پاکستان کو فیض احمد فیض کی بجائے فیض حمید جیسے کیوں ملے؟

 

 

 

معروف صحافی اور جیو نیوز کے مینجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اسے فیض احمد فیض جیسے انسان دوست اور صاحبِ بصیرت دانشوروں کی ضرورت تھی جو مشکل ادوار میں قوم کی رہنمائی کرتے اور اسے درست سمت دکھاتے، لیکن بدقسمتی سے اسے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید جیسے مکروہ کردار ملے جنہوں نے پاکستان کو تباہی اور بربادی کے راستے پر ڈال دیا۔

 

معروف انگریزی روزنامہ دی نیوز کے ادارتی صفحے پر اپنے سیاسی تجزیے میں اظہر عباس کہتے ہیں کہ یہ ایک تلخ ستم ظریفی ہے کہ جو نام کبھی جبر اور آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا تھا، وہی نام بعد میں ایک نحوست زدہ کردار سے بھی جڑ گیا۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کو سنوارنے کے لیے فیض احمد فیض جیسے اصول پرست انسان درکار تھے، مگر اقتدار کے ایوانوں میں فیض حمید جیسے مکار اور عیار پہنچ گئے، جنہوں نے ملک کو غلط سمت میں دھکیلا اور قومی اداروں کو برباد کر دیا۔

 

اظہر عباس کہتے ہیں کہ نام صرف شناخت نہیں ہوتے بلکہ وہ تاریخ، امید اور تلخ تضادات کو بھی سمیٹے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں فیض کا نام دو بالکل متضاد ورثوں کی نمائندگی کرتا ہے، جو ریاست اور معاشرے کے دو مختلف تصورات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک جانب فیض احمد فیض معروف ترقی پسند اور انقلابی شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں جنکی فکری جدوجہد ناانصافی، جبر اور آمریت کے خلاف مزاحمت پر مبنی تھی۔ فیض احمد فیض کی فکر عام آدمی، مزدور، سیاسی کارکن اور ریاستی جبر کا سامنا کرنے والوں کو حوصلہ دیتی تھی۔ ان کے نزدیک اختلافِ رائے، سوال اٹھانا اور سوچ کی آزادی کسی بھی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ آمریت کے ادوار میں فیض احمد فیض ایک فکری علامت بن کر ابھرے اور نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور دانشوروں کے لیے حوصلے اور امید کا ذریعہ رہے۔ وہ ذاتی طور پر بھی ایک نرم خو، شفیق اور منکسر المزاج انسان تھے جنہوں نے اپنے نظریات کی قیمت قید و جلاوطنی کی صورت میں ادا کی، مگر انہوں نے کبھی طاقت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

 

اظہر عباس کہتے ہیں، دوسری جانب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید ایک طاقتور انٹیلی جنس سربراہ کے طور پر سامنے آئے، جس نے ناانصافی، جبر اور آمریت کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ فیض حمید کا سیاہ دور ریاستی کنٹرول اور دباؤ کا دور تھا جس میں جمہوری آزادیوں کو سلب کر لیا گیا۔ ان کے بقول اس عرصے میں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بارہا شکایت کی کہ اختلافی آوازوں کو دبایا گیا اور سیاسی عمل کو متاثر کیا گیا۔ اظہر عباس کے مطابق یہ وہ ذہنیت ہے جو کہ عوامی رائے اور ایک مخصوص بیانیے سے اختلاف کو خطرہ سمجھتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ فوجی عدالت کی جانب سے فیض حمید کے کورٹ مارشل اور 14 برس قید با مشقت کی سزا کو احتساب قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ سوچ ختم کرنے کے لیے بھی کوئی اقدامات ہوں گے جو کہ فیض حمید جیسوں کو جنم دیتی ہے۔

فیض حمید کو سزا خونی بھیڑیے کا انجام کیوں قرار پائی؟

اظہر عباس لکھتے ہیں کہ یہی وہ نکتہ ہے جہاں فیض احمد فیض اور فیض حمید کا فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایک طرف وہ فکر ہے جو اختلاف اور مکالمے کو طاقت سمجھتی ہے، جبکہ دوسری طرف وہ سوچ ہے جو اختلاف رائے کو بغاوت تصور کرتی ہے۔ ان کے مطابق جبر پر مبنی نظام وقتی استحکام تو لا سکتا ہے، مگر آگے چل کر وہ ریاست اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ جن شخصیات کو فکری اور اخلاقی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینا چاہیے تھا، ان کی جگہ طاقت کے مراکز میں ایسے کردار غالب رہے جنہیں ملک کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

 

Back to top button