مولانا فضل الرحمٰن کی JUI میں اندرونی بغاوت کیوں شروع ہو گئی؟

ذاتی مفادات کے تحفظ کیلئے پی ٹی آئی سے ہاتھ ملانے والے مولانا فضل الرحمن کی اپنی جماعت تاش کی پتوں کی طرح بکھرتی دکھائی دیتی ہے۔ بلوچستان کی تیسری بڑی پارلیمانی جماعت جمعیت علمائے اسلام ف میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے جے یو آئی کے ضلع کوئٹہ کے انتخابات کالعدم قرار دے کر ضلعی کابینہ تحلیل کر دی ہے۔صوبائی قیادت اس اقدام کی وجہ انتخابات میں دھاندلی قرار دے رہی ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال سینیٹر مولانا عبدالواسع اور حافظ حمداللہ کے درمیان اختلافات اور جماعت کے اندر گروہ بندی کا نتیجہ ہے۔
جے یو آئی کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’بلوچستان میں تنظیم واضح گروہ بندی کا شکار ہے۔ ایک گروہ کی قیادت سینیٹر مولانا عبدالواسع، جبکہ دوسرے گروہ کی سربراہی سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کر رہے ہیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف صوبائی امیر کے عہدے کا انتخاب بھی لڑا جس میں مولانا عبدالواسع کامیاب ہو گئے۔‘
جے یو آئی کے رہنما کے مطابق ’ضلع کوئٹہ کے انتخابات حافظ حمداللہ کے حامی گروپ نے جیتے اور مولانا عبدالرحمان رفیق ضلعی امیر بنے, جبکہ مولانا عبدالواسع کے حامیوں کو شکست ہوئی۔ مولانا عبدالواسع نے بظاہر تو ضلعی انتخابات میں دھاندلی کو وجہ بتاتے ہوئے کالعدم قرار دیا ہے لیکن اس کے پیچھے اصل وجہ تنظیمی اختلافات اور گروہ بندی ہی ہے۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمان مرکز میں اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کیخلاف متحرک کرنے کیلئے سرگرم ہیں تاہم دوسری جانب ان کے اپنے گھر میں آگ لگ چکی ہے اور پارٹی رہنما عہدوں کے حصول کے لیے باہمی دست و گریبان ہیں۔ ’بلوچستان میں جے یوآئی کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور یہ اختلافات صوبائی سطح سے لے کر ضلع، تحصیل اور پھر نچلی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ مولانا عبدالواسع، مولانا فضل الرحمان کے ساتھ قربت کی وجہ سے طاقتور ہیں، تاہم حافظ حمداللہ نے بھی انہیں ٹف ٹائم دے رکھا ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’جے یو آئی کے کارکن جماعتی انتخابات میں ہمیشہ مرکز کی طرف دیکھتے ہیں ۔ مولانا عبدالواسع اس لیے طاقتور ہیں کہ انہیں مولانا فضل الرحمان کا دستِ شفقت حاصل ہے۔ ان کے مقابلے میں حافظ حمداللہ کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق حافظ حمداللہ بیان بازی اور تقریر میں تو آگے ہیں اور میڈیا میں بھی پیش پیش رہتے ہیں مگر تنظیم میں ان کی جڑیں مضبوط نہیں۔ ان کی بجائے مولانا عبدالواسع بڑے سیاسی کھلاڑی ہیں، سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر ہیں اور پارلیمنٹرینز میں بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔‘ان کا مزید کہنا ہے کہ ’جے یو آئی بلوچستان میں سب سے مضبوط پارلیمانی جماعت سمجھی جاتی ہے، جس کا بڑا ووٹ بینک اور نظریاتی ووٹرز ہیں۔ ہر بار قومی و صوبائی اسمبلی میں ان کی اچھی نمائندگی ہوتی ہے اس لیے جے یو آئی کے صوبائی امیر کا عہدہ بڑا اہم اور اثر و رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔‘ اسی لئے پارٹی رہنما اس کیلئے ایک دوسری کو ننگا کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔
مبصرین کے بقول’انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم ان کی مرضی سے ہوتی ہے اور ٹکٹس کی تقسیم میں پیسے کا بڑا استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس عہدے پر بڑی لڑائی ہوتی ہے۔‘ان کا مزید کہنا ہے کہ ’جے یو آئی کے تنظیمی انتخابات گزشتہ کئی دہائیوں سے اسی طرح متنازع رہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں جے یو آئی کئی مرتبہ تقسیم بھی ہوئی ہے۔‘
آئین اور قانون سے ہٹ کر فیصلہ سازی سے ترقی ممکن کیوں نہیں ؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ’بلوچستان کی تنظیم میں گروہ بندی مولانا شیرانی کے دور سے ہے، وہ بہت طاقتور تھے لیکن جب خود مولانا شیرانی کے مولانا فضل الرحمان سے اختلافات ہوئے تو مولانا فضل الرحمان نے ان کے مقابلے میں مولانا عبدالواسع کو کھڑا کیا اور انہیں کامیاب کرایا۔ حافظ حمداللہ مولانا شیرانی کے قریبی تھے لیکن الگ جماعت بنانے پر حافظ حمداللہ نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ تاہم۔اب ان کے مولانا واسع سے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ’جے یو آئی اب پرانی اور نظریاتی جماعت نہیں رہی، اس پر ٹھیکے داروں، سرمایہ داروں، نوابوں اور سرداروں کا قبضہ ہے۔ ایک وقت میں جے یو آئی کے ٹکٹ پر عام علماء اور مدارس سے پڑھنے والے نظریاتی کارکن کامیاب ہوتے تھے لیکن اس مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے 12 ارکان میں سے کوئی بھی عالم دین یا جے یو آئی کا پرانا نظریاتی کارکن نہیں۔ اسی طرح سینیٹ میں بھی بڑے بڑے ٹھیکے داروں کو ٹکٹ دیا گیا۔‘ان کا مزید کہنا ہے کہ جے یو آئی میں’مولانا شیرانی کے دور سے مذہبی افراد کی بجائے نوابوں، سرداروں، طاقتور افراد اور سرمایہ داروں کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ اس کے کارکنوں پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اب وہ نظریے کی بجائے تنظیم کے اندر قومیت اور زبان کو ترجیح دیتے ہیں۔ عہدوں اور ٹکٹ کے حصول کے لیے سر توڑ کوششیں بلکہ لڑائی جھگڑے تک ہوتے ہیں۔‘ مبصرین کے مطابق اب بھی اگر مولانانے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پارٹی میں جاری اختلافات کی آگ پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات نہ کئے تو وہ وقت دور نہیں یہ آگ پوری جماعت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور مولانا کو سوائے پچھتاوے کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔
