تبدیلی کا نعرہ لگانے والے عمران نوٹوں کی سیاست کے اسیر کیوں بنے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کا نصرت جاوید نے کہا ہے کہ حالیہ سینٹ الیکشن میں عمران خان کی جانب سے قربانیاں دینے والے پارٹی ورکرز کی بجائے اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے امرا کو ٹکٹ دینے کے عمل نے ثابت کر دیا ہے کہ اب یہاں صرف مک مکا کی سیاست چلے گی اور اصولی سیاست قصہ پارینہ بن چکی یے۔

نصرت جاوید اپنے سیاسی تجزیے میں لکھتے ہیں کہ 2011 ہم سب کو یہ امید دلائی گئی تھی کہ کرکٹ کی وجہ سے کرشمہ ساز ہونے والے عمران خان اقتدار میں باریاں لینے والی’’بدعنوان اور نااہل‘‘ سیاسی جماعتوں سے پاکستان کو نجات دلاکر تبدیلی لائیں گے۔ چنانچہ پاکستانی عوام خصوصا نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے انہیں اپنا قائد مان کر ان کے پیچھے چلنا شروع کر دیا حالانکہ وہ تو اسٹیبلشمنٹ کا کھیل کھیلنے جا رہے تھے جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی جانب سے فوج مخالف چارٹر آف ڈیموکریسی سائن کرنے پر غصے میں تھی۔

اصل مسئلہ یہ تھا کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے 20 برس تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی قیادت کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہوئے کم از کم چار جمہوری حکومتوں کا خاتمہ کروایا تھا۔ کبھی بے نظیر بھٹو کو نواز شریف کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا اور کبھی نواز شریف کو بے نظیر بھٹو کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا اور پھر صدر کے عہدے پر براجمان اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ چپکے سے اسمبلی توڑ دیا کرتا تھا۔ یوں سارا کھیل فوج کے ہاتھ میں رہتا تھا۔

جب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادت کو اسٹیبلشمنٹ کا یہ کھیل سمجھ آ گیا تو جلا وطنی کاٹنے والی بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے سال 2006 میں لندن میں ایک میثاق جمہوریت پر دستخط کر دیے۔ یہی وہ وقت تھا جب فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان نامی اپنا گھوڑا میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔ 2018 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو بڑی شکست سے دوچار کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کا آر ٹی ایس سسٹم بٹھا دیا گیا اور عمران خان کو دھاندلی زدہ الیکشن کے نتیجے میں وزارت عظمی پر بٹھا دیا گیا۔

عمران خان کے برسر اقتدار آتے ہی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ائی ایس ائی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ان کے ساتھ مل کر ایک ہائبرڈ نظام حکومت تشکیل دیا۔ اس سسٹم میں عمران خان نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرنا تھا، لیکن موصعف پانچ برس کی آئینی مدت بھی مکمل نہ کر پائے۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ موصوف نہایت نا اہل اور کم عقل ہونے کے باوجود قمر جاوید باجوہ کی ’’مشاورت‘‘ سے آزاد ہونا چاہتے تھے۔ عقل کے اندھے کپتان نے بالاخر اپنی بے وقوفانہ سازشوں کے ذریعے اسی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کر دیا جو اسے اقتدار میں لے کر آئی تھی۔

اس دوران عمران نے یہ منصوبہ بھی بنایا کہ وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ان کے منصب سے ہٹاکر جنرل فیض حمید کو ان کی جگہ نیا آرمی چیف نامزد کر دیں۔ عمران خان کا خیال تھا کہ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اگلے دس برس تک بادشاہی اختیارات والے وزیر اعظم بن جائیں گے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اسٹیبلشمنٹ نے کپتان کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا اور پھر پاکستانی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ ایسے وزیراعظم بن گئے جو قومی اسمبلی کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارت عظمی سے فارغ ہو گئے۔

نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ بانی تحریک انصاف نے اپنی برطرفی کے بعد عوام میں ’’انقلابی روح‘‘ بیدار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن بڑا مسئلہ یہ تھا کہ جن قوتوں کے زور پر وہ 2018 میں انتخابی انقلاب لا کر برسر اقتدار آئے تھے وہ ان سے روٹھ چکی تھیں۔ بالآخر خان صاحب فوج میں بغاوت کی سازش کے الزام پر گرفتار ہوئے اور اب دو سال سے پابند سلاسل ہیں۔ جیل میں بیٹھے بھی وہ مقبول تر رہے کیونکہ بظاہر وہ اپنی رہائی کے لئے کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور وہ روزانہ رہائی کے لیے ڈیل کی کوئی نہ کوئی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ تاہم اب پھولوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہ چکا ہے اور اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پر ایسا کوئی دباؤ نہیں کہ وہ عمران خان کو رہا کرنے کا سوچیں۔

حالات یہ ہیں کہ تحریک انصاف پیپلز پارٹی اور نون لیگ مل کر الیکشن لڑتے ہیں جس کی تازہ مثال خیبر پختون خواہ اسمبلی کا حالیہ سینٹ الیکشن تھا۔ خیبر پختون خواہ اسمبلی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپوزیشن کی ان ہی جماعتوں کے ساتھ مصالحتی فارمولے کی بدولت 6/5 کے تناسب سے 11 اراکین سینٹر بنوائے جنہیں عمران خان تواتر سے چور اور لٹیرے کہتے رہتے ہیں۔ لہذا سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہش مند تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن محض بڑھکیں لگاتے رہ گئے۔ سینیٹ کے انتخاب نے ثابت کیا ہے تو فقط اتنا کہ ’’ہم ہوئے-تم ہوئے کہ میر ہوئے- سب اسی مک مکا کی سیاست کے اسیر ہوئے‘‘۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ تحریک انصاف سمیت ہر بڑی سیاسی جماعت نے سینیٹ کے ٹکٹ دیتے ہوئے ATM قرار پانے والے رئیس سیٹھوں کو ترجیح دی۔ ان سب جماعتوں نےننظریات کوڑے دان میں پھینک دیے۔ اپنی سیاست کے کئی برس ’’دینی‘‘ جمعیت العلمائے اسلام کی نذر کرنے والے طلحہ محمود اب پیپلز پارٹی جیسی دنیاوی جماعت کے نامزد کردہ سینیٹر ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس ڈھیروں دولت موجود ہے جو انہیں سینٹ کا ٹکٹ خریدنے کی اہل بناتی ہے۔ اسی طرح سدابہار دلاور خان مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر سینیٹ میں آئے تھے لیکن اب انہوں نے اپنے نوٹوں کے زور پر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن گروپ کا ٹکٹ خرید لیا ہے۔

Back to top button