عمران کی عوامی انقلاب کی امید دیوانے کا خواب کیوں ثابت ہوئی؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے 9 مئی سے شروع ہونے والا غلطیوں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ بانی پی ٹی آئی مشیران کے مشورے پر مسلسل انقلاب اور احتساب کی باتیں کر رہے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملکی حالات بدل چکے ہیں۔ اس لئے مستقبل قریب میں کسی انقلاب کی کوئی امید نہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ خط لکھنا عمران خان کا حق ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مظلوم فریق ہیں۔اُن کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ حالانہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی جانب سے جو غلطیاں نو مئی سے شروع ہوئیں وہ اب تک جاری ہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق کے بقول، عمران خان کے مشیر جیل میں انہیں بتاتے ہیں کہ سارا پاکستان تیار ہے اگر عمران خان کہیں تو کل انقلاب آ جائے جبکہ حقیقت میں پارٹی کی موجودہ قیادت ٹھیک نہیں ہے۔
سہیل وڑائچ کے بقول جیل میں موجود عمران خان بطور قائد، حقیقت پر مبنی تجزیہ نہیں کر پا رہے۔ جس کے باعث وہ مسلسل انقلاب اور احتساب کی باتیں کر رہے ہیں اور ان سے فیصلے بھی غلط ہو رہے ہیں۔تجزیہ کار سہیل ورائچ سمجھتے ہیں کہ اِس وقت پاکستان تحریکِ انصاف میں کوئی تنظیم سازی نہیں ہے اور وقت کے ساتھ اِنہوں نے اِس پر کوئی توجہ بھی نہیں دی۔ اِس وقت جماعت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ارکانِ اسمبلی کے ذریعے ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تنظیم سازی نہ ہونے کے سبب عمران خان کی نہ تو پارٹی پر گرفت ہے اور نہ کارکنوں پر، جس کے سبب پی ٹی آئی بطور جماعت جب بھی کسی احتجاج یا جلسے کا اعلان کرتی ہے تو کوئی بھی اُسے سنجیدہ نہیں لیتا۔
سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ یہ صورتِ حال صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں بلکہ ملک سے باہر بھی ہے۔ عمران خان کے لوگ سیاسی اعتبار سے تھک چُکے ہیں۔تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو سیاسی اقدامات لینے چاہئیں لیکن وہ نہیں لے رہے۔ حکومت سے مذاکرات کے دوران جتنی گنجائش ملتی اُس سے فائدہ اُٹھاتے اور آگے بڑھتے۔ تاہم پی ٹی آئی نے یہ چانس مس کر دیا۔اُنہوں نے کہا کہ سیاسی اتحاد بنانے میں عمران خان نے بہت دیر کر دی ہے لیکن اَب جو سیاسی اتحاد بنا ہے اُس میں تضادات اتنے ہیں کہ وہ کیسے حل ہوں گے۔
سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ پوری دنیا میں آگے بڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے اور وہ ہے صبر، صبر کے ساتھ منصوبہ بندی۔ پی ٹی آئی کو اب جتنی جگہ ملتی ہے وہ لے لینی چاہیے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ان کے بقول، پاکستان میں سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ پاکستان کوئی مثالی جمہوری ملک نہیں ہے جہاں جو جیتے گا وہی آ جائے گا۔ یہاں ایک ہائیبرڈ سسٹم ہے۔ یہاں اسٹیبلشمنٹ کو اور اسٹیک ہولڈرز کو جگہ دینی پڑتی ہے۔ عمران خان اس حقیقت کو تسلیم کرکے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب عمران خان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اور بانی پی ٹی آئی کی جانب لکھے گئے خطوط بارے کالم نویس اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی سمجھتے ہیں کہ عمران خان اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اُن کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ عمران خان کو پاکستانی فوج اور عدلیہ سے شکایات ہیں اور اِنہی شکایات کا اظہار ان کی جانب سے آرمی چیف اور چیف جسٹس کے لکھے گئے خطوط سے ہو رہا ہے۔تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کی رائے میں عمران خان کی بات کی شنوائی ہو یا نہ ہو لیکن وہ اپنا مقدمہ لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور رائے عامہ کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کر رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ جو زیادتیاں ہو رہی ہیں وہ بتا رہے ہیں اور الزامات بھی لگا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اَب حکومت، اداروں یا متعلقہ افراد کا کام ہے کہ وہ الزامات کا جواب دیں
کالم نویس اور تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ خان صاحب کا یہ خیال ہے کہ اسلام آباد میں طاقت کے حلقوں تک پہنچنے کا راستہ سیاسی نہیں ہے اور اُنہیں کسی بھی سیاسی راستے سے کوئی ریلیف ملنے والا نہیں جب کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی منظر نامہ بھی تبدیل ہو چکا ہے۔سلیم بخاری کے مطابق فوج کہہ چکی ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی ڈائیلاگ کا حصہ نہیں بنے گی اور اس کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ گو کہ یہ بات سو فی صد ٹھیک ہےیا نہیں یہ ایک الگ بات ہے۔تجزیہ کار سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ سیاسی جدوجہد کے راستے اختیار کریں۔ پارلیمنٹ میں اپنا دباؤ بڑھائیں۔ لیکن وہ اِس قوت کو جمہوری انداز میں استعمال نہیں کر پا رہےجس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں یہ راستہ اختیار کرنے سے نتائج جلد سامنے نہیں آئیں گے۔
تجزیہ کار اور کالم نویس سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ عمران خان اپنے خطوط سے ملک میں ایک نفسیاتی کیفیت طاری کرنا چاہ رہے ہیں۔ وہ خود بھی اِسی کیفیت کا شکار ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان فوج کے اندر ایک کنفیوژن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ جب سے عدمِ اعتماد س کے ذریعے اُن کی حکومت ختم ہوئی ہے اس کے بعد سے اُن کا خیال تھا کہ وہ جارحانہ پوزیشن اختیار کر کے ریاست کو ایک دفاعی پوزیشن پر لے جائیں گے، لیکن ایسا اب تک نہیں ہو سکا ہے۔سلمان غنی کے مطابق عمران خان فوجی قیادت کو خطوط لکھ کر جو باتیں کر رہے ہیں اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ فوج اپنے سپہ سالار کے ساتھ ہوتی ہے۔ سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ سیاسی قوتوں کے پاس ایک ہی راستہ ہوتا ہے اور وہ سیاسی قوتوں کو ساتھ ملانے کا ہے۔سیاسی قوتوں کے پاس کوئی فوج نہیں ہوتی، اِن کے پاس سیاسی قوت ہوتی ہے اور سیاسی قوتیں سیاسی راستے نکال کر ہی آگے کی طرف جاتی ہیں۔ لیکن خان صاحب کا ماضی بتاتا ہے کہ وہ سولو فلائیٹ چاہتے ہیں۔
