وزیراعلیٰ KPK سہیل آفریدی نےاسلام آباد میں پکےڈیرے کیوں ڈال لئے؟

اپنے پیشرو علی امین گنڈاپور کی طرح وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی شہر اقتدار اسلام آباد میں پکے ڈیرے ڈال لئے ہیں اور خفیہ ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔ ناقدین کے مطابق سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے وفاداری ثابت کرنے کے چکر میں حقیقی معنوں میں خیبرپختونخوا کے عوام کا رگڑا نکال دیا ہے۔ صوبے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، بے روزگاری اور گہرے ہوتے مالی بحران جیسے سنگین چلینجز کے باوجود سہیل آفریدی کی زیادہ تر توجہ اڈیالہ جیل کے باہر سیاسی سرگرمیوں اور عمران خان کی رہائی کی کوششوں پر مرکوز نظر آتی ہے۔ مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی کا طرز عمل اس بات کا غماز ہے کہ انہیں عوامی خدمت سے زیادہ عمران خان سے وفاداری نبھانے کے لیے وزیرِ اعلیٰ بنایا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ انھیں عوام کے دکھ، تکلیف اور مصائب سے کوئی سروکار نہیں ان کی صرف اتنی سی خواہش ہے کہ کسی طرح عمران خان کی رہائی عمل میں آ جائے اسی مقصد کیلئے وہ دربدر ترلے منتیں کرنے نظر آتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق مسلسل ناکام ہوتی ہوئی احتجاجی پالیسی کی وجہ سے سہیل آفریدی نے بھی گھٹنے ٹیک دئیے ہیں اور اپنے قائد عمران خان کی طرح حکومت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کیلئے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ سہیل آفریدی کا اسلام آباد میں بڑھتا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے مابین بداعتماد اور دوریاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ مستقبل قریب میں تحریک انصاف اور مقتدر حلقوں کے مابین مفاہمت کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانے کیلئے عمران خان رہائی فورس تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ مقتدر حلقے پی ٹی آئی کے مطالبات کو سنجیدہ لینے پر تیار ہو جائیں تاہم ابھی تک اس حوالے سے انھیں کامیابی ملتی دکھائی نہیں دیتی۔
سہیل آفریدی نے ایک بار پھر یوتھیوں کو ماموں کیسےبناڈالا؟
خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کے تحت ’عمران خان رہائی فورس‘ قائم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، وزیر اعلیٰ کے مطابق اس فورس میں ملک بھر سے نوجوانوں کی رکنیت کی جائے گی، جس میں آئی ایس ایف، انصاف یوتھ ونگ، ویمن ونگ، مینارٹی ونگ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہو سکیں گے۔ ارکان کو ممبرشپ کارڈ جاری کیے جائیں گے، عید کے بعد پشاور میں حلف برداری ہوگی اور ایک منظم چین آف کمانڈ کے تحت تمام ہدایات عمران خان کی نامزد قیادت سے موصول ہوں گی۔سہیل آفریدی کے مطابق یہ فورس بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے پرامن جدوجہد کرے گی، ملک بھر میں اسٹریٹ مومنٹم پیدا کرے گی اور احتجاجی سرگرمیوں کو منظم کرے گی۔
تاہم سہیل آفریدی کے اعلان کے باوجود تاحال اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی حتیٰ کہ پی ٹی آئی رہنما بھی اس فورس کے قیام، رجسٹریشن اور کمانڈ سٹرکچر سے لاعلم دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کی جانب سے اس اقدام کا مقصد کارکنوں کو متحرک رکھنے کے ساتھ ساتھ رہاستی اداروں پر دباؤ ڈالنا ہے، تاہم ماضی میں پی ٹی آئی کی جانب سے بنائی گئی ٹائیگر فورس یا احتجاجی مہمات کو دیکھتے ہوئے اس نئی فورس کی مؤثریت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ رائے بھی سامنے آ رہی ہے کہ محض سٹریٹ سرگرمیوں سے عمران خان کی رہائی ممکن نظر نہیں آتی۔ تاہم اب سہیل آفریدی نے تمام تر حربے ناکام ہونے کے بعد اسلام آباد میں ڈیرے ڈال لئے ہیں تاکہ اسٹیبلشمنٹ سے کسی صورت تعلقات بہتر بنا کر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار کی جا سکے۔
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد سہیل آفریدی نے علی امین گنڈا پور کے طرزِ عمل کی نقل کرتے ہوئے نہ صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کو للکارا تھا بلکہ طالبان نواز پالیسی اختیار کرتے ہوئے صوبے میں ممکنہ فوجی آپریشن کی مخالفت کا اعلان بھی کر دیا تھا، تاہم اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے منہ توڑ جواب ملنے کے بعد سہیل آفریدی نے اب اپنی ’اوقات‘ میں آتے ہوئے مفاہمانہ رویہ اپنانے کافیصلہ کر لیا ہے اور اسلام آباد میں اپنے قیام کو طویل کرتے ہوئے مقتدر حلقوں سے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
بیماری کی آڑ میں عمران کو جیل سے نکالنے کی کوشش ناکام
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق اپوزیشن کے احتجاج اور دھرنوں کے اعلان کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی گزشتہ ہفتے اسلام آباد پہنچے اور تب سے وہیں مقیم ہیں جبکہ اسلام آباد میں ان کی خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوں، اس سے قبل بھی وہ پختونخوا ہاؤس میں قیام کرتے رہے ہیں اور اجلاسوں کی سربراہی ویڈیو لنک کے ذریعے کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس بار سہیل آفریدی کے اسلام آباد میں قیام کے دوران سیاسی مصروفیات غالب ہیں جبکہ اس عرصے میں آن لائن اجلاس بھی بہت کم ہوئے ہیں جبکہ پشاور میں ان کی متعدد ہفتہ وار سرکاری میٹنگز اور ملاقاتیں منسوخ یا ملتوی کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی اسلام آباد میں بڑھتی مصروفیات پر جہاں اپوزیشن سراپا احتجاج ہے وہیں پی ٹی آئی کے اندر سے بھی اس حوالے سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں،
وزیراعلیٰ کے اسلام آباد میں زیادہ وقت گزارنے پر نالاں پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی بھی اپنے پیشرو علی امین گنڈاپور کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پشاور کے بجائے اسلام آباد کو ترجیح دینے لگے ہیں جس سے لگتا ہے کہ سہیل آفریدی بھی مقتدر حلقوں سے تعلقات استوار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق سہیل آفریدی ابتدا میں پشاور میں زیادہ وقت دیتے تھے اور دستیاب رہتے تھے، مگر اب وہ زیادہ وقت شہر اقتدار میں گزارتے ہیں جبکہ علی امین گنڈاپور کی طرح اب سہیل آفریدی بھی پارٹی رہنماؤن کو لفٹ نہیں کراتے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اندرونی طور پر سہیل آفریدی کے اس طرزِ عمل پر اعتراضات پائے جاتے ہیں، تاہم ناراض پارٹی رہنما سامنے نہیں آتے کیونکہ ان کی شکایات سننے والا اب کوئی بھی نہیں ہے۔
کیا علیمہ خان کپتان سے پارٹی چھیننے کی سازش کر رہی ہیں؟
دوسری جانب سماجی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے بھی اسلام آباد میں ترجیحی قیام پر وزیراعلیٰ کو تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہیں یا وائسرائے، جو کابینہ کے اجلاس کے لیے بھی پشاور نہیں آتے اور ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرتے ہیں؟‘‘ تاہم مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی پہلے وزیراعلیٰ نہیں جو اسلام آباد بیٹھ کر صوبہ چلا رہے ہوں۔ ان کے مطابق ماضی میں پرویز خٹک، محمود خان اور علی امین گنڈاپور بھی اسی طرز پر حکومت چلاتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل اسلام آباد میں باقاعدہ اجلاس منعقد ہوتے تھے، جن کے لیے کابینہ اراکین اور سرکاری افسران کو خصوصی طور پر وہاں جانا پڑتا تھا، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا تھا۔ اب سہیل آفریدی بھی گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل اسلام آباد میں اپنے قیام کو ترجیح دے رہے ہیں اور متعدد اہم اجلاسوں کے لیے بھی پشاور نہیں آتے۔
تاہم پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی حکومتی امور کے مقابلے میں پارٹی اور سیاسی معاملات میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں، پارٹی ورکرز بھی عمران خان کی رہائی کے لیے ٹھوس اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں،سہیل آفریدی اسلام آباد میں رہ کر مذاکرات اور عمران خان کی رہائی کیلئے کوشاں ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی امید سامنے نہیں آ رہی۔ اس کے باوجود وزیراعلیٰ صوبے کا انتظام سنبھالنے کے بجائے پارٹی کی سیاسی مہم میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کو اندازہ ہے کہ جب تک وہ عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم اور متحرک رہیں گے، ان کی سیاسی پوزیشن اور وزارتِ اعلیٰ کی کرسی مضبوط رہے گی۔ تاہم جیسے ہی عمران خان کی رہائی کے معاملے پر ان کی توجہ یا جدوجہد میں کمی آئی تو ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو سکتا ہے جو ان کے پیشرو علی امین گنڈاپور کے ساتھ ہوا تھا۔
