صدر ٹرمپ پاکستان کی محبت میں مودی کو انگلی کیوں کروانے لگے ؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی یکے بعد دیگرے بھارت مخالف سوشل میڈیا پوسٹس نے مودی سمیت بھارتیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بھارت میں حیرانی کے ساتھ ساتھ پریشانی بھی ہے کہ آخر ٹرمپ پر پاکستان نے کون سا جادو کر دیا ہے کہ وہ بھارتی وزیراعظم مودی کو انگلی کرواتے ہوئے ان کی ساکھ کو خراب کیے جا رہے ہیں، دوسری جانب وہ پاکستان اور اسکی سیاسی اور فوجی قیادت کی تعریفیں کر رہے ہیں۔
رؤف کلاسرا اپنے سیاسی تجزیے میں لکھتے ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وائٹ ہائوس میں لنچ دینے کے بعد سے امریکی صدر ہر جگہ ان کی مسلسل تعریفیں کر رہا ہے۔ ابھی بھارت ان تعریفوں کے غم سے ہی نکل نہیں پایا تھا کہ صدر ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرتے ہوئے روس سے اسلحہ اور تیل خریدنے پر جرمانہ عائد کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
بھارت پر ٹیرف عائد کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں تیل کی پیداوار کے حوالے سے امریکی تعاون کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے ایک مشترکہ کمپنی بنائی جائے گی۔ انہوں نے بھارت کے زخموں پر مزید نمک چھڑکتے ہوئے کہا کہ کیا پتا کسی روز بھارت پاکستان سے تیل خرید رہا ہو۔
کلاسرا کے مطابق بھارت اب تک تو یہی کوشش کر رہا تھا کہ وہ ٹرمپ کا پاک بھارت جنگ بند کروانے کا دعوی تسلیم نہ کرے۔ اگرچہ بی جے پی حکومت کے ارکان اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں لیکن اب جب ٹرمپ نے بھارت کو اتنا بڑا جھٹکا دیا ہے تو مودی چپ نہیں ریے گا۔ معاشی ماہرین کے مطابق امریکی صدر کے بھارت مخالف غیر معمولی اعلانات کے بعد انڈین کرنسی پر دباؤ بڑھے گا اور ڈالر کے مقابلے میں بھارتی کرنسی کی قدر میں خاطر خواہ کمی ہو گی‘ اس کا مطلب ہے کہ بھارت میں آنے والے دنوں میں درآمدات مہنگی ہوں گی جس سے وہاں مہنگائی بڑھے گی اور دھیرے دھیرے عوام مودی کے خلاف ہو سکتے ہیں۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ بھارت‘ سعودی عرب اور روس سے اپنا تیل منگواتا ہے‘ کرنسی کی قدر کم ہونے سے اسے وہ تیل بھی مہنگا ملے گا۔
بھارت نے جب سے اپنی اَنا یا غرور میں ٹرمپ کے پاک بھارت جنگ بندی میں ادا کردہ کردار سے انکار کرنا شروع کیا‘ تب سے مودی اور ٹرمپ کے مابین ایک سرد مہری آنا شروع ہو گئی تھی۔ بھارت یہ نہیں چاہتا تھا کہ امریکہ پوری دنیا کے سامنے یہ بات کرے کہ جنگ بندی اس نے کرائی ہے اور یوں لگے کہ امریکہ کبھی بھی بھارت کو ایک فون کر کے گھٹنوں پر لا سکتا ہے۔ اب تک بھارتی سیاستدان اور ان کا میڈیا پاکستان کو طعنے دیتے تھے کہ اسلام آباد واشنگٹن سے آئے ایک فون پر ڈھیر ہو جاتا ہے جبکہ بھارت کو جھکانے کی کسی کو جرأت نہیں۔ یوں بھارتیوں کے اندر ایک عجیب سا تکبر بھر گیا تھا‘ جو نریندر مودی کے دورِ حکومت میں مزید ابھر کر سامنے آنا شروع ہوا اور عوام نے یہ نعرہ لگا دیا کہ مودی ہے تو ممکن ہے۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ حکومت میں آنے کے بعد مودی نے یہاں تک کہا کہ دنیا جان لے کہ اب بھارت کا وزیراعظم کوئی عام بندہ نہیں بلکہ چھپن انچ کی چھاتی رکھنے والا مودی ہے۔ یہ پہلا لیڈر تھا جو اپنی چھاتی کی لمبائی عوام کو بتا کر اپنی بہادری کی مثال دے رہا تھا۔ اسکے بعد مودی نے بھارتیوں کو یہ نعرہ بھی دیا کہ اگر بھارت ماتا کو عظیم بنانا ہے یا قدیم ہندو سلطنت کو بحال کرنا ہے تو پھر مودی کا حکومت میں رہنا ضروری ہے کیونکہ مودی ہے تو ممکن ہے۔ اس طرح مودی کو Larger than life شخصیت بنا کر پیش کرنے کا کام شروع ہوا۔ مودی نے ہر بھارتی کو یقین دلا دیا کہ وہ چین سے بھی ٹکر لے گا اور جو کام وزیراعظم نہرو 1962ء میں نہ کر سکے اور چین کو بھارتی علاقہ دے بیٹھے تھے‘ مودی آئندہ ایسا نہیں ہونے دے گا۔ یہ چورن بھی بیچا گیا کہ بھارت پاکستان کو گھس کر مارے گا۔ مودی نے پاپولسٹ لیڈر بننے کا راستہ لیا تا کہ عوام کو جھوٹے خواب دکھا کر وہ خود کو بھگوان ثابت کر سکیں۔
مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت کو عروج پر پہنچا کر مودی نے ایک ایسی ٹیم بنائی کہ لگتا تھا اب دنیا تین لوگ چلائیں گے‘ بھارتی وزیراعظم مودی‘ وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھارتیوں کے اندر ایسی ہوا بھری کہ وہ انہیں مسیحا سمجھنے لگے۔ مودی نے 11 برسوں میں اپنے فالوورز کو اتنے اونچے بانس پر بٹھا دیا ہے کہ وہ یہ سن ہی نہیں سکتے کہ مودی کو صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بند کرو اور اس نے فوراً حکم کی تعمیل کر دی۔ بھارتی عوام سمجھتے ہیں کہ مودی کا بھارت اتنا عظیم ملک ہے جس کے سامنے صدر ٹرمپ کی کوئی حیثیت نہیں۔
لیکن یہی المیہ ہوتا ہے کہ جب کوئی پاپولسٹ لیڈر اپنے عوام کو خوابوں کی دنیا میں لے جاتا ہے تو ملک اور جمہوریت کو نقصان ہوتا ہے۔ پاپولسٹ لیڈر عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اسے عظیم بنانے کا خواب دکھاتا ہے اور جعلی عظمت کی وہ کہانیاں گھڑ لیتا ہے کہ اس کے فالوورز تصور ہی نہیں کر سکتے کہ ان کے لیڈر کو کوئی نیچا بھی دکھا سکتا ہے۔ چنانچہ اب بھارت شدید مشکل میں آ گیا ہے۔ امریکہ نے بھارت کو پہلی مرتبہ بڑا جھٹکا دیا ہے کہ جاؤ ہمیں تمہاری ضرورت نہیں‘ ہم چین سے خود ڈیل کر لیں گے۔ آپ چین کے نام پر ہمیں بلیک میل نہ کرو‘ لیکن مودی کے فالوورز کو یقین ہے کہ ان کا وزیراعظم اتنا مہان ہے کہ بہت جلد ٹرمپ اپنے گھٹنوں پر بیٹھ کر ان سے معافی مانگے گا۔ اگر یقین نہیں آتا تو ٹویٹر پر جا کر بھارتیوں کی ٹویٹس پڑھ لیں جہاں مودی کے بھگت تکبر سے پوچھ رہے ہیں کہ ٹرمپ کب معافی مانگے گا ہمارے چھپن انچ چھاتی والے مودی سے۔ یہ ہے پاپولسٹ لیڈر کا سحر کہ اس کے فالوورز اسے انسان نہیں بلکہ بھگوان سمجھ لیتے ہیں۔
