پاکستانی سٹہ باز اچانک ایرانی ریال کیوں خریدنے لگے؟

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جہاں عالمی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا اور بڑے بڑے سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال سے بچنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دئیے، وہیں کراچی کے سٹہ بازوں نے خاموشی سے ایک ایسا داؤ کھیلا جس نے دنیا بھر کے جواریوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ذرائع کے مطابق شہر کے بااثر کرنسی ڈیلرز اور سٹہ بازوں نے جنگ کے دوران اربوں روپے مالیت کی ایرانی کرنسی خرید کراس امید کے ساتھ مارکیٹ میں “ڈمپ” کر دی، کہ جیسے ہی جنگ ختم ہوگی، ایرانی کرنسی کی قدر میں کئی گنا اضافہ ہوگااور وہ اسی ایک چال سے اربوں روپے کا منافع سمیٹنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ تاہم معاشی ماہرین کے مطابق اگر اسلام آباد مذاکرات کے بعد جنگ بندی مستقل ہو گئی اور حالات ایران کے حق میں بہتر ہوئے توسٹہ بازوں کا یہ داؤ تاریخ کے کامیاب ترین مالی فیصلوں میں شمار ہو سکتا ہے، لیکن اگر صورتحال اس کے برعکس گئی تو یہی ایرانی کرنسی میں اربوں روپے لگانے والے سرمایہ کار سڑکوں پر بھی آ سکتے ہیں۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق سٹہ بازوں کی جانب سے بھاری مقدار میں ایرانی کرنسی کی خریداری نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور کراچی میں ایرانی ریال کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہےتاہم ذرائع کے مطابق اب بھی کراچی مارکیٹ میں ایک ہزار پاکستانی روپے کے عوض تقریباً 47 لاکھ ایرانی ریال مل رہے ہیں، جو خاص طور پر چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے اس کرنسی میں سرمایہ کاری کو مزید پرکشش بنا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی مزاحمت اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کی محدود پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اس یقین کو مزید مضبوط بنا دیا ہے کہ پاکستان میں جاری مذاکرات کے بعد خطے کا معاشی اور سیاسی توازن تبدیل ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف ایرانی کرنسی کی قدر بہتر ہو گی بلکہ اس میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی بھی اربوں روپے کمانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
ذرائع کے بقول منافع کے حصول کیلئے ایرانی کرنسی کو خرید کر ڈمپ کرنے والے کراچی میں سرگرم یہ سرمایہ کار گروپس ماضی میں بھی سونے، چاندی، تیل، قیمتی پتھروں اور حتیٰ کہ کھیلوں میں سٹہ بازی کے ذریعے بھاری منافع کماتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان سٹہ بازوں کا طریقہ کار مکمل طور پر امکانات، تجزیوں اور تیز رفتار فیصلوں پر مبنی ہوتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس پورے نیٹ ورک کا بڑا حصہ خفیہ واٹس ایپ گروپس کے ذریعے منظم کیا جا رہا ہے، جہاں سرمایہ کار لمحہ بہ لمحہ معلومات، عالمی خبریں، کرنسی ریٹس اور خرید و فروخت کے سگنلز شیئر کرتے ہیں۔ یہی ڈیجیٹل رابطے انہیں فوری اور مؤثر فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے یہ نیٹ ورک ایک منظم اور طاقتور مالی نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری بظاہر ایک بڑا سٹہ ضرور ہے، لیکن موجودہ معلومات اور تجزیے کی بنیاد پر اسے ایک منافع بخش موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ایران پر بین الاقوامی پابندیاں نرم ہوتی ہیں اور تیل و گیس کی تجارت میں اس کا کردار بڑھتا ہے تو ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، جس سے یہ سرمایہ کار بھاری منافع کما سکتے ہیں۔ تاہم معاشی ماہرین کے مطابق ایرانی ریال میں سرمایہ کاری جتنی پرکشش دکھائی دیتی ہے، اس میں خطرات بھی اسی قدر موجود ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج کرنسی کی قیمت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ ہے، جہاں معمولی سیاسی یا معاشی پیش رفت بھی ریال کی قدر کو تیزی سے اوپر یا نیچے لے جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے ایک مستقل غیر یقینی فضا پیدا کیے ہوئے ہے، جس میں کسی بھی وقت حالات یکسر تبدیل ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی یا سختی بھی اس سرمایہ کاری کے مستقبل کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر پابندیاں مزید سخت ہوئیں یا تیل و گیس کی برآمدات متاثر ہوئیں تو ریال کی قدر دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ سرمایہ کاری بظاہر منافع بخش ضرور ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ہائی رسک داؤ ہے جس میں محتاط حکمت عملی اور بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو نقصان کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہیں۔ ماہرین کے بقول کرنسی کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ، جنگ کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی پابندیوں میں تبدیلی جیسے عوامل اس داؤ کو نقصان میں بھی بدل سکتے ہیں۔
