پاکستان امریکی امیگرنٹ ویزا پابندیوں کی زد میں کیوں آ گیا؟

پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں غیر معمولی گرم جوشی اور اعلیٰ سطحی روابط کے باوجود امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جن کے شہریوں کی مستقل سکونت یا امیگریشن کی ویزا درخواستوں پر غیر معینہ مدت تک کارروائی روک دی گئی ہے۔ یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی، تاہم اس کا اطلاق سیاحتی، کاروباری اور تعلیمی ویزوں پر نہیں ہو گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ حالیہ برسوں میں امیگریشن کے حوالے سے سب سے سخت اقدامات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے تحت پاکستان، افغانستان اور ایران کے علاوہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال بھی متاثر ہوں گے، جبکہ مجموعی طور پر 75 ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں اپنے قونصل افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ امیگرنٹ ویزا کے خواہشمند افراد کی درخواستوں پر کارروائی روک دی جائے۔ تاہم جن افراد کو پہلے ہی امیگرنٹ ویزا جاری ہو چکا ہے، ان کے ویزے منسوخ نہیں کیے جا رہے۔ متاثرہ ممالک کے شہری نئی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں اور انٹرویوز بھی دے سکتے ہیں، لیکن پابندی کے خاتمے تک ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔
محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی درخواست گزار کے پاس دوہری شہریت ہو اور وہ کسی ایسے ملک کا پاسپورٹ رکھتا ہو جو پابندی کی فہرست میں شامل نہیں، تو اس فرد پر یہ پابندی لاگو نہیں ہو گی۔
امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ سفارتی تعلقات نہیں بلکہ امیگریشن پالیسی سے جڑے داخلی خدشات ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کا مؤقف ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح ہدایات دی ہیں کہ امریکہ آنے والے تارکین وطن مالی طور پر خود کفیل ہوں اور حکومتی فلاحی نظام پر بوجھ نہ بنیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جن ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد امریکہ میں حکومتی امداد اور فلاحی سہولتوں پر انحصار کرتی ہے، ان ممالک کے حوالے سے پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ویزا پراسیسنگ کو عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے تاکہ ایسے ممکنہ تارکین وطن کو روکا جا سکے جو مستقبل میں امریکی معیشت پر بوجھ بن سکتے ہوں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے 4 جنوری 2026 کو جاری کی گئی لسٹ کے مطابق پاکستانی نژاد امریکیوں میں سے تقریباً 40 فیصد حکومتی امداد حاصل کرتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے نزدیک یہی اعداد و شمار پاکستان سمیت کئی ممالک کو اس پابندی کی فہرست میں شامل کرنے کی ایک اہم وجہ بنے۔ لیکن بتایا جا رہا ہے کہ امیگریشن پالیسی کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے خدشات بھی اس فیصلے کی ایک وجہ ہیں۔
نومبر 2025 میں واشنگٹن ڈی سی میں ایک افغان نژاد شخص کی جانب سے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر حملے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے 19 ممالک اور بعد ازاں مزید ممالک پر سخت سفری اور امیگریشن پابندیاں عائد کی تھیں۔ پاکستان میں اس فیصلے پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں حیرت اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ حالیہ عرصے میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقاتیں ہوئیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مثبت قرار دیا جاتا رہا۔
کیا ٹرمپ فیملی کرپٹو کمپنی سے معاہدہ پاکستان کے گلے پڑ سکتا ہے؟
پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت کو امریکی ویزا پابندیوں سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کو امید ہے کہ نظرِ ثانی کے بعد یہ پابندی عارضی ثابت ہو گی۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ زیادہ تر امریکی داخلی سیاست، امیگریشن اصلاحات اور فلاحی نظام کے دباؤ سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ براہِ راست پاکستان-امریکہ تعلقات سے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جائزے کے بعد پاکستان کو اس فہرست سے نکال لیا جائے گا، تاہم فی الحال یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک امیگریشن کا معاملہ سفارتی تعلقات پر فوقیت رکھتا ہے۔
یوں، مثالی سفارتی تعلقات کے باوجود پاکستان کا اس لسٹ میں شامل ہونا امریکی امیگریشن پالیسی کے سخت گیر رجحان اور معاشی و داخلی ترجیحات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
