نواز شریف نے دوبارہ فوجی اسٹیبلشمنٹ پر حملہ کیوں کر دیا؟

 

 

 

سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی طویل سیاسی خاموشی توڑتے ہوئے ایک مرتبہ پھر فوجی اسٹیبلشمنٹ پر حملہ کر دیا ہے، تاہم اس مرتبہ ان کا ہدف موجودہ عسکری قیادت نہیں بلکہ سابقہ اسٹیبلشمنٹ ہے جس پر 2018 کے دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے عمران خان کو اقتدار میں لانے کا الزام لگتا ہے۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق نواز شریف نے دراصل نام لیے بغیر سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اور سابقہ آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کی جانب اشارہ کیا ہے۔ لیکن چونکہ فیض حمید پہلے ہی کورٹ مارشل کا سامنا کر رہے ہیں اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے شاید جنرل قمر جاوید باجوہ کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ نواز شریف نے دراصل اپنا پرانا موقف دہرایا  ہے کہ 2018 میں پراجیکٹ عمران خان کھڑا کرتے ہوئے جو تجربہ کیا گیا، وہ نہ صرف ملک بلکہ خود فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی بھگتنا پڑا، کیوں کہ بعد ازاں عمران خان کا ٹکراؤ انہی عسکری شخصیات سے ہوا جنہوں نے ان کی سیاسی راہ ہموار کرتے ہوئے انہیں وزارت عظمی کے منصب پر فائز کروایا تھا۔ اسی ٹکراؤ کے نتیجے میں عمران 2022 میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے گئے، جو پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایسا پہلا واقعہ تھا۔

 

بدھ کے روز لاہور میں ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے مسلم لیگی ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو جو طاقتور حلقے اقتدار میں لائے، وہ بھی ملک کی موجودہ تباہی کے ذمہ دار ہیں اور انہیں بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اکیلا مجرم نہیں بلکہ اسے لانے والے اس سے بھی بڑے مجرم ہیں اور ان کا احتساب اسی طرح ہونا چاہیے جیسے کسی اور کا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق 2018 سے 2022 تک ملک کے سیاسی، معاشی اور انتظامی حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری ان عناصر پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے عمران خان کو کرکٹ اور جلسے جلوسوں سے اٹھا کر وزیراعظم ہاؤس پہنچا دیا، حالانکہ وہ حکومت چلانے کے بنیادی تقاضے بھی پورے نہ کر سکے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف دراصل جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کا نام لیے بغیر ان کے کردار کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ مبصرین یاد دلاتے ہیں کہ 2017 میں سپریم کورٹ کے ذریعے نواز شریف کی نااہلی، پھر نیب مقدمات کی رفتار، اور 2018 کے انتخابات کے دوران انتخابی انجینیئرنگ اس بیانیے کو تقویت دیتے ہیں کہ تب کی عسکری قیادت نے سیاسی منظر نامے کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دیا۔ جنرل فیض حمید نہ صرف وزیراعظم کے سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے رہے بلکہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے خلاف اپنی مرضی کے عدالتی فیصلے بھی لیتے رہے۔ بعد ازاں عمران خان کے دباؤ پر جنرل قمر باجوہ نے فیض حمید کو آئی ایس آئی کا چیف بھی بنایا اور جنرل عاصم منیر کو اس منصب سے ہٹا دیا۔

 

یاد رہے کہ جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید نے عمران خان کو وزیراعظم بنوانے کے لیے پراجیکٹ عمران لانچ کیا تھا۔ اس پراجیکٹ کے تحت سب سے پہلے وزیر اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ کے ذریعے وزارت عظمی سے نااہل کروایا گیا۔ عمران کے وزیراعظم بن جانے کے بعد نواز شریف کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ اپنے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کے بعد نواز شریف نے جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے کردار کو کھل کر ہدفِ تنقید بنایا۔ 2020 کے گوجرانوالہ جلسے میں نواز شریف نے پہلی مرتبہ براہ راست جنرل باجوہ کا نام لے کر انہیں پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔ بعد ازاں لندن میں موجودگی کے دوران بھی نواز شریف نے یہ مؤقف دہرایا کہ 2018 کی انتخابی دھاندلی نے نہ صرف سیاسی نظام کو نقصان پہنچایا بلکہ فوج کے ادارے کو بھی تنازعات میں الجھا دیا۔

 

اب ایک عرصے بعد نواز شریف نے وہی پرانا لب و لہجہ اپناتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کی ہے لیکن اس مرتبہ انکا انداز مختلف ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے براہِ راست نام لینے کے بجائے سابقہ فوجہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، حالانکہ مبصرین کی نظر میں یہ پیغام اتنا ہی واضح تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل اور جنرل قمر باجوہ کی خاموشی دونوں سابقہ اسٹیبلشمنٹ کے اندرونی حالات کی کہانی خود بیان کر رہے ہیں۔

 

اپنے حالیہ خطاب میں نواز شریف نے سابق حکومت کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ملک کا دیوالیہ نکال دیا گیا، خارجہ امور میں انتشار پیدا ہوا، میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں اور کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور میں صرف گالی گلوچ، نفرت، انتشار اور فتنہ انگیزی کو فروغ دیا گیا اور یہی کلچر ملک کو نقصان پہنچانے کا سبب بنا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ن لیگ کی ترقیاتی رفتار جاری رہتی تو آج پاکستان دنیا میں ایک الگ مقام رکھتا۔

اڈیالہ جیل میں عمران کی موت کی افواہوں کے پیچھے کیا چل رہا ہے؟

نواز شریف نے تحریک انصاف کے الیکشن بائیکاٹ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ کیسا بائیکاٹ ہے جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خاندان خود الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔ ان کے مطابق اگر بائیکاٹ واقعی اصولی ہوتا تو پارٹی اس کی خلاف ورزی نہ کرتی۔ یاد رہے کہ اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کی تمام چھ نشستیں اور صوبائی اسمبلی کی سات میں سے چھ نشستیں حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نہ صرف ن لیگ کے لیے سیاسی ریلیف ثابت ہوئے ہیں بلکہ نواز شریف کو اپنا بیانیہ زیادہ مضبوطی سے پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ان کی تازہ تقریر نے ایک بار پھر یہ بحث زندہ کر دی ہے کہ 2018 کا عمرانی تجربہ کس کا فیصلہ تھا، پراجیکٹ عمران خان کیوں کھڑا کیا گیا اور اس کے نتائج کس نے بھگتے؟

Back to top button