خامنہ ای اور لاریجانی نے چھپنے کی بجائے مرنے کو کیوں ترجیح دی؟

ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے امریکی حملے سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے قتل کے منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے ایک محفوظ بنکر میں منتقل ہونے کی درخواست کی تھی، تاہم انہوں نے امام حسین کی مثال دیتے ہوئے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ خامنہ ای کی شہادت کے بعد علی لاریجانی امریکہ کا اہم ترین ہدف بن گئے، لیکن وہ اپنی جان بچانے کے لیے روپوش ہونے کے بجائے آخری وقت تک عوام کے ساتھ سڑکوں پر موجود رہے۔
معروف اینکر پرسن حامد میر نے اپنی ایک تحریر میں علی لاریجانی کی آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے پہلے ہونے والی آخری ملاقات کا حال بیان کیا ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے علی لاریجانی کے قتل کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ وہ ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے اہم عہدیدار ہونے کے باوجود اپنی حفاظت کیوں نہ کر سکے۔ اس سوال کا جواب ایک ایرانی سفارتکار کے ذریعے ایک ایرانی اخبار میں شائع ہونے والی تحریر سے ملتا ہے جس میں لاریجانی اور سپریم لیڈر کے درمیان آخری ملاقات اور ان کی گفتگو بیان کی گئی ہے۔ اس تحریر میں بتایا گیا ہے کہ اپنی شہادت سے ایک روز قبل لاریجانی نے خود اس ملاقات کی تفصیل بیان کی۔
ایرانی اخبار میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملے سے چند گھنٹے قبل علی لاریجانی ایک فائل کے ساتھ سپریم لیڈر کے دفتر پہنچے۔ اس فائل میں دشمن کے اس منصوبے کی تفصیلات موجود تھیں جس کے تحت خامنہ ای کو ہر قیمت پر نشانہ بنایا جانا تھا۔ ملاقات کے آغاز میں لاریجانی نے نہایت سنجیدگی سے اپنے قائد علی خامنہ ای کو بتایا کہ اس بار معاملہ محض دھمکی کا نہیں بلکہ انہیں ختم کرنے کے حتمی فیصلے کا ہے، اور دشمن اس مرتبہ آخری حد تک جا سکتا ہے۔ لاریجانی نے سپریم لیڈر کو بتایا کہ ان کی حفاظت کے لیے ایک محفوظ مقام تیار کیا گیا ہے جہاں وہ عارضی طور پر منتقل ہو سکتے ہیں تاکہ خطرہ ٹلنے تک محفوظ رہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کسی قسم کی فرار کی جگہ نہیں بلکہ ایک حکمت عملی کے تحت عارضی قیام ہوگا۔
ایرانی اخبار کے مطابق سپریم لیڈر خاموشی سے گفتگو سنتے رہے، پھر انہوں نے لاریجانی سے دریافت کیا کہ وہ ان سے کس قسم کے جواب کی توقع رکھتے ہیں۔ لاریجانی نے اعتراف کیا کہ انہیں خدشہ تھا کہ شاید وہ اس پیشکش کو قبول نہ کریں، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کو ان کی قیادت کی ضرورت ہے اور جنگ کمانڈر کے بغیر نہیں لڑی جا سکتی۔ اس پر خامنہ ای نے جواب دیا کہ ریاستی اور سکیورٹی نقطہ نظر سے لاریجانی کی بات درست ہے، لیکن ایک مختلف زاویے سے دیکھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ خود میدان سے ہٹ جائیں تو اپنے سپاہیوں اور عوام کو ثابت قدم رہنے کا درس کیسے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک لیڈر کا عمل ہی اس کے پیروکاروں کے حوصلے کا تعین کرتا ہے۔
ایرانی اخبار کی رپورٹ کے مطابق خامنہ ای نے اس گفتگو میں تاریخی و مذہبی حوالہ دیتے ہوئے امام حسین کی مثال پیش کی، جنہوں نے کم تعداد کے باوجود میدان چھوڑنے کے بجائے دشمن کا مقابلہ کیا۔ اس کے جواب میں لاریجانی نے امام مہدی کی غیبت کی مثال دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بعض اوقات وقتی طور پر نظروں سے اوجھل ہونا حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ تاہم سپریم لیڈر نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک قوم اور فوج اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہو تو اس کا غائب ہونا تاریخ کے سامنے ایک بڑا سوال بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق لیڈر کا کردار صرف قیادت کرنا نہیں بلکہ مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہنا بھی ہے۔ اس گفتگو کے بعد لاریجانی خاموش ہو گئے اور انہوں نے اپنے قائد کی پیشکش مسترد کرنے کے فیصلے کا احترام کیا۔ ملاقات کے اختتام پر خامنہ ای نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کا جواز ختم کیوں ہو گیا؟
حامد میر بتاتے ہیں کہ بعد ازاں سپریم لیڈر نے اپنے خاندان کو بھی ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا، اور کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ حملے کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت کے باوجود ایران میں نظام کی تبدیلی کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ حامد میر کے مطابق خامنہ ای کی شہادت کے بعد علی لاریجانی کو یہ احساس ہوا کہ وہ لیڈر جو موت کے خوف سے غائب ہو جاتے ہیں، وقت کے ساتھ عوام کی یادداشت سے بھی مٹ جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے خود بھی روپوش ہونے کے بجائے عوام کے درمیان رہنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ وہ بھی دشمن کے نشانے پر تھے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ لاریجانی کے پاس یہ موقع موجود تھا کہ وہ بھی دیگر رہنماؤں کی طرح زیر زمین پناہ گاہوں میں چلے جاتے، تاہم انہوں نے ایسا نہ کیا اور اپنی قوم اور فوج کے درمیان موجود رہے۔ اس دوران انہوں نے تہران سکوئر پر امریکی حملوں کے خلاف ہونے والے عوامی مظاہروں میں بھی شرکت کی۔ اسکے چند دن بعد علی لاریجانی بھی اپنے قائد علی خامنہ ای کی طرح شہید ہو گئے۔ حامد میر نے اس واقعے کو تاریخی اور فکری تناظر میں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات اس تصور کو تقویت دیتے ہیں کہ اصولوں پر ڈٹ جانے والے قائدین اپنی قوموں کو نئی زندگی دیتے ہیں، اور ان کی قربانیاں تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔
