وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نےاسلام آباد میں ڈیرے کیوں ڈال لئے؟

 

اپنے پیشرو علی امین گنڈاپور کی طرح وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی شہر اقتدار اسلام آباد میں پکے ڈیرے ڈال لئے ہیں اور خفیہ ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔ جس کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے سہیل آفریدی کو نشانے پر لیتے ہوئے ان کے اسلام آباد میں بڑھتے قیام پر سوالات اٹھانے شروع کردئیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مسلسل ناکام ہوتی ہوئی احتجاجی پالیسی کی وجہ سے سہیل آفریدی نے بھی گھٹنے ٹیک دئیے ہیں اور اپنے قائد عمران خان کی طرح حکومت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کیلئے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ سہیل آفریدی کا اسلام آباد میں بڑھتا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہاسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے مابین بداعتماد اور دوریاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ مستقبل قریب میں تحریک انصاف اور مقتدر حلقوں کے مابین مفاہمت کے امکانات معدوم ہیں۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد سہیل آفریدی نے علی امین گنڈا پور کے طرزِ عمل کی نقل کرتے ہوئے نہ صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کو للکارا تھا بلکہ طالبان نواز پالیسی اختیار کرتے ہوئے صوبے میں ممکنہ فوجی آپریشن کی مخالفت کا اعلان بھی کر دیا تھا، تاہم اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے منہ توڑ جواب ملنے کے بعدسہیل آفریدی نے  اب اپنی ’اوقات‘ میں آتے ہوئے مفاہمانہ رویہ اپنانے کافیصلہ کر لیا ہے اور اسلام آباد میں اپنے قیام کو طویل کرتے ہوئے مقتدر حلقوں سے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی لاہور کے 3 روزہ سیاسی دورے کے بعداسلام آباد میں ہی مقیم ہیں اور کابینہ اجلاس سمیت دیگر اجلاسوں میں شہراقتدار سے ویڈیو لنک سے ہی شرکت کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد میں ان کی خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوں، اس سے قبل بھی وہ پختونخوا ہاؤس میں قیام کرتے رہے ہیں اور اجلاسوں کی سربراہی ویڈیو لنک کے ذریعے کرتے رہے ہیں۔ تاہم اسلام میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے طویل قیام پر پی ٹی آئی کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں

وزیراعلیٰ کے اسلام آباد میں زیادہ وقت گزارنے پر نالاں پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی بھی اپنے پیشرو علی امین گنڈاپور کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پشاور کے بجائے اسلام آباد کو ترجیح دینے لگے ہیں جس سے لگتا ہے کہ سہیل آفریدی بھی مقتدر حلقوں سے تعلقات استوار کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ اپارٹی رہنماؤں کے مطابق سہیل آفریدی ابتدا میں پشاور میں زیادہ وقت دیتے تھے اور دستیاب رہتے تھے، مگر اب وہ زیادہ وقت شہر اقتدار میں گزارتے ہیں جبکہ علی امین گنڈاپور کی طرح اب سہیل آفریدی بھی پارٹی رہنماؤن کو لفٹ نہیں کراتے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اندرونی طور پر سہیل آفریدی جے اس طرزِ عمل پر اعتراضات پائے جاتے ہیں، تاہم ناراض پارٹی رہنما سامنے نہیں آتے کیونکہ ان کی شکایات سننے والا اب کوئی بھی نہیں ہے۔

دوسری جانب سماجی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے بھی اسلام آباد میں ترجیحی قیام پر وزیراعلیٰ کو تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہیں یا وائسرائے، جو کابینہ کے اجلاس کے لیے بھی پشاور نہیں آتے اور ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرتے ہیں؟‘‘ تاہم مبصرین کے مطابق سہیل آفریدی پہلے وزیراعلیٰ نہیں جو اسلام آباد بیٹھ کر صوبہ چلا رہے ہوں۔ ان کے مطابق ماضی میں پرویز خٹک، محمود خان اور علی امین گنڈاپور بھی اسی طرز پر حکومت چلاتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل اسلام آباد میں باقاعدہ اجلاس منعقد ہوتے تھے، جن کے لیے کابینہ اراکین اور سرکاری افسران کو خصوصی طور پر وہاں جانا پڑتا تھا، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا تھا۔ اب سہیل آفریدی بھی گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل اسلام آباد میں اپنے قایم کو ترجیح دے رہے ہیں اور متعدد اہم اجلاسوں کے لیے بھی پشاور نہیں آتے۔
تاہم پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی حکومتی امور کے مقابلے میں پارٹی اور سیاسی معاملات میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں، پارٹی ورکرز بھی عمران خان کی رہائی کے لیے ٹھوس اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں،سہیل آفریدی اسلام آباد میں رہ کر مذاکرات اور عمران خان کی رہائی کیلئے کوشاں ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی امید سامنے نہیں آ رہی۔ تاہم مبصرین کے مطابق وزیراعلیٰ صوبے کا انتظام سنبھالنے کے بجائے پارٹی کی سیاسی مہم میں مصروف ہیں، جس کا براہِ راست نقصان صوبائی حکومت کو ہو رہا ہے۔‘‘ حکومتی معاملات افسران کے سپرد کر دیے گئے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ احتجاجی سیاست کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ جس سے صوبے میں بد انتظامی اپنے عروج پر ہے

تحریک انصاف کے ایک مرکزی رہنما نے بتایا کہ پارٹی کے اندر اس تبدیلی کو محسوس کیا گیا ہے لیکن اسکی اصل وجہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے سنجیدہ حلقے چاہتے ہیں کہ وفاق اور اداروں کے ساتھ محاذ آرائی نہ ہو اور ایک مناسب ورکنگ ریلیشن برقرار رہے۔ اگرچہ کارکن جذباتی قیادت پسند کرتے ہیں، مگر سہیل آفریدی کو اس حقیقت کا احساس ہے کہ تصادم سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی اب سوچ سمجھ کر بیانات دیتے ہیں اور ان کی گفتگو میں وہ سنجیدگی نظر آ رہی ہے جو پہلے مفقود تھی۔ مخالفین ان کی حالیہ نرمی کو ’مفاہمت‘ کا نام دیتے ہیں، مگر پی ٹی آئی رہنما اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نرمی مجبوری نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی ہے، کیونکہ وزیراعلیٰ جانتے ہیں کہ محاذ آرائی آسان نہیں اور جذباتی سیاست حکومت سنبھالنے کے بعد دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔ سہیل آفریدی حالات کو سمجھ چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ معاملات کو جذبات کے بجائے سمجھ داری سے چلانا پڑتا ہے۔ اسی لئے وہ اسلام آباد میں رہ کر مقتدر حلقوں سے تعلقات کو بہتربنانے کیلئے کوشاں ہیں۔

Back to top button