مسکرا کر جواب دیا کہ میرا اکھاڑہ میدان ہے، گلی نہیں، اور میں پہلوانوں سے لڑتا ہوں بیلوں سے نہیں۔ انہوں نے شاگرد کو سمجھایا کہ زندگی میں ہر جگہ لڑنا بہادری نہیں ہوتی، بعض اوقات جان بچانا، راستہ دینا اور غیر ضروری محاذ سے ہٹ جانا زیادہ دانش مندانہ عمل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں بیل کو گرا بھی لیتا تو مجھے کوئی تمغہ نہیں ملنا تھا، لیکن اگر بیل مجھے گرا دیتا تو میری پوری زندگی کی محنت رائیگاں چلی جاتی۔ اس لیے ہر لڑائی آپ کی لڑائی نہیں ہوتی، اور صرف وہیں لڑنا چاہیے جہاں عزت ہو، اور بے عزتی کا خطرہ نہ ہو۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق یہی بنیادی غلطی عمران خان کر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسی جنگ چھیڑ لی ہے جس میں ان کے لیے نہ کوئی سیاسی فائدہ ہے، نہ عزت میں اضافہ، اور اگر وہ کسی طرح یہ جنگ جیت بھی جائیں تو نتیجہ پھر بھی سیاسی اور ریاستی سطح پر ان کی شکست کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ چوہدری کہتے ہیں کہ عمران بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں؛ ان میں خواب دیکھنے اور ناممکن کو ممکن بنانے کی حیرت ناک صلاحیت ہے، اللہ نے انہیں شہرت بھی دی، وہ ہمت نہیں ہارتے، وہ جیل بھی کاٹ رہے ہیں اور وہ بلاشبہ ایک بہادر انسان ہیں۔ تاہم ان خوبیوں کے ساتھ ان میں چند ایسی بنیادی خامیاں بھی ہیں جو ہر بار ان کی سیاست کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ عمران بہت کمزور ٹیم میکر ہیں۔ وہ جب بھی ٹیم بناتے ہیں تو ہمیشہ ایسے لوگوں کو چنتے ہیں جن کی اہلیت اور تجربہ محدود ہوتا ہے، جیسا کہ عثمان بزدار، محمود خان، علی امین گنڈاپور، سہیل آفریدی اور شہباز گل۔

 

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ایسے ہی لوگ بعدازاں عمران اور تحریک انصاف کے لیے تباہی ثابت ہوتے ہیں اور انکو سیاسی بحرانوں میں دھکیل دیتے ہیں۔

عمران کی دوسری بڑی کمزوری انا اور ضد ہے۔ جاوید چوہدری کے مطابق عمران خان عاجزی سے محروم ہیں اور یہ رویہ ہمیشہ ان کی راہ کا سب سے بڑا پتھر ثابت ہوا۔ تیسری خامی یہ ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ بولتے ہیں۔ سیاست میں خاموشی ایک بڑی طاقت اور حکمت سمجھی جاتی ہے، مگر عمران اس ہتھیار سے محروم ہیں، اور یہ عادت اکثر انہیں خود اپنے ہی بیانیے کا قیدی بنا دیتی ہے۔ عمران کی سب سے سنگین خامی یہ ہے کہ وہ اس وقت ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جو نہ ان کے مفاد میں ہے اور نہ ریاست کے، اور اگر خدانخواستہ وہ جیت بھی گئے تو یہ جیت پاکستان کے لیے تباہ کن ہوگی جبکہ سیاسی طور پر انہیں فائدہ پھر بھی نہیں ملے گا۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق پاکستان ہو یا دنیا کا کوئی اور ملک، اسٹیبلشمنٹ ریاستی ڈھانچے کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔ اگر فوج اور خفیہ ادارے کمزور ہوں تو ملک نہیں بچتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں را اور فوج، اسرائیل میں موساد اور ائیرفورس، امریکا میں سی آئی اے اور نیوی، روس میں کے جی بی اور میزائل فورس اور چین میں پیپلز لبریشن آرمی اور ایم ایس ایس اگر کمزور ہو جائیں تو یہ ممالک بھی نہیں بچ سکتے۔ اسی لیے اگر آپ کسی ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کی فوج اور خفیہ ادارے کمزور کر دیں، وہ ملک خود بخود تباہ ہو جائے گا۔

 

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ عمران یہ حقیقت سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کمزور ہو گئی تو ملک نہیں بچے گا، اور اگر ملک نہ رہا تو عمران خان کس پر حکومت کریں گے۔

انکے مطابق پاکستان کی تاریخ میں جتنی رعایتیں، سہولتیں اور مواقع عمران خان کو دیے گئے اتنے کسی اور لیڈر کو نہیں ملے، حتیٰ کہ بانیٔ پاکستان کو بھی نہیں۔ جناح اپنی آخری سانسیں فٹ پاتھ پر اس عالم میں لیں کہ فاطمہ جناح انہیں گتے کے ٹکڑے سے ہوا دے رہی تھیں، جبکہ عمران آج بھی تمام تر سخت بیانات اور اقدامات کے باوجود جیل میں غیر معمولی سہولتیں رکھتے ہیں، دیسی خوراک سے لے کر ورزش تک کی اجازت ان کے پاس ہے۔ آج بھی ایک صوبے میں ان کی حکومت قائم ہے، ان کی پارٹی پورے ملک میں موجود ہے، اور سوشل میڈیا پر وہ زبان استعمال کی جاتی ہے جو کسی دور میں ممکن نہ تھی اور ریاست خاموش رہتی ہے۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق بھٹو ہوں، نواز شریف ہوں یا الطاف حسین، ان سب کو محض ایک ایک جملے کی وجہ سے سخت سزائیں بھگتنا پڑیں، مگر عمران نے بہت کچھ کہا اور کیا، اس کے باوجود وہ آج بھی سسٹم کے لاڈلے دکھائی دیتے ہیں۔ جاوید مزید لکھتے ہیں کہ یہ حقیقت بھی ماننی چاہیے کہ تحریک انصاف سو فیصد اسٹیبلشمنٹ کی بنائی ہوئی پارٹی تھی۔ عمران کو سیاست میں لانے کا سہرا جنرل حمید گل کے سر تھا، انکی پارٹی کی رجسٹریشن جنرل مجیب الرحمن نے کرائی، قومی اسمبلی کی پہلی نشست جنرل پرویز مشرف نے دلوائی، 2013 میں انہیں 35 نشستیں جنرل ظہیر الاسلام کے ذریعے ملیں، 2018 میں انہیں وزارتِ عظمیٰ جنرل باجوہ نے دلوائی، حکومت کو چلانے اور بچانے کا کام جنرل فیض حمید نے کیا، اور 2024 میں کے پی میں حکومت بننے کا ذمہ دار بھی اسٹیبلشمنٹ کو ٹھہرایا جاتا رہا۔

آفریدی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے لیے بڑا چیلنج کیوں بن گئی؟

جاوید چوہدری کے مطابق تحریک انصاف کی 90 فیصد قیادت کے فوجی کنکشن ہیں، اس کے باوجود عمران خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جنرل باجوہ کو میر جعفر اور میر صادق کہہ دیتے ہیں، جنرل عاصم منیر کو ذہنی مریض قرار دیتے ہیں اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم ہوتے کون ہو۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کی موجودہ لڑائی ایسی ہے جو کسی صورت ان کے حق میں نہیں جا سکتی۔ اگر وہ ہار گئے تو سیاسی طور پر ختم ہو جائیں گے، اور اگر جیت گئے تو ریاست کمزور ہو گی جس کا نقصان پورے پاکستان کو ہوگا۔ انہوں نے لکھا کہ دنیا میں حماقت پرکھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ دیکھیں آپ کی غلطی پر کون تالیاں بجا رہا ہے۔ اگر وہ آپ کا دوست ہے تو سمجھ جائیں وہ دشمن ہے، اور اگر دشمن ہے تو سمجھ جائیں کہ آپ اس کا فائدہ کر رہے ہیں۔ جاوید چوہدری کے مطابق خان کو دیکھنا چاہیے کہ ان کی غلطیوں پر پارٹی کے اندر کون واہ واہ کر رہا ہے اور بھارت اور طالبان کیوں ان کے بیانیے پر خوش ہو رہے ہیں۔ انہوں نے گاما پہلوان کی نصیحت دہراتے ہوئے کہا کہ ہر لڑائی لڑنے کے لیے نہیں ہوتی، بعض سے بچ جانا بھی بہادری ہے، اور جو جنگ جیتی نہیں جا سکتی وہ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر عمران خان نے ملک، پارٹی اور اپنی سیاست بچانی ہے تو انہیں یہ جنگ فوراً بند کرنا ہو گی، ورنہ اس جنگ میں دونوں کا بڑا نقصان ہو جائے گا۔

Back to top button