مذاکرات کی ٹرین گزر جانے کے بعد عمران کو بات چیت کا خیال کیوں آیا؟

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو مذاکرات کی ٹرین گزر جانے کے بعد یہ خیال آیا ہے کہ انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرنی چاہیے لہذا انہوں نے اپنے رابطہ کاروں کے ذریعے یہ خواہش ظاہر کر دی ہے، لیکن خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ کو بھی خان صاحب کے ساتھ مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں رہ گئی لہذا کوئی مثبت پیش رفت ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران خاموشی اختیار کر کے بھارت کے ساتھ امیدیں وابستہ کر لی تھیں لیکن افواج پاکستان کے ہاتھوں بھارتی افواج کو شکست فاش کے بعد نہ صرف مودی کی امیدوں پر پانی پھر گیا بلکہ عمران خان بھی فارغ ہو گے۔ اب جبکہ خان صاحب کو جیل سے نکلنے کی کوئی امید نظر نہیں اتی تو انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو مذاکرات کا پیغام بھیج دیا ہے۔اس حوالے سے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے مسلسل بدلتے سیاسی موقف اور متضاد بیانات نے تحریک انصاف کی قیادت کو الجھن، مایوسی اور تقسیم میں مبتلا کر دیا ہے۔
انصار عباسی بتاتے ہیں کہ اگلے روز اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے والے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما نے بتایا ہے کہ عمران نے عسکری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کے راستے کھولنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پارٹی کو اعلیٰ حکام کے ساتھ مذاکرات کے امکانات تلاش کرنے کیلئے ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔ تاہم، ساتھ ہی عمران خان نے واضح سرخ لکیر کھینچتے ہوئے کہا کہ حکومت یا حکمران جماعت نون لیگ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں سے بات ہوگی۔
اس کے باوجود، بمشکل 24 گھنٹے ہی گزرے تھے کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دیے جانے کے اقدام پر تنقید کر دی۔ بدھ کو عمران سے جیل میں ملاقات کرنے والی ان کی بہنوں کے مطابق، پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین نے طنزاً کہا کہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بننے کے بجائے خود کو ’’بادشاہ‘‘ قرار دے دینا چاہئے تھا۔ اس تازہ تبصرے نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں میں مایوسی کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ ایک سینئر پی ٹی آئی رہنما نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران اسٹیبلشمنٹ کی اعلیٰ ترین قیادت پر اس طرح کھلے عام تنقید کرتے رہے تو فوجی اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کے ساتھ کیوں بات کرے گی اور با معنی مذاکرات کیسے ممکن ہونگے؟
پارٹی کی الجھن میں تب مزید اضافہ ہوا جب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے میڈیا کو خان کے عاصم منیر مخالف بیان سے آگاہ کیا، لیکن اس سے پہلے ہی پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دیے جانے پر جنرل عاصم کو مبارکباد پیش کر چکے تھے۔ پی ٹی آئی کے ایک مایوس رہنما نے اعتراف کیا کہ ہمارے طرز عمل میں کوئی ہم آہنگی نہیں، ایک دن عمران خان ہمیں ایک بات کہتے ہیں، اگلے دن کوئی مختلف بات کہتے ہیں۔ حتیٰ کہ سیاسی مضمرات سے ناواقف اُن کی بہنیں عمران خان کے جذبات اور اشتعال کو میڈیا کے سامنے اسی طرح بیان کرکے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کرتی ہیں۔
ایک پارٹی رہنما کے مطابق، ایسا کرنے سے ان کے اپنے بھائی کیلئے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے کچھ سینئر ارکان نے عمران خان کے تازہ ترین ریمارکس کے اثرات و نتائج پر غور کیلئے آپس میں رابطہ کیا اور مختلف خدشات کا اظہار کیا گیا کہ جب عمران خان کے موقف میں ہم آہنگی نہیں تو ایسی صورت میں پارٹی میں اندرونی سطح پر اتفاق رائے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انصار عباسی کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک دلچسپ بات سامنے آئی کہ عمران خان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی نئی پیشکش کے بعد پی ٹی آئی کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ لیکن، پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کی میٹنگ کے دوران ایک اور یو ٹرن لیتے ہوئے عمران خان نے دعویٰ کیا کہ یہ محض غلط فہمی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کبھی بھی یہ نہیں تھا کہ ان کی پارٹی نون لیگ کی اتحادی حکومت سے مذاکرات کرے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی مذاکرات صرف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہوں گے، حکومت کے ساتھ نہیں۔
کنگلے معید پیرزادہ نے امریکہ میں 30 کروڑ کا گھر کیسے خرید لیا؟
پی ٹی آئی کے ایک لیڈر نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایسے حالات میں ہم کیا کریں، ہم پھنس گئے ہیں، ہمارا لیڈر ایک بات کہتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ میرا مطلب وہ نہیں تھا، اور پھر اُن کے خاندان کے ارکان کے تبصرے جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ عمران خان کی قانونی مشکلات ختم ہونے اور سیاسی تنہائی جاری رہنے کے ساتھ، پارٹی کا اندرونی خلفشار غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی آگے بڑھنے کا متفقہ راستہ طے کر سکتی ہے یا عمران خان خود اس کی اجازت دیں گے۔
