تحریک طالبان کے بعد داعش بھی پاکستان میں حملے کیوں کرنے لگی؟

حال ہی میں اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے میں شدت پسند تنظیم داعش خراسان کے ملوث ہونے کے شواہد ملنے کے بعد پاکستانی سکیورٹی اداروں کے لیے ایک نئی پریشانی پیدا ہو گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری تحریک طالبان قبول کرتی رہی ہے، لیکن اب داعش بھی اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اسلام آباد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ داعش اور تحریک طالبان نظریاتی طور پر ایک دوسرے کی مخالف ہیں، لیکن دونوں پاکستان مخالف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خود کو اڑانے والے خودکش حملہ آور کا تعلق خیبر پختون خوا سے تھا اور وہ ماضی میں پانچ مرتبہ افغانستان جا کر تربیت حاصل کر چکا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ حملہ آور کی والدہ اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں مقیم تھیں اور وہ اپنے بیٹے سے مسلسل رابطے میں تھیں۔ اس پہلو نے تفتیش کاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آیا شدت پسند نیٹ ورکس اب شہری آبادیوں میں زیادہ گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں۔ حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مبینہ ہینڈلرز کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں اس کا ایک منظم نیٹ ورک موجود تھا۔ اہم سوال یہ ہے کہ خودکش بمبار وفاقی دارالحکومت میں کیسے داخل ہوا اور ایک حساس مذہبی مقام تک اسکی رسائی کیسے ممکن ہوئی؟ اسے انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کہنا بے جا نہ ہو گا۔
یاد رہے کہ تحریک طالبان پاکستان ور داعش خراسان بظاہر ایک جیسے نظریات رکھتے ہوئے بھی دو الگ اور باہم متصادم تنظیمیں ہیں۔ ٹی ٹی پی پاکستانی ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اس کی جڑیں قبائلی علاقوں میں پیوست ہیں، جبکہ داعش خراسان خود کو عالمی خلافت کے ایجنڈے کا حصہ سمجھتی ہے اور اس کا دائرہ کار سرحدوں سے ماورا ہے۔ داعش خراسان جنوری 2015 میں وجود میں آئی جب پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے تحریک طالبان کے سابق کمانڈر حافظ سعید خان کو دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے خراسان چیپٹر کا امیر مقرر کیا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس تنظیم میں بڑی تعداد اُن عسکریت پسندوں کی تھی جو یا تو ٹی ٹی پی سے اختلافات کے باعث الگ ہوئے یا افغانستان میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کے بعد نئی پناہ گاہیں تلاش کر رہے تھے۔
دونوں تنظیموں کے درمیان افغانستان میں جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں، خاص طور پر طالبان حکومت کے قیام کے بعد داعش نے افغان طالبان کو ’مرتد‘ قرار دیتے ہوئے ان پر حملے کیے۔
تاہم پاکستان کے لیے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اگرچہ طالبان اور داعش ایک دوسرے کے مخالف ہیں، لیکن دونوں کی کارروائیوں کا ہدف پاکستان کی سرزمین بن رہی ہے۔ ایک جانب ٹی ٹی پی نے جنگ بندی ختم کرنے کے بعد سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کیا، تو دوسری جانب داعش نے فرقہ وارانہ حملوں کی رفتار تیز کر دی ہے۔
بین الاقوامی تحقیقی اداروں کی سابقہ رپورٹس کے مطابق 2015 کے دوران افغانستان میں داعش خراسان کے آٹھ ہزار جبکہ پاکستان میں دو ہزار جنگجو موجود تھے۔ اگرچہ اس تعداد میں وقتاً فوقتاً کمی بیشی ہوتی رہی، مگر حالیہ برسوں میں افغانستان کی بدلتی صورتحال، سرحدی نگرانی کے چیلنجز اور کالعدم تنظیموں کی ازسرنو تنظیم سازی نے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش خراسان کی حکمت عملی فرقہ وارانہ حملوں کے ذریعے خوف اور عدم استحکام پھیلانا ہے۔ شیعہ کمیونٹی، مذہبی اقلیتیں اور سکیورٹی اہلکار اس کے بنیادی اہداف میں شامل رہے ہیں۔
اسلام آباد کی امام بارگاہ پر حالیہ خودکش حملہ اس بات کا اشارہ ہے کہ تنظیم محض سرحدی یا قبائلی علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ شہری مراکز کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ملک میں انتہاپسندی کے خلاف بیانیہ، قانونی اقدامات اور انٹیلی جنس آپریشنز کے باوجود شدت پسند تنظیموں کی موجودگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ریاستی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔
مبصرین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ آیا پاکستانی ریاست بعض انتہا پسند گروہوں کے خلاف سخت اور بعض کے خلاف نرم رویہ اختیار کر کے ایک غیر واضح پیغام تو نہیں دے رہی؟ اگر ایک طرف انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف فوری قانونی کارروائیاں ہوتی ہیں اور دوسری طرف انتہا پسند مذہبی عناصر کو کھلے عام نفرت انگیز بیانیہ پھیلانے کی اجازت دی جاتی ہے تو پھر طالبان اور داعش جیسی تنظیموں کا خاتمہ بھی ممکن نہیں۔
اقوام متحدہ نے بھی TTPکو دنیا کیلئے خطرہ قرار دے دیا
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت بیک وقت کئی سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایک طرف تحریک طالبان پاکستان کے حملوں میں اضافہ، اور دوسری جانب داعش کی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دہشت گردی کی کارروائی نہ صرف داخلی سلامتی بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا اتفاق ہے کہ اگر بروقت اور جامع حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو مذہبی انتہا پسندی کی آگ ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتی ہے۔ بسنت کی ادھوری خوشیاں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جب تک سکیورٹی، انصاف اور یکساں قانون کی حکمرانی یقینی نہیں بنائی جاتی، جشن اور خوف ایک ساتھ چلتے رہیں گے۔
