نجم سیٹھی نے عمران کے لیے ریلیف کا امکان مسترد کیوں کر دیا؟

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے سے متعلق رپورٹ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہے۔ کہیں ان کی فوری رہائی کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو کہیں بانیٔ پی ٹی آئی کی بنی گالہ منتقلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور کہیں “ڈیل” یا بیرونِ ملک روانگی کی کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ تاہم سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ عمران خان سے نہ تو کوئی ڈیل ہو رہی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی ڈھیل کا تاثر درست ہے۔ بانیٔ پی ٹی آئی بدستور اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ انہیں بنی گالہ منتقل کیے جانے کی خبریں محض مفروضے، سیاسی خواہشات یا سوشل میڈیا پر مبنی تجزیات ہیں، جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔
نجم سیٹھی کا اپنے پروگرام آج کی بات سیٹھی کے ساتھ میں عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی بارے زیرِ گردش افواہوں، ممکنہ “ڈیل” اور حکومتی حکمتِ عملی پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حالیہ دنوں عمران خان کی آنکھ کے مسئلے کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید انہیں کسی اور مقام پر منتقل کیا جائے، تاہم وہ اسے “پری میچور” قرار دیتے ہیں۔ نجم سیٹھی کے مطابق موجودہ حالات میں نہ قانونی تقاضے اس امر کی اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی سیاسی زمینی حقائق اس کی تائید کرتے ہیں کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے بنی گالا منتقل کیا جائے؛ اس نوعیت کی باتیں محض قیاس آرائیاں معلوم ہوتی ہیں کیونکہ اس کا کوئی ٹھوس جواز دکھائی نہیں دیتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماہرین امراض چشم سے عمران خان کی آنکھ کا مکمل معائنہ ہونا ابھی باقی ہے، اس مرحلے پر ان کی بنی گالا منتقلی کی بات کرنا قبل از وقت ہے۔ نجم سیٹھی سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر عمران خان کی اڈیالہ سے بنی گالا منتقلی کا مقصد کیا ہوگا؟ اگر اس اقدام سے عمران خان کو کسی قسم کا ریلیف ملتا ہے تو سیاسی حلقوں میں فوراً یہ تاثر پیدا ہوگا کہ کوئی خفیہ ڈیل طے پا گئی ہے۔
نجم سیٹھی کا مزید کہنا ہے کہ اگر حکومت ایسا کوئی قدم اٹھاتی ہے تو اس کے سیاسی اثرات بہت گہرے ہوں گے۔ ان کے مطابق عمران خان کو بنی گالا بھیجنے کا مطلب ہوگا کہ انہیں عملی طور پر ایک نرم گوشہ دیا جا رہا ہے، جس سے مخالفین اور حامی دونوں اپنے اپنے بیانیے کو تقویت دیں گے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ اس وقت حکومت کے لیے ایسا کوئی رسک لینا دانشمندانہ نہیں ہوگا۔ عمران خان کو ممکنہ طور پر ہسپتال منتقل کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے تو پاکستان تحریک انصاف کے کارکن بڑی تعداد میں وہاں پہنچ سکتے ہیں، جس سے سکیورٹی اور نظم و نسق کا مسئلہ پیدا ہوگا۔ ان کے خیال میں یہی وجہ ہے کہ حکومت ایسی کسی منتقلی کی اجازت دینے میں احتیاط برتے گی۔ بنی گالا تو ان کے بقول بعد کی بات ہے، پہلے مرحلے میں ہی حکومت ایسے کسی قدم سے گریز کرے گی جو سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کرے۔ نجم سیٹھی نے ان افواہوں کو بھی مسترد کیا جن میں عمران خان کو بیرونِ ملک، خصوصاً لندن بھیجنے کی بات کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسا ہوا تو برطانیہ اور یورپ بھر سے پی ٹی آئی کے حامی متحرک ہو جائیں گے اور مسلسل احتجاج کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “جس دن حکومت نے خان صاحب کو باہر بھیج دیا، سمجھیں کہانی ختم” یعنی یہ اقدام حکومت کے لیے سیاسی طور پر خودکشی کے مترادف ہوگا۔ ان کے نزدیک موجودہ اتحادی حکومت اتنا بڑا رسک لینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
نجم سیٹھی کا دوٹوک الفاط میں کہنا تھا کہ حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی نہ تو عمران خان سے کوئی ڈیل ہو رہی ہے، نہ کوئی خفیہ سازش پروان چڑھ رہی ہے، اور نہ ہی حکومت اس معاملے میں کمزور پڑی ہے۔موجودہ حالات میں عمران خان کو بنی گالا منتقل کرنے کا کوئی قانونی، انتظامی یا سیاسی جواز موجود نہیں۔ جو کچھ گردش کر رہا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
کیا نواز شریف کی طرح عمران کو بھی ریلیف ملنے کا امکان ہے؟
دوسری جانب قانونی ماہرین بھی اس بحث میں یہی نکتہ اٹھاتے نظر آتے ہیں ان کے مطابق کسی قیدی کو ذاتی رہائش گاہ، جیسے بنی گالا، منتقل کرنا سادہ انتظامی فیصلے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے واضح قانونی جواز اور عدالتی منظوری درکار ہوتی ہے۔ پاکستان کے جیل قوانین کے تحت سب جیل یا خصوصی انتظام کا درجہ دینا بھی مخصوص قانونی تقاضوں سے مشروط ہے۔ اس تناظر میں عمران خان کی بنی گالا منتقلی کی خبریں زیادہ تر سیاسی بیانیوں اور سوشل میڈیا کی پیداوار محسوس ہوتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں عمران خان کی بنی گالا منتقلی، رہائی، بیرونِ ملک روانگی یا کسی خفیہ ڈیل سے متعلق دعوے مصدقہ شواہد سے محروم نظر آتے ہیں۔ مستند اطلاعات یہی بتاتی ہیں کہ وہ بدستور اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کی فوری رہائی یا بنی گالہ منتقلی کے ماکانات معدوم ہیں۔
