عمران کے ورکرز انکے مستقبل سے مایوس کیوں ہونے لگے؟

 

 

 

عمران خان کا سیاسی مستقبل مخدوش ہونے اور انکی جماعت کی سٹریٹ پاور کمزور ہونے کے بعد سے PTI کی احتجاج کی حکمت عملی اب سوشل میڈیا تک محدود ہو گئی ہے، اور پارٹی قیادت حسب سابق سڑکوں پر اپنی سابقہ طاقت دکھانے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ پارٹی کارکنوں میں بھی اب وہ سابقہ اعتماد اور جوش و جذبہ نہیں رہا جو عمران خان کے بیانیے کے عروج کے دنوں میں دکھائی دیتا تھا۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ PTI کی احتجاجی قوت سوشل میڈیا تک محدود ہو چکی ہے، جبکہ زمینی سطح پر پارٹی اپنی سابقہ طاقت دکھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

 

یاد رہے کہ 4 نومبر 2025 کے بعد سے عمران خان کی بہنیں، پارٹی قیادت، وکلا اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کئی بار اپنے لیڈر سے ملاقات کی کوشش کر چکے ہیں، تاہم اب تک کسی کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ عمران خان کی اپنی قانونی ٹیم سے آخری ملاقات 16 اکتوبر کو ہوئی تھی جبکہ اس کے بعد صرف عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کو 4 نومبر کو ملاقات کی اجازت ملی۔

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی منتخب ہونے کے بعد آٹھ مرتبہ اڈیالہ جیل پہنچے مگر انہیں بھی ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ اس سلسلے میں انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملاقات کے لیے ایک اجازت نامہ بھی حاصل کیا تھا لیکن وہ بھی کسی کام نہیں آیا۔ ملاقات کے منتظر رہنما جیل کے باہر گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں، لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اب پارٹی کے کارکنان ان کا ساتھ دینے کے لیے وہاں نہیں پہنچتے۔

جیل کے باہر اکثر منظر یہ ہوتا ہے کہ عمران خان کی بہنیں، چند رہنما اور وزیراعلیٰ موجود ہوتے ہیں، لیکن درجن دو درجن کارکنان محض چند منٹ کے لیے آتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ اس صورتحال نے سیاسی حلقوں میں یہ بحث تیز کر دی ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کے کارکن سڑکوں پر کیوں نہیں آ رہے۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ابھی تک کارکنوں کو باضابطہ طور پر اڈیالہ جیل کے باہر آنے کی کال نہیں دی گئی، اس لیے کارکنوں کی کم تعداد کو ناکامی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تو ہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خود عمران خان کی اپنی احتجاج کی کالز پر بھی لوگ سڑکوں پر نہیں نکلے۔

 

پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر لطیف کھوسہ کہتے ہیں کہ جب پارٹی قیادت سڑکوں پر نکلنے کی کال دے گی تو کارکن بڑی تعداد میں آئیں گے۔ انکے مطابق وزیراعلی خیبر پختون خواہ کی عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اڈیالہ جیل کی انتظامیہ ملاقات کرانے کی ذمہ دار ہے اور حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ 26 نومبر 2024 کے اسلام اباد دھرنے کی ناکامی کے بعد سے احتجاج کی تمام کالز ناکام ہوئی ہیں جن میں سے تین کالز تو خود عمران خان نے دی تھیں۔

 

دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما کہتے ہیں کہ وہ خود اپنے کارکنان کو اڈیالہ جیل آنے سے روک دیتے ہیں تاکہ غیر ضروری گرفتاریاں نہ ہوں، ان کا کہنا ہے کہ جیل کے باہر کارکنوں پر تشدد اور انکی گرفتاریوں ہوتی ہیں لہذا ورکرز کو مشکل میں ڈالنا غیر مناسب ہوگا۔ ویسے بھی اگر کارکنوں کی بڑی تعداد جیل کے باہر جمع ہو تو کوئی خودکش بمبار اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ شر پسند عناصر بھی 9 مئی 2023 جیسی کوئی واردات ڈال سکتے ہیں، اس لیے پارٹی قیادت انتہائی احتیاط کی پالیسی پر گامزن ہے۔

 

پارٹی قیادت کے مطابق عمران خان سے ملاقات کے دن صرف ارکان اسمبلی کو جیل آنے کی ہدایت کی جاتی ہے کیونکہ پولیس انہیں گرفتار نہیں کر ستی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ وجہ اپنی جگہ اہم ہے، مگر اصل معاملہ کہیں زیادہ گہرا ہے۔ انکے مطابق 26 نومبر 2925 کے اسلام آباد مارچ سے پہلے پارٹی قیادت کو یقین تھا کہ وہ وفاقی دارالحکومت کو جام کر دے گی، مگر توقع کے برعکس صرف چند ہزار کارکنان ہی ڈی چوک میں اکٹھے ہوئے جنہیں منتشر کرنا سیکیورٹی فورسز کے لیے کوئی بڑا ٹاسک نہیں تھا۔ چنانچہ اس روز پارٹی قیادت کو اندازہ ہو گیا کہ اسکے کارکنان اب پہلے پُرجوش نہیں رہے۔ اسلام آباد مارچ کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی ورکرز کی گرفتاریوں اور کیسز کے اندراج نے کارکنوں کو سخت خوف میں مبتلا کر دیا ہے اور اب وہ عمران خان کی رہائی کی امید بھی نہیں رکھتے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی اندرونی تقسیم، سینئر رہنماؤں کی علیحدگیاں، تنظیمی ڈھانچے میں ٹوٹ پھوٹ کا اور کارکنوں کی قانونی مشکلات نے تحریک انصاف کی عوامی قوت کو شدید متاثر کیا ہے۔ کارکنوں میں اب وہ سابقہ اعتماد اور جوش موجود نہیں جو عمران خان کے بیانیے کے عروج کے دنوں میں دکھائی دیتا تھا۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ PTI کی احتجاجی قوت سوشل میڈیا تک محدود ہو چکی ہے، جبکہ زمینی سطح پر پارٹی اپنی سابقہ طاقت دکھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

سہیل آفریدی نے عشق عمرانی میں KPKکا رگڑا کیسے نکالا؟

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اگلے روز اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا، مگر ملاقات نہ ہونے پر انہوں نے اعلان کیا کہ اگر آئندہ منگل بھی انکی ملاقات نہ کروائی گئی تو پھر وہ ہزاروں کارکنوں کے ساتھ اڈیالہ جیل جائیں گے۔ تاہم اس اعلان کے باوجود پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوئی باضابطہ کال جاری نہیں کی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی شاید کارکنوں کو بلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اور ’’کال نہ دینے‘‘ کی حکمت عملی دراصل اس کمزوری کو چھپانے کا ایک سیاسی طریقہ ہے۔

Back to top button