آرمی چیف کی شٹ اپ کال کے باوجود عمران نے چوتھا خط کیوں لکھ ڈالا؟

عسکری قیادت کے نام لکھے گئے تین خطوط پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے منہ توڑ جواب آنے کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان نے شرمندہ ہونے کی بجائے چوتھا خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران خان جلد عسکری قیادت کے نام ایک اور خط جاری کرنے والے ہیں۔ دوسری طرف سے جیسا مرضی جواب آئے عمران خان کی جانب سے خطوط لکھنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
خیال رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اب تک 3 خط لکھ چکے ہیں۔ عمران خان کی طرف سے پاک فوج کے سربراہ کو پہلا خط 3 فروری کو لکھا گیا تھا جس میں عمران خان نے پاک فوج کے سربراہ سے پالیسیوں میں تبدیلی کی اپیل کی تھی۔
بانی پی ٹی آئی نے دوسرا خط 8 فروری کو لکھا تھا جس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ گن پوائنٹ پر 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضہ کیا گیا۔خط میں کہا گیا تھا کہ مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے اور 20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی۔ تیسرا خط رواں ہفتے لکھا گیا جس کی تصدیق عمران خان کے وکیل فیصل چودھری نے اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کے دوران کی۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے خط میں مبینہ انتخابی دھاندلی کا معاملہ اٹھایا ہے اور دہشت گردی کی وجوہات پربات کی ہے ۔ تاہم آرمی چیف نے 12 فروری کے روز دو جملوں میں عمران خان کے تینوں خطوط کا جواب دے دیا تھا کہ وہ خطوط کی چال سے اچھی طرح واقف ہیں اسی لئے اگر انھیں کوئی خط ملا بھی تو وہ بغیر پڑھے وزیر اعظم کو بھجوا دینگے۔
مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آرمی چیف کو خطوط بھجوانے کے دعوے اورمسلح افواج کے سربراہ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان رانگ نمبر ڈائل کر رہے ہیں اور جانتے بوجھتے ہوئے کہ اس کا اثر نہیں ہوگا پھر بھی وہ خاص تاثر کیلئے سرگرم ہیں لیکن آرمی چیف کی وضاحت نے سب کچھ الٹا کر رکھ دیا ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بانی پی ٹی آئی کیلئے رانگ نمبر بن گئی اور جواباً یہ پیغام ضرور چلا گیا ہے کہ جہاں یہ خط جانا چاہئے تھا وہاں بھجوائیں جو رانگ نمبر آپ ڈائل کر رہے ہیں وہاں سے کوئی جواب ملنے والا نہیں۔ ویسے بھی قانونی ماہرین کے مطابق فوجی سربراہ کو قومی ایشوز بارے ا یسے خط لکھنا کسی طرح بھی ملکی مفاد میں نہیں۔ تاہم یہاں پر بڑا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر ان مکتوبات کی ضرورت ہی کیوں محسوس کی گئی ۔ کیا بانی پی ٹی آئی یہ سوچ رہے تھے کہ ان کیلئے کوئی ایسا راستہ کھل پائے گا جسکی آئین کسی ریاستی ادارے کو اجازت نہیں دیتا۔ سینئر صحافی سلمان غنی کے مطابق مکتوبات کی تفصیلات اور اسکے نکات کا جائزہ لیا جائے تو ایک طرف وہ فوجی سربراہ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف عمران خان عسکری قیادت کو باقاعدہ چارج شیٹ کرتے نظر آتے ہیں۔بانی مکتوبات سے نفسیاتی کیفیت طاری کرنیکی کوشش کر رہے ہیں مگر سکیورٹی ذرائع نے پہلے روز ہی واضح کر دیا تھا کہ یہ مشق درست نہیں اگر قومی ایشوز پر بات کرنا ہے تو حکومت سے رجوع کرنا چاہئے اس کے باوجود عمران خان نے دباؤ بڑھانے کی کوشش جاری رکھی اور ایک کے بعد دوسرا پھر تیسرا مکتوب سامنے آگیا۔ جس کے بعد آرمی چیف کا جواب سامنے آ گیا۔
خیبر پختونخواہ کے بعد دہشت گرد بلوچستان میں بھی مضبوط ہونے لگے
سلمان غنی کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے جواب سے ظاہر ہو رہا ہے وہ اس عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے جس میں بانی انہیں ملوث کرنا چاہتے ہیں ۔سیاسی ماہرین جوابی وضاحت کوبانی کیلئے بڑا پیغام قرار دے رہے ہیں مگر دوسری جانب پی ٹی آئی حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ بانی کا چوتھا مکتوب بھی سامنے آ سکتا ہے اور ہو سکتا ہے وہ یہ سلسلہ جاری رکھیں کیونکہ وہ سیاسی محاذ پر ریلونٹ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں اورسمجھتے ہیں اس طرح سکیورٹی اداروں پر دباؤ جاری رہے گا ۔ تاہم مبصرین کے مطابق فوجی سربراہ کی وضاحت کے بعد مزید مکتوب لکھنا بیوقوفی ہی ہوگی اور یہ عمل نتیجہ خیز ہونے کی بجائے الٹا بھی پڑ سکتا ہے ۔
بعض دیگر تجزیہ کاروں کا بھی ماننا ہے کہ عمران خان کو عسکری قیادت کے نام تسلسل سے خط لکھنے کی ضرورت نہیں تھی،تاہم دیکھا جائے تو خط لکھنا بھی سیاسی سرگرمی ہے ،ان خطوط سے میڈیا پر پروگرام اور تبصرے ہورہے ہیں،اس وقت تحریک انصاف کیلئے سب راستے بند ہیں،خط سیاسی طور پر موضوع بحث بنتاہے تو عمران خان اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ تاہم تجزیہ کار سلیم بخاری کے مطابق عمران خان کے پہلے خط کا جس طریقے سے فوج کی قیادت کا جواب آیا تھا،اسکے بعد عمران خان کو خط نہیں لکھنا چاہئے تھا،اب انہوں نے دوسرا خط لکھا تو فوج کا سخت جواب آیا،تیسرے خط کا جواب بھی سخت سے سخت آیا، اب عمران خان چوتھا لکھنے پر بضد ہیں،سمجھ نہیں آرہا کہ وہ بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں،ان کو بات کیوں نہیں سمجھ آرہی،اب وہ دن چلے گئے جو فوجی قیادت یا عدلیہ کی طرف سے سہولت کاری ہوگی، اس وقت فوجی قیادت عمران خان سے بات نہیں کرنا چاہتی۔ اس وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی میں عمران خان کسی جگہ reflect نہیں کرتے۔عمران خان سے نہ کسی نے بات کی تھی نہ آج اسٹیبلشمنٹ کی ان سے کوئی بات ہورہی ہے نہ آگے کسی کا بات کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔عمران خان جتنے مرضی خطوط لکھیں فی الحال آگے سے کوئی جواب نہیں آئے گا۔ جبکہ خطوط کے بعد جو تلخی موجود تھی اس میں مزید اضافہ ہی ہو گا۔ فی الحال کوئی معاملہ درست ہوتا نظر نہیں آرہا۔ عمران خان باؤنڈری سے باہر چلے گئے ہیں ۔موجودہ اسٹیبلشمنٹ اور امپائرکے ہوتے ہوئے عمران خان کی گنجائش نظر نہیں آتی۔
