ایران پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ کو لینے کے دینے کیوں پڑ گئے؟

ایران پر حملہ کرنے کے بعد امریکہ کو بظاہر لینے کے دینے پڑ گئے ہیں کیونکہ ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے بیشتر اندازے الٹے ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ واشنگٹن کو توقع تھی کہ ایران پر شدید حملوں کے بعد وہاں اندرونی خلفشار پیدا ہوگا اور حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس سامنے آ رہی ہے۔ ایران نہ صرف امریکی اور اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دے رہا ہے بلکہ جنگ کا دائرہ تیزی سے پھیل کر خلیجی ریاستوں تک جا پہنچا ہے اور پورا خطہ ایک وسیع محاذ میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
جنگ شروع ہوئے دو ہفتے سے زائد گزر جانے کے باوجود ایران اور اسکے اتحادی گروہ میزائل حملوں، پراکسی کارروائیوں اور سمندری راستوں میں خلل ڈالنے کے ذریعے دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں تاحال ایران کو پسپائی پر مجبور کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔ امریکی حکمت عملی کا فوری ہدف بظاہر اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم مسلسل فضائی حملوں کے باوجود ایران کی جوابی کارروائیاں کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
ادھر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے وسطی اور مغربی علاقوں میں میزائل اور فضائی حملے جاری ہیں۔ ان حملوں میں صنعتی تنصیبات، پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ فضائی اڈے اور انٹیلی جنس و سیٹلائٹ نقشہ سازی کے مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کاروائیوں کا بنیادی مقصد ایران کی فوجی اور لاجسٹک صلاحیت کو کمزور کرنا ہے لیکن بظاہر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
صدر ٹرمپ نے اب جنگ کے بنیادی جواز کو آبنائے ہرمز کی بحالی قرار دیتے ہوئے اپنے اتحادی ممالک سے اس مقصد کے لیے بحری تعاون کی اپیل کی ہے۔ واشنگٹن نے برطانیہ، فرانس، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے جنگی بحری جہاز یا لاجسٹک مدد فراہم کریں۔ تاہم اب تک ان میں سے ایک بھی ملک نے صدر ٹرمپ کی تجویز پر مثبت جواب نہیں دیا۔ بیشتر مغربی حکومتیں براہِ راست جنگی کارروائی میں شامل ہونے کے بجائے صرف مشاورت یا دفاعی تیاریوں تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔
اسرائیل کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 500 ایرانی بیلسٹک میزائل اسرائیلی علاقوں کی جانب داغے جا چکے ہیں۔ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا دائرہ خلیجی ممالک تک پھیل چکا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر کے مختلف علاقوں میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔ ایرانی کمانڈرز نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ خلیج میں امریکی فوجی سرگرمیوں سے جڑی ہوئی بندرگاہیں، توانائی تنصیبات اور صنعتی مراکز جنگ جاری رہنے کی صورت میں ایران کے جائز ہدف ہوں گے۔
اس دوران خطے میں ایران سے وابستہ گروہ بھی متحرک ہو گئے ہیں۔ عراق میں ملیشیا گروپوں نے امریکی فوجی تنصیبات پر کئی حملے کیے ہیں جس سے وہاں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ عراقی رہنماؤں نے غیر ملکی افواج کی موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل جھڑپیں ملک کو وسیع علاقائی جنگ میں دھکیل سکتی ہیں۔ ایک اور ممکنہ خطرناک محاذ یمن میں کھل سکتا ہے جہاں حوثی تحریک نے ایران کے ساتھ فوجی ہم آہنگی کا اعلان کر دیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حکمت عملی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے پاس براہِ راست جنگ کے علاوہ غیر روایتی جنگی طریقوں کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں موجود ایران نواز گروہ بیک وقت کئی محاذ کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے امریکی فوجی دباؤ تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدود فضائی حملوں کے باوجود ایران کو مکمل طور پر کمزور کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
اقتصادی سطح پر بھی اس جنگ کے اثرات تیزی سے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ آبی گزرگاہ مکمل طور پر بند ہو گئی تو عالمی توانائی کی ترسیل کا تقریباً ایک تہائی حصہ متاثر ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کے حوالے سے شدید سیاسی اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ بعض امریکی قانون سازوں اور تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف وسیع جنگ شروع کرنے سے پہلے واضح حکمت عملی اور کانگریس کی مکمل منظوری ضروری تھی۔ ناقدین کے مطابق اگر جنگ طویل ہو گئی تو اس کے سیاسی اثرات امریکی داخلی سیاست اور آئندہ انتخابات تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی قیادت اس جنگ کو قومی بقا اور مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ ایرانی میڈیا اور سرکاری بیانات میں مسلسل یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ملک بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزید مضبوط ہو کر سامنے آئے گا۔ اس بیانیے نے بظاہر داخلی سطح پر حکومت کے لیے عوامی حمایت کو بڑھانے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ عالمی سفارتی سطح پر بھی اس بحران کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ بعض یورپی ممالک اور علاقائی طاقتیں پس پردہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم اب تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ جنگ کے پھیلتے ہوئے دائرے نے عالمی برادری کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ یہ تنازعہ کسی بھی وقت مکمل علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
کیا چین پاک افغان جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہو پائے گا؟
موجودہ صورتحال سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کامیابی کی امریکی توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ اس کے برعکس جنگ ایک پیچیدہ اور طویل تنازع میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس میں عسکری، سیاسی اور اقتصادی عوامل ایک ساتھ اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اگر جلد سفارتی حل تلاش نہ کیا گیا تو مشرق وسطیٰ کا یہ بحران نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے بڑے عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
