اسرائیل پاکستان کے بعد ترکی اور جنوبی کوریا کو کیوں پڑ گیا؟

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی سفارتی جارحیت میں تیزی آ گئی ہے۔ چند دن پہلے پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے بیان پر سخت ردعمل دینے والے اسرائیل کی لفظی جنگ کا دائرہ پھیل کر اب ترکی اور جنوبی کوریا تک جا پہنچا ہے اور اسرائیل نے دونوں ممالک کے صدور کیخلاف سخت بیانات جاری کرتے ہوئے انھیں سوشل میڈیا پر نشانے پر لے لیا ہے۔ اسرائیلی سفارتی جارحیت میں شدت آنے کے بعد عالمی سطح پر بحث جاری ہے کہ آخر اسرائیل یکے بعد دیگرے مختلف ممالک کے رہنماؤں کو کیوں نشانہ بنا رہا ہے؟ کیا یہ محض بیانات کا ردعمل ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑی سفارتی منظم حکمت عملی کارفرما ہے؟
مبصرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ سفارتی کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب خواجہ آصف نے اسرائیل کے خلاف ایک ٹوئٹ میں سخت الفاظ استعمال کیے۔ جن سے اسرائیلی قیادت کو مرچیں لگ گئیں، بالخصوص وزیرِاعظم بنیامن نتن یاہو نے اس بیان کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے فوری ردعمل دیا لیکن معاملہ یہیں نہیں رکا۔ جلد ہی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ایک بیان جلتی پر تیل کا کام کیا، ترک صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر پاکستان کی ثالثی میں ایرن امریکہ مذاکرات نہ ہو رہے ہوتے تو ترکی اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا۔
ترک صدر کے اس بیان نے اسرائیلی قیادت کو آغ لگا دی۔ نتن یاہو نے نہ صرف اسے مسترد کیا بلکہ اردوغان پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں دہشت گرد گروہوں کا حامی قراردے دیا۔ جواباً ترکی کی وزارتِ خارجہ نے نتن یاہو کو "عہدِ حاضر کا ہٹلر” تک قرار دے دیا، جس سے یہ سفارتی تنازع کھل کر ایک لفظی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔
اسی دوران اسرائیل اور جنوبی کوریا کی لفظی گولہ باری کی صورت میں ایک اور غیر متوقع محاذ بھی کھل گیا جب جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی۔ تاہم اسرائیل نے اس پوسٹ کو “گمراہ کن” اور “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ ویڈیو پرانے واقعے کو غلط تناظر میں پیش کر رہی تھی اور اس میں حقائق کو مسخ کیا گیا۔ جواب میں جنوبی کوریا نے وضاحت دی کہ صدر کا مقصد انسانی حقوق کے اصولوں کو اجاگر کرنا تھا، نہ کہ کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا۔ تاہم جنوبی کوریا کی جانب سے وضاحت کے باوجود دونوں ممالک میں سفارتی کشیدگی کم نہ ہو سکی اور دونوں طرف سے لفظی گولہ باری جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تمام واقعات محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ مبصرین کے بقول حالیہ مہینوں میں غزہ، لبنان اور ایران سے متعلق پیش رفت کے بعد اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، جس نے اس کی سفارتی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے یہاں تک کہ امریکی اتحادی ممالک بھی عوامی غیض وغضب کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ کھلم کھلا یکجہتی کرنے سے کتراتے دکھائی دیتے ہیں
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیل اس دباؤ کے جواب میں ایک جارحانہ سفارتی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے، جس کے تحت وہ عالمی بیانیے کو اپنے حق میں رکھنے کے لیے فوری اور سخت ردعمل دیتا دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی کشیدہ صورتحال میں مختلف ممالک کیلئے سوشل میڈیا ایک نیا سفارتی محاذ اور چیلنج بن کرابھرا ہے، جہاں بیانات، الزامات اور جوابی مؤقف لمحوں میں عالمی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول مختکف جمہوری ممالک میں اسرائیل کے خلاف عوامی رائے کا بڑھتا ہوا اثر بھی حکومتی مؤقف کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی عالمی رہنما اسرائیل پر تنقید کرتا ہے، تو اسرائیلی قیادت کی جانب سے اس کا جواب نہ صرف فوری بلکہ اسی شدت کے ساتھ دیا جاتا ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنے مؤقف کا دفاع کیا جا سکے جبکہ دوسری جانب اسرائلی جارحیت اور لاقانونیت کی مخالفت کرنے والے سیاسی رہنماؤں کو نہ صرف ان کے ممالک میں سراہا جاتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کے بیانات کو کافی پذیرائی ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ اب اکثر سیاسی رہنما اسرائیلی جارحیت اورمظالم کا پردہ چاک کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق ترکی کے اسرائیل مخالف سخت مؤقف کے پیچھے بھی اہم جغرافیائی وجوہات پوشیدہ ہیں۔ ایران میں ممکنہ سیاسی عدم استحکام اور حکومت کی تبدیلی کا خدشہ ترکی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ترکی سمجھتا ہے کہ اگر ایران میں انتشاریا بدامنی پھیلتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے، خصوصاً شام اور ترکی پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے ترکی اسرائیل کی پالیسیوں کو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود بریک تھرو کی امید کیوں باقی ہے؟
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مختلف ممالک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے اسرائیل مخالف بیانات اس بات کے عکاس ہیں کہ ایران سے جنگ بندی کے بعد اسرائیل ایک وسیع سفارتی محاذ آرائی میں داخل ہو چکا ہے، جہاں اس کے تعلقات بیک وقت کئی ممالک کے ساتھ کشیدہ ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کے بیک وقت پاکستان، ترکی اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ سفارتی تنازعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔جہاں جنگیں صرف میدان میں نہیں بلکہ بیانات، ٹویٹس اور سفارتی زبان میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے دنوں میں یہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہےاور اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست کو بھی متاثر کردیں گے۔
