جسٹس منصور نے پارلیمنٹ کی بالادستی کے خلاف استعفی کیوں دیا؟

سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج، جسٹس منصور علی شاہ کے حالیہ استعفے نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا آئین پر یقین رکھنے والا کوئی باشعور شخص ہوش و ہواس میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی آئینی ترامیم کے خلاف استعفی دے سکتا ہے چونکہ یہ پارلیمنٹ کا آئینی حق ہے؟ تاہم جسٹس منصور شاہ سے اس حرکت کی امید کی جا سکتی تھی کیونکہ گزشتہ دو برس کے دوران ان پر مسلسل یہ الزامات لگے کہ وہ عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے سیاسی ایجنڈے کے محافظ بنے ہوئے ہیں، انکا یہ جھکاؤ بطور جج ان کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتا رہا۔
سوشل میڈیا ناقدین کی جانب سے جسٹس منصور علی شاہ پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو سپریم قانون ساز ادارہ ماننے سے انکاری تھے اور اسی لیے انہوں نے پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی آئینی ترامیم کے خلاف احتجاجا استعفی دیا حالانکہ دنیا بھر میں آئین میں ترامیم کا حق پارلیمنٹ کے پاس ہی ہوتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، انہوں نے بطور جج فیصلوں کے ذریعے بولنے کی عدالتی روایت سے انحراف کرتے ہوئے ہر آئینی و سیاسی تنازعے پر خطوط لکھے، جس میں انہوں نے اپنے ساتھی ججوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
یاد رہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے فوراً بعد استعفیٰ دیتے ہوئے جسٹس منصور شاہ نے یہ مؤقف اپنایا کہ یہ ترمیم پارلیمنٹ کی جانب سے “آئینی دراندازی” ہے تا کہ عدلیہ اور ججز کو حکومت کے ماتحت کیا جا سکے۔ تاہم جسٹس منصور شاہ بھول گئے کہ آئین بھی پارلیمنٹ کے منتخب نمائندے ہی بناتے ہیں اور اسی لیے آئین میں ترمیم کا اختیار بھی صرف انہی کے پاس ہوتا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئین پر عمل کرنے والے ججز نہیں بلکہ عمران خان کی جماعت اور اس کے سیاسی مفادات کے محافظ بنے ہوئے تھے اور ان کا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے عدالت کا پلیٹ فارم استعمال کرتے تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ استعفے دینے والے دونوں جج حضرات تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرح کام کرتے رہے۔ خواجہ آصف نے جسٹس منصور شاہ کے استعفے کے ساتھ لکھے گئے شعر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب عمران خان کے دور حکومت میں انصاف کو روندا جا رہا تھا، تب جسٹس منصور شاہ کو دکھی شاعری یاد نہیں تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جسٹس اطہر من اللہ کی طرح جسٹس منصور علی شاہ بھی طویل عرصے سے عدالتی پلیٹ فارم سے ایک مخصوص سیاسی بیانیے کو آگے بڑھا رہے تھے، اور ان کے فیصلے تحریک انصاف کے مفادات کو فروغ دینے کے مرتکب ہو رہے تھے۔
حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ ان دونوں ججز نے اپنی سیاسی وابستگی کے حوالے سے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی تھی اور ان کے استعفوں کے متن سے بھی صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ ججز نہیں تھے بلکہ سیاستدان تھے۔ وزیرِ اعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ کے مطابق، منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ عمران خان کے جان نثار تھے اور انہوں نے اسی لیے اپنے استعفوں میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو چیلنج کیا ہے حالانکہ آئینی ترامیم کرنا اس کا بنیادی حق ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے سابقہ ساتھی اطہر من اللہ انقلابی کیوں ہو گئے؟
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمرانڈو کہلانے والے جسٹس منصور شاہ نے بھی جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منیب اختر کی طرح بطور جج اپنی ساکھ کھو دی تھی، اس لیے ان کے پاس استعفے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہا تھا۔ سینیئر صحافی حسنات ملک کا کہنا ہے کہ منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ نے محسوس کر لیا تھا کہ اب وہ بطور جج اپنا من پسند سیاسی ایجنڈا آگے نہیں بڑھا سکیں گے، اس لیے استعفیٰ دے کر گھر چلے گے۔ تاہم سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ ان استعفوں سے عدلیہ کو کوئی بڑا نقصان نہیں ہوگا بلکہ اب عدلیہ زیادہ غیر جانبدار اور آزادانہ طریقے سے فیصلے کر سکے گی۔
