صادق اور امین قرار پانے والے عمران لالچی اور کرپٹ کیوں ہو گئے؟

 

 

 

معروف صحافی رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ دنیا کا سب سے مشکل کام لالچ پر قابو پانا ہے، خاص طور پر تب جب انسان اقتدار، طاقت اور اختیار کے عروج پر ہو۔ اقتدار میں بیٹھا شخص ایک ایسے کمزور لمحے سے گزرتا ہے جہاں یا تو وہ خود کو روک لیتا ہے یا پھر لالچ کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لیے بدعنوانی کی مثال بن جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا ایمان بھی ایسے ہی ایک کمزور لمحے میں ڈگمگا گیا چنانچہ اب انہیں ایک کے بعد دوسرے توشہ خانہ کرپشن ریفرنس میں بھی قید کی سزا ہو گئی ہے۔ توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا عمران واقعی ماضی کے حکمرانوں سے مختلف تھے یا انہوں نے اقتدار میں آ کر وہی راستہ اختیار کیا جو نواز شریف، آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی اور دیگر حکمرانوں نے کیا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی گئی، اس سزا کی بنیاد وہ قیمتی جیولری سیٹ بنا جو 2021ء میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کو بطور وزیراعظم دورۂ سعودی عرب کے دوران تحفے میں دیا تھا۔

 

رؤف کلاسرا کے مطابق عمران خان پر الزام یہ نہیں تھا کہ انہیں تحفہ ملا، بلکہ الزام یہ تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اس قیمتی جیولری سیٹ کو توشہ خانے سے انتہائی کم قیمت پر حاصل کر کے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ عمران خان کا یہ دفاع کہ انہوں نے قانونی طریقے سے رقم ادا کر کے سیٹ رکھ لیا تھا، تاہم ایک تو حقیقت یہ نہیں اور دوسرا اخلاقی طور پر بھی انکا یہ موقف قابلِ قبول نہیں تھا، کیونکہ وہ خود بارہا یہ دعویٰ کر چکے تھے کہ وہ زرداری اور شریف جیسے حکمران نہیں ہیں اور ان سے مختلف سیاست کریں گے۔

 

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ یہی تھا کہ عمران خان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ توشہ خانہ کے متنازع نظام کو ختم کریں گے، نہ کہ اسی نظام سے فائدہ اٹھائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ توشہ خانہ کے بائی لاز وزیراعظم خود بناتا ہے اور انہی قوانین کے تحت تحائف کو قانونی شکل دے دی جاتی ہے۔ لیکن عمران خان نے بھی بطور وزیراعظم انہی قوانین سے فائدہ اٹھایا، جس طرح ان سے پہلے حکمران فائدہ اٹھاتے رہے تھے۔ انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے بھی وہی راستہ اختیار کیا جو ماضی میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں اختیار کیا گیا تھا۔

 

کلاسرا یاد دلاتے ہیں کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر لیک ہونے والی ایک آڈیو میں بشریٰ بی بی نے اپنے سٹاف کو اس بات پر سخت برا بھلا کہا کہ عمران خان کے ملٹری سیکرٹری کی جانب سے بنی گالہ بھجوائے گئے تحائف کی تصاویر کیوں لی گئیں، حالانکہ اصولی طور پر یہ تحائف پہلے کابینہ ڈویژن میں جانے چاہئیں تھے، وہاں ان کی قیمت لگتی اور پھر وزیراعظم یا ان کی اہلیہ کو دیے جاتے۔ ان تحائف کو بغیر کسی ریکارڈ کے بنی گالہ منتقل کرنا قواعد کی صریحا خلاف ورزی تھی لیکن بشری بی بی نے اسی بات پر اپنے سٹاف کو اچھی خاصی سنائی اور ایک افسر کا تو وزیراعظم ہاؤس میں داخلہ ہی بند کر دیا۔

 

رؤف کلاسرا کے مطابق عمران خان کے حامیوں کی یہ دلیل کہ ان سے پہلے بھی تمام حکمران تحائف لیتے رہے ہیں، ایک نہایت کمزور اور بوگس دلیل ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ عمران خان خود کو ان حکمرانوں سے مختلف قرار دیتے تھے، پھر انہوں نے انہی کا روٹ کیوں اپنایا؟ اگر ماضی کے حکمران توشہ خانہ کے ذریعے ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے تھے تو عمران خان کو اس نظام کا خاتمہ کرنا چاہیے تھا، نہ کہ خود اس کا حصہ بننا چاہیے تھا۔ یہ وہ باریک نکتہ ہے جسے نہ عمران خان سمجھ سکے اور نہ ہی ان کے فین کلب نے ابھی تک سمجھا ہے اور اسی لیے وہ ابھی تک یہ موقف اختیار کیے بیٹھے ہیں کہ عمران خان کو توشہ خانہ ریفرنس میں دی گئی سزا غلط ہے۔

 

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ توشہ خانہ میں بے ضابطگیوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اگر سب سے زیادہ تحائف لینے والے حکمران کا ذکر کیا جائے تو سابق وزیراعظم شوکت عزیز کا نام سرفہرست آتا ہے، جنہوں نے نو برس میں 1126 تحائف وصول کیے، جن کی کم از کم مالیت اُس وقت 25 کروڑ روپے لگائی گئی۔ ان تحائف میں قیمتی جیولری، ہیرے جواہرات اور درجنوں رولیکس گھڑیاں شامل تھیں، جنہیں چند ہزار روپے ادا کر کے ذاتی تحویل میں لے لیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور کا توشہ خانہ کا باقاعدہ ریکارڈ ہی موجود نہیں رہا کیونکہ مشرف دور میں تما تحائف کابینہ ڈویژن کو رپورٹ کرنے کے بجائے براہِ راست آرمی ہاؤس منتقل کیے جاتے رہے۔ اسی طرح سعودی عرب کے شاہی خاندان کی جانب سے جنرل مشرف کی اہلیہ کو دیا گیا کروڑوں روپے مالیت کا ایک قیمتی جیولری باکس انتہائی کم قیمت لگا کر توشہ خانے سے نکلوا لیا گیا۔ نواز شریف، یوسف رضا گیلانی، چودھری شجاعت حسین، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کے ادوار میں بھی قیمتی تحائف، گاڑیاں اور زیورات توشہ خانہ سے معمولی ادائیگی پر حاصل کیے جاتے رہے۔ یوسف رضا گیلانی کے ترکش ہار کیس اور نواز شریف کے خلاف توشہ خانہ قوانین میں ردوبدل کے مقدمات اسی روایت کی مثالیں ہیں۔

رؤف کلاسرا کے مطابق عمران خان اس طرح کے تمام کیسز اور سکینڈلز سے پوری طرح آگاہ تھے۔ وہ ہر تقریر اور انٹرویو میں نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی توشہ خانہ لوٹ مار کو بطور مثال پیش کرتے تھے۔ جب عمران خان وزیراعظم بنے تو ان تمام رہنماؤں کے خلاف توشہ خانہ کے مقدمات پہلے ہی قائم تھے۔ اس کے باوجود عمران نے بطور وزیراعظم پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا کیا، جہاں انہیں حسبِ روایت نہایت مہنگے تحائف دیے گئے، جن میں وہ قیمتی جیولری سیٹ بھی شامل تھا جو بعد ازاں دبئی میں کروڑوں روپے میں فروخت ہوا۔

یوتھیوں کے مطالبے کے باوجود PTI اسلام آباد کی جانب مارچ سے انکاری کیوں؟

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان کے پاس ایک تاریخی موقع تھا۔ وہ چاہتے تو زیورات، ہیرے، مہنگی گھڑیوں اور دیگر قیمتی تحائف لینے سے انکار کر کے ایک نئی مثال قائم کر سکتے تھے، لیکن وہ اسی چمک کا شکار ہو گے جس کا شکار مشرف، شوکت عزیز، گیلانی اور نواز شریف ہوئے۔ افسوس کہ عمران خان اس کمزور لمحے میں خود کو روک نہ سکے اور لالچ ان پر غالب آ گیا۔ نتیجتاً توشہ خانہ ٹو کیس میں انہیں دی گئی سزا کو محض ایک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ اقتدار میں اخلاقی ناکامی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خود کو مختلف کہنے سے کوئی مختلف نہیں بن جاتا، اصل فرق مشکل وقت میں درست فیصلہ کرنے سے پڑتا ہے۔

Back to top button