صدر ٹرمپ نے جنگ کی دلدل سے نکلنے کا فیصلہ کیوں کر لیا؟

 

 

 

مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ ایک ماہ گزرنے کے باوجود اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، اپنی فوجی برتری کے باوجود بظاہر امریکہ ایک پیچیدہ دلدل میں پھنس چکا ہے جس سے نکلنے کے لیے اب صدر ٹرمپ نے یہ دعوی کر دیا ہے کہ ان کے حملے کا مقصد ایران میں ریجیم کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اس کے نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ تھا۔

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں ریجیم چینج کا ہدف حاصل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر حملے شروع کیے۔ یہی وجہ تھی کہ سب سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنائی کو شہید کیا گیا لیکن انکی شہادت کے باوجود ایران میں عوامی بغاوت کی بجائے ایرانی عوام امریکی دباؤ کے خلاف مزید متحد ہو کر کھڑے ہو گئے۔

 

نصرت جاوید کے مطابق امریکی حکمت عملی اس مفروضے پر مبنی تھی کہ ایرانی عوام حکومت سے نالاں ہو کر بیرونی مداخلت کو قبول کریں گے اور ریجیم کی تبدیلی کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں گے، تاہم زمینی حقائق نے اس سوچ کو غلط ثابت کیا اور ایرانی قوم پرستی اور خودمختاری کا جذبہ اس اندازے پر غالب رہا۔

ریجیم چینج میں ناکامی کے بعد امریکہ نے ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کی، مگر کئی ہفتوں کی شدید بمباری کے باوجود نہ یہ پروگرام مکمل طور پر تباہ کیے جا سکے اور نہ ہی ایران کی عسکری صلاحیت کو فیصلہ کن نقصان پہنچایا جا سکا۔ اس کے برعکس ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف اپنے دفاع کو برقرار رکھا بلکہ خطے کے مختلف مقامات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنا کر یہ ظاہر کیا کہ اس کی عسکری قوت بدستور فعال ہے۔

 

اب صورتحال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے خود کو دلدل میں پھنستا ہوا دیکھ کر پینترا بدل لیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ایران پر حملے کا مقصد ریجم کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ وہ اسکے نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ چاہتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حملوں کے بعد اب ایران اس قابل نہیں رہا کہ اگلے 5 برس تک دوبارہ سے اپنا نیوکلیئر پروگرام شروع کر پائے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے برس مارچ میں بھی جب امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تھا تو صدر ٹرمپ نے یہ دعوی کر دیا تھا کہ ایرانی نیوکلیئر پروگرام کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

 

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کی ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ اس راستے کی بندش نے صدر ٹرمپ کو جھنجھلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ ایران پر حملہ کرتے وقت انہوں نے یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ آبنائے ہرمز بھی بند ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے یورپ کے علاوہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور مشرقی ایشیا کے ممالک کے لیے تیل کی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ کے لیے تمام تر دباؤ کے باوجود اس آبی گزرگاہ کو کھلوانا اس لیے مشکل ہو گیا ہے کہ ایران کو اس علاقے میں جغرافیائی برتری حاصل ہے، کسی بڑے فوجی آپریشن سے جنگ کے مزید پھیلنے کا خطرہ موجود ہے اور عالمی تجارت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے محض طاقت کے استعمال سے یہ مسئلہ حل ہونا ممکن نہیں رہا۔

 

دوسری جانب ایران نے سفارتی سطح پر نسبتاً محتاط حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے یہ تاثر دینا شروع کیا ہے کہ وہ بعض ممالک کے لیے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتا، جس سے امریکہ پر اخلاقی اور سفارتی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کی جانب سے ممکنہ ثالثی کی کوششیں بھی سامنے آ رہی ہیں، جو کسی حد تک کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور اب ان کی توجہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے پر مرکوز ہے، تاہم حالیہ بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق وہ اب اپنے قریبی ساتھیوں کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ فوری جنگ بندی ان کی اولین ترجیح ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھلوانا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا اور ایران کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امریکہ یہ جنگ چھیڑ کر مشکل میں پھنس چکا ہے۔ ایک طرف ایرانی عوام کے بارے امریکی انٹیلیجنس اندازے غلط ثابت ہوئے، تو دوسری جانب ایرانی عسکری اور سیاسی مزاحمت توقع سے زیادہ مضبوط نکلی۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اور اس پر ایران کا اثر و رسوخ ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا، جبکہ عالمی سطح پر توانائی بحران نے امریکہ کے خلاف دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے اور جنگ کا جواز بھی کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

امریکا 2 سے 3 ہفتوں میں ایران جنگ سے باہر آسکتا ہے: صدر ٹرمپ

 

اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ صورت حال شدید غیر یقینی کا شکار ہے۔ امریکہ جنگ بندی کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے، مگر صدر ٹرمپ کے بیانات میں تضاد پالیسی کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ آبنائے ہرمز کے کھلنے یا بند رہنے کا معاملہ نہ صرف اس جنگ کے انجام کا تعین کرے گا بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

Back to top button