پاکستانی سولر صارفین نیٹ میٹرنگ سے پیچھے کیوں ہٹنے لگے؟

وفاقی حکومت نے سولر صارفین کو 240واٹ کا پالیسی جھٹکا دیتے ہوئے زیرو بل کے خواب چکنا چور کر دئیے ہیں جس کے بعد سولر صارفین میں آف گرڈ سولر سسٹم کی جانب رجحان میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نیٹ میٹرنگ صارفین کیلئے اضافی سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی پر دیا جانے والا ریلیف مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ انرجی پالیسی میں کی گئی حالیہ تبدیلی کے بعد نہ صرف اضافی پیدا کردہ بجلی کو ’صفر یونٹ‘ تصور کیا جائے گا، بلکہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے صارفین کے کنکشنز پر سخت چیکس بھی نافذ کیے جائیں گے۔ انرجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے بعد صارفین کی ترجیحات میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے اور وہ اب زیادہ تر ہائبرڈ یا بیٹری بیسڈ سسٹمز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، تاکہ مزید نقصان سے بچتے ہوئے اپنی پیدا کردہ بجلی کے خود استعمال کو یقینی بنا سکیں۔
ناقدین کے مطابق نیٹ میٹرنگ بارے بدلتی حکومتی پالیسیوں، بجلی کے ناقابلِ برداشت بلوں اور لوڈشیڈنگ سے تنگ آ کر لاکھوں گھر، دکانیں اور فیکٹریاں نیشنل گرڈ سے مکمل طور پر لاتعلق ہو چکے ہیں۔ پاور ڈویژن کے مطابق ملک بھر میں 12 سے 13 ہزار میگاواٹ سے زائد آف گرڈ سولر سسٹم نصب ہو چکے ہیں ناقدین کے مطابق وہ وقت دور نہیں جب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے پاس وافر بجلی تو ہوگی، مگر اسے خریدنے والے صارفین موجود نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب نیپرا حکام کے مطابق پہلے سے موجود سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے معاہدوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور ان کے لائسنس اپنی مقررہ مدت تک برقرار رہیں گے۔ ایسے صارفین کو سابقہ معاہدوں کے طریقہ کار کے تحت ہی بلنگ کی جائے گی۔ تاہم، اگر کوئی موجودہ صارف اپنی سولر صلاحیت میں اضافہ یا تبدیلی کرتا ہے تو اسے پہلے والا نرخ نہیں ملے گا۔انرجی ماہرین کے مطابق حالیہ حکومتی پالیسیوں اور نیٹ میٹرنگ میں کی گئی تبدیلیوں کے بعد صارفین کا رجحان تیزی سے آن گرڈ سسٹمز سے ہائبرڈ سسٹمز کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ اب زیادہ تر لوگ نیٹ میٹرنگ کروانے کے بجائے ایسے ہائبرڈ سسٹمز کو ترجیح دے رہے ہیں، تاکہ اپنی پیدا کردہ بجلی کو خود استعمال کر سکیں اور اضافی بجلی کو گرڈ میں دینے پر انحصار نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی پالیسی کے تحت اضافی بجلی پر ریلیف ختم ہونے اور سخت چیکس کے نفاذ کے باعث صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی کشش کم ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین اب ایسے سسٹمز کی طرف جا رہے ہیں جن میں بیٹری بیک اپ شامل ہوتا ہے اور وہ لوڈشیڈنگ یا گرڈ کی عدم دستیابی کی صورت میں بھی بجلی حاصل کر سکتے ہیں۔
پٹرول کی قیمت میں 80 روپے کمی کس نے کروائی؟
تاہم بعض دیگر انرجی ایکسپرٹس کا ماننا ہے کہ حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے باوجود پاکستان میں سولر پینلز کی تنصیب اب بھی ایک پرکشش اور قابلِ عمل متبادل ہے، تاہم اس کا طریقہ کار بدل رہا ہے۔ پہلے صارفین نیٹ میٹرنگ کے ذریعے اضافی بجلی فروخت کر کے مالی فائدہ حاصل کرتے تھے، مگر اب نئی پابندیوں اور ریلیف میں کمی کے باعث اس ماڈل کی کشش کم ہوئی ہے۔ اس کے باوجود بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتیں اور غیر یقینی سپلائی سولر سسٹمز کی اہمیت کو برقراررکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کے بقول حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے بعد سولر پینلز کی تنصیب کے رجحان میں وقتی کمی ضرور آ سکتی ہے، مگر صارفین مکمل طور پر اس سے دور نہیں ہوں گے۔ بڑھتے ہوئے بجلی کے بل اور گیس کی قیمتیں لوگوں کو متبادل ذرائع اپنانے پر مجبور کر رہی ہیں۔ اب زیادہ تر گھروں میں الیکٹرک گیزر، الیکٹرک چولہے اور دیگر برقی آلات کا استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے بجلی کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں سولر سسٹمز کے رجحان کا مکمل خاتمہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ سولر انرجی نہ صرف بجلی کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد حل بھی فراہم کرتی ہے۔ مستقبل میں سولر سسٹمز کی مانگ برقرار رہے گی، مگر صارفین کے انتخاب کا انداز اور ترجیحات تبدیل ہوں گی، اور وہ ہائبرڈ یا بیٹری بیسڈ سسٹمز کو زیادہ ترجیح دیتے نظر آئیں گے۔
