ہارس ٹریڈنگ کے قانون پر نواز کا عدالت سے میچ کیوں پڑا؟

آئین کے جس آرٹیکل 63 کی تشریح کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے

اس کو چودھویں آئینی ترمیم کے ذریعے نافذ کرنے کے لیے 1997 میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کو ڈھیروں پاپڑ بیلنا پڑے تھے

کیونکہ تب کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ نے اس ترمیم کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی۔

نواز شریف کی سربراہی میں میں تب کی حکمران جماعت نے سپریم کورٹ کی مداخلت پر شدید ردعمل دیا اور چیف جسٹس پر ہارس ٹریڈنگ کے فروغ کے الزامات عائد کر دیے۔ جواب میں چیف جسٹس نے نواز شریف کو توہین عدالت کا نوٹس دیتے ہوئے طلب کرلیا جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ پر حملہ ہو گیا۔

پاکستان کی دستوری تاریخ میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے پہلی بار آرٹیکل
63 اے کی شکل میں آئینی ترمیم کی گئی، مگر اس آرٹیکل کی تاریخ بہت دلچسپ اور ہنگامہ خیز ہے۔ 1973 کے آئین میں ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے کوئی آئینی شق موجود نہ تھی اور آئین سازی کے بعد تقریباً دو عشروں تک ایسی کسی ترمیم کی ضرورت بھی محسوس نہ کی گئی۔

تاہم 1997 میں تب کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے پہلی مرتبہ ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکنے کے لیے آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسے پارلیمان میں دستوری ترمیم کے لیے درکار دو تہائی عددی اکثریت حاصل تھی۔ چنانچہ ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے آئین میں آرٹیکل 63 اے کی شکل میں چودھویں ترمیم کے ذریعے ایک آئینی شق کا اضافہ کرنے کا بل پیش کیا گیا۔

چودھویں آئینی ترمیم کے ذریعے متعارف کروائے گئے آرٹیکل 63 اے کے مطابق رکن اسمبلی نہ صرف یہ کہ پارٹی کے سربراہ کی ہدایات کے برخلاف ووٹ دینے یا نہ دینے پر نا اہل کیا جا سکتا تھا بلکہ سیاسی جماعت کا سربراہ چاہے تو کسی بھی رکن قومی اسمبلی یا رکن ایوان بالا کو محض پارٹی ڈسپلن، منشور یا صرف سیاسی حکمت عملی ہی سے منحرف ہونے پر بھی قانون ساز ادارے کی رکنیت کے لیے نا اہل قرار دے سکتا تھا۔

اس سلسلے میں سیاسی جماعت کے سربراہ کا فیصلہ حتمی تھا اور قانون ساز ادارے کے سربراہ یا الیکشن کمیشن کو اس فیصلے پر عمل درآمد کا پابند بھی بنایا گیا تھا۔ یہاں تک کہ نااہلی کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ میں چیلنج بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ملک کی دستوری تاریخ میں ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے پہلی بار آرٹیکل 63 اے کی شکل میں انسدادی قانون کے اضافے کے ساتھ ہماری سیاسی اور آئینی تاریخ کے کچھ سیاہ باب بھی وابستہ ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک دستوری ترمیم کو آئین میں واشگاف الفاظ میں مقننہ کے دستور سازی کے مطلق اختیار کے ہوتے ہوئے بھی قانون سازی کا عمل مکمل ہونے سے بھی پہلے جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کی طرف مزید کارروائی سے روک دیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ کی اس مداخلت پر شدید ردعمل دیا اور چیف جسٹس پر ہارس ٹریڈنگ کے فروغ کے الزامات عائد کیے۔

اس کے بعد ملک کی تاریخ میں پہلی بار یہ بھی ہوا کہ پارلیمان میں عدلیہ مخالف گفتگو کرنے پر اراکین اسمبلی کے علاوہ منتخب وزیراعظم کو بھی ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی میں طلب کیا گیا۔ اس کے بعد ایسا واقعہ ہوا جس کا کسی بھی مہذب ملک میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ہوا کچھ یوں کہ 28 نومبر 1997 کو حکمران جماعت کے سیاسی کارکن درجن بھر ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کی قیادت میں سپریم کورٹ پہنچے۔

ان میں احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمٰن اور نیلام گھر سے شہرت پانے والے مسلم لیگی ایم این اے طارق عزیز بھی شامل تھے۔ اس موقع پر نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے دوران سپریم کورٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا گیا اور توہین عدالت کی کارروائی کرنے والے بینچ کو اپنے چیمبروں میں پناہ لینا پڑی۔

لیکن معاملہ ختم ہونے کی بجائے مزید آگے بڑھا اور سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے صدر کی جانب سے اسمبلی توڑنے کے اختیار کو ختم کرنے والی تیرھویں آئینی ترمیم کے خاتمے کی درخواستوں پر سماعت شروع کر دی۔ اس سے حکومت اور عدالت کے درمیان کشیدگی میں اس قدر اضافہ ہوا کہ حکومت بھی کھل کر میدان میں آ گئی اور خود سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے ہی چیف جسٹس کے خلاف بغاوت کر دی۔

یہاں تک کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس سجاد علی شاہ کو سپریم کورٹ کے ہی ایک بینچ کے فیصلے کے نتیجے میں اپنے عہدے سے رخصت ہونا پڑا اور جسٹس اجمل میاں نئے چیف جسٹس مقرر ہوئے۔

جسٹس اجمل میاں کے چیف جسٹس بنتے ہی آئین کے آرٹیکل 63 اے کے خلاف دائر شدہ درخواستوں کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی اور بالآخر سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں چھ کے مقابلے میں ایک رائے کی اکثریت سے آئین کے آرٹیکل 63 اے کے خلاف آئینی درخواستوں کو خارج کر دیا۔

سپریم کورٹ کے چار ججوں کی طرف سے فیصلہ چیف جسٹس اجمل میاں نے تحریر کیا جس میں انہوں نے اس آرٹیکل کی تشریح کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کی طرف سے صرف اور صرف قانون ساز ادارے میں کی گئی پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزیوں کو اس آرٹیکل کے تحت قابل گرفت قرار دیا۔ البتہ دو ججوں، جسٹس سعید الزمان صدیقی اور جناب جسٹس ارشاد حسن خان، نے اس فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے اپنا اضافی نوٹ بھی تحریر کیا جس میں انہوں نے اپنا جو موقف دیا وہ ملک کی موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے آج کے موقف سے مطابقت رکھتا ہے۔

مسائل حل ہونے پر ملک احمد حسین ڈیہر کا عمران خان کو ووٹ دینے کا اعلان

ان دونوں ججوں نے یہ قرار دیا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے رکن قانون ساز ادارہ کی طرف سے پارلیمنٹ کی حدود سے باہر بھی کسی قسم کی ڈسپلن، حکمت عملی یا موقف کی خلاف ورزی (یعنی پارلیمان میں ووٹ ڈالنے یا ووٹ سے باز رہنے کے علاوہ بھی) اس سیاسی جماعت کے ووٹروں میں ناپسندیدگی کی موجب ہے، لہٰذا محض یہ عمل بھی اس رکن قانون ساز ادارہ کو اخلاقی، قانونی اور آئینی بنیادوں پر اس جماعت کی نمائندگی کا حق سے محروم رکھنے کے لیے کافی ہے۔

Why did Nawaz have match with court on law of horse trading? ] video

Back to top button