ایران نے نیوکلیئر بم بنانے کا منصوبہ ادھورا کیوں چھوڑا؟

 

 

امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے بعد ایرانی قیادت کو احساس ہو چکا ہے کہ تمام تر وسائل، مہارت اور مواقع کے باوجود دنیا کو رام رکھنے کی خاطر خود کو مکمل نیوکلئیر طاقت بنانے کا منصوبہ لٹکا دینا اس کی بڑی سٹریٹیجک غلطی تھی۔

 

ایران کے اندر بھی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب تہران نیوکلیئر بم بنانے کے لیے درکار یورینیم افزودگی کے انتہائی قریب پہنچ چکا تھا، تو آخر وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے اس پیش رفت کو روک دیا؟ یاد رہے کہ جب پاکستان نے اپنا نیوکلیئر پروگرام شروع کیا تو اسے بھی مغربی دنیا کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس جرم کی پاداش میں امریکہ نے جنرل ضیا کے ہاتھوں نیوکلیئر پروگرام کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکوا دیا لیکن اس کے باوجود پاکستان نیوکلیئر طاقت بننے میں کامیاب ہو گیا اور آج اس کے فوائد سب کے سامنے ہیں۔

 

یاد رہے کہ نیوکلئیر یا جوہری ہتھیاروں کو عالمی سیاست میں دشمن کو جارحیت سے باز رکھنے والے ہتھیار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ماہرین اس کی مثال شمالی کوریا سے دیتے ہیں، جس نے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد خود کو بیرونی حملوں سے محفوظ بنا لیا ہے۔ اس کے برعکس یوکرین کی مثال دی جاتی ہے، جس نے 1994 میں اپنا نیوکلیئر پروگرام ترک کر دیا جس کے نتیجے میں آج اسے روسی جارحیت کا سامنا ہے اور وہ مدد کے لیے امریکہ کی جانب دیکھ رہا ہے۔ اس تناظر میں ایران کی پوزیشن کو طویل عرصے تک ‘جوہری تاخیر’ سے تعبیر کیا جاتا رہا، یعنی ایک ایسی حالت جہاں کسی ملک کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت تو موجود ہو مگر وہ عملاً اس مرحلے کو مکمل نہ کرے۔ اس حکمت عملی کے تحت ایران نے خود کو ایک حساس توازن میں رکھا تاکہ عالمی دباؤ اور ممکنہ حملوں سے بچا جا سکے۔ ایران نے مغربی دنیا کے غیض و غضب سے بچنے کی خاطر دانستہ طور پر سٹریٹیجک ابہام کی پالیسی اپنائے رکھی، چنانچہ وہ نہ مکمل نیوکلئیر طاقت بنا اور نہ ہی اس نے اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ترک کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دشمن کو غیر یقینی میں رکھا جائے اور براہ راست تصادم سے بچا جا سکے۔ تاہم اس حکمت عملی کی قیمت بھی ادا کرنا تھی۔

 

امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی ایک رپورٹ کے مطابق 2000 کی دہائی کے اوائل میں ایرانی سائنسدانوں اور انجینئرز نے ایٹم بم کے مقامی ڈیزائن پر قابلِ ذکر پیش رفت حاصل کر لی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب ایران تکنیکی طور پر ایک اہم سنگ میل عبور کر چکا تھا۔ 2006 میں ایران نے پہلی بار یورینیم افزودگی کا اعلان کیا، جسے تب کے صدر محمود احمدی نژاد نے ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران ایٹمی ممالک کے کلب میں شامل ہو گیا ہے۔ لیکن اس اعلان نے مغربی دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی اور ایران پر پابندیوں کا دائرہ مزید سخت کر دیا گیا۔

 

ادھر ایران کی اعلیٰ قیادت بھی اس پروگرام کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھی۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 17 فروری 2022 کو ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے بروقت نیوکلئیر توانائی میدان میں پیش رفت نہ کی تو مستقبل میں اسے سخت نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور اس کے ہاتھ خالی رہ جائیں گے۔ آج ان کے خدشات درست ثابت ہو گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ایک ایٹم بم بنانے کے لیے 25 کلوگرام یورینیم درکار ہوتا ہے جو کم از کم 90 فیصد تک افزودہ ہو۔ 2015 میں ایران کو ایک ایٹم بم بنانے کے لیے درکار مواد تیار کرنے میں 12 ماہ کا وقت درکار  تھا۔ تاہم مارچ 2022 تک یہ وقت کم ہو کر صرف ایک ماہ رہ گیا تھا، یہ ایک غیر معمولی تکنیکی پیش رفت تھی۔ اس کے باوجود صرف افزودہ یورینیم حاصل کرنا ہی کافی نہیں ہوتا۔ ایک قابلِ استعمال ایٹمی ہتھیار تیار کرنا ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے۔ اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ میجر جنرل تمیر ہیمن کے مطابق، افزودگی کے بعد بھی ایک مکمل بم بنانے کے لیے کئی مراحل طے کرنا ہوتے ہیں۔

 

اسی بنیاد پر مارچ 2022 میں اسرائیلی انٹیلی جنس نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ اگر ایران فوری طور پر ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کر بھی لے، تو اسے کم از کم پہلا بم تیار کرنے کے لیے دو سال درکار ہوں گے۔ یہ دوسرا موقع تھا جب ایران کو فیصلہ کن اقدام اٹھانا تھا۔ تاہم بوجوہ ایران نے خود کو مغرب کے غیض و غضب سے بچانے کے لیے ایک مرتبہ پھر اس سمت میں حتمی قدم نہیں اٹھایا۔

جب امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد رکھی

ایرانی قیادت کی جانب سے احتیاط برتنے کی ایک بڑی وجہ عالمی پابندیوں کا خوف، سفارتی دباؤ، اور ممکنہ فوجی کارروائی کا خطرہ تھا۔ ایرانی قیادت نے شاید یہ سمجھا کہ ادھوری جوہری صلاحیت بھی اسے کافی حد تک تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن آج کی صورت حال میں، جب ایران کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کا سامنا ہے، تو اس حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایرانی قیادت کے اندر یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ اگر ملک ایک مکمل جوہری طاقت بن چکا ہوتا، تو شاید اس پر حملہ کرنے سے پہلے دشمن کئی بار سوچتا۔ یوں ایران کی جوہری حکمت عملی، جو کبھی توازن کی علامت سمجھی جاتی تھی، آج ایک متنازع فیصلہ بن چکی ہے۔ نیوکلیئر محاذ پر ایرانی قیادت کی عدم فیصلہ سازی ایران کے علاوہ عالمی سیاست کے لیے بھی ایک اہم سبق ہے کہ طاقت اور اس کے استعمال کے درمیان توازن قائم کرنا کس قدر پیچیدہ عمل ثابت ہو سکتا ہے۔

Back to top button