پنجاب میں پی ٹی آئی کے چلے ہوئے کارتوس دوبارہ چلانے کا فیصلہ کیوں ہوا؟

پی ٹی آئی نے پنجاب میں ایک بار پھر اپنے چلے ہوئے کارتوسوں کو آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے 9مئی کے کیسز میں مفرور مجرمان وسطی پنجاب کے صدر احمد چھٹہ اور جنرل سیکریٹری بلال اعجاز کو اپنے عہدوں پر بحال کردیا ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین پی ٹی آئی کے اس فیصلے کو عمران خان کی سیاسی عدم پختگی سے تعبیر کر رہے ہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کا نام تک لینے سے لوگ گریز کرتے ہیں، ایسے میں یہ مفرور ملزمان کس طرح پارٹی کارکنوں کو متحرک کر پائیں گے؟ عوام کو تو میدان میں لانا تو دور کی بات، یہ خود نومئی کے واقعات میں عدالت سے 10، 10 سال کی سزا پانے کے بعد پولیس سے چھپتے پھر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایک سال قبل احمد چٹھہ کو صدر وسطی پنجاب اور بلال اعجاز کو جنرل سیکرٹری مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ لیکن چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان اس معاملہ پر اتفاق نہ ہونے کے باعث کئی ماہ سے یہ عہدے دار غیر فعال رہے۔ تاہم اب یہ معاملہ عمران خان تک پہنچنے کے بعد اب ان کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے پی ٹی آئی کو پنجاب میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ 9مئی کے روز جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کیلئے چیلنجز کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ عمران خان کی کال پر ملک گیر احتجاجی تحریک کے دوران بھی پنجاب سے بڑے جلسے جلوس تو کجا چھوٹی چھوٹی ریلیاں بھی نہیں نکالنے دی گئیں یہاں تک کہ کئی مرتبہ درخواست دینے کے باوجود مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔ صوبے کے اہم رہنما پابند سلاسل ہیں۔ نومئی کے واقعات میں کردار کے علاوہ بھی ان پر کئی درجنوں مقدمات درج ہیں جن میں بڑی تعداد میں کارکناں یاتو گرفتار ہیں یا مفرور ہوکر خیبر پختونخوا میں قیام پذیر ہیں جبکہ باقی ماندہ کارکنان اور قائدین بلوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں عمران خان نے پی ٹی آئی کے مفرور ملزمان کو ان کے عہدوں پر بحال کرکے پارٹی کیلئے سخت مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان کی ہدایت پر صدر وسطی پنجاب کے عہدے پر بحال ہونے والے احمد چٹھہ سینیئر سیاست دان حامد ناصر چٹھہ کے صاحبزادے ہیں۔ وہ آٹھ فروری کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 66 وزیر آباد سے پی ٹی آئی کی حمایت سے کامیاب ہوئے تھے۔ وہ نو مئی کے مقدمے میں 10 سال سزا کے باعث نااہل قرار پائے تھے۔ اس حلقے سے چند دن پہلے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوار بلال فاروق تارڑ بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں کیونکہ لیگی امیدوار کو تمام اتحادیوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی جبکہ تحریک انصاف نے ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اسی طرح بلال اعجاز کو بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نومئی کے مقدمے میں 10 سال قید کی سزا سنا رکھی ہے۔ یہ دونوں عہدےدار بحالی کے باوجود منظر عام پر نہیں آسکیں گے کیوں کہ عدالت نے ان کو مفرور قرار دے کر گرفتاری کا حکم دے رکھا ہے۔
تاہم پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے مطابق’پر امن سیاست سے کسی کو نہیں روکا جاتا لیکن قانون ہاتھ میں لینے توڑ پھوڑ کرنے یا عدالتوں سے سزا یافتہ مجرموں کو قانون کا سامنا کرنے پڑے گا۔ ہم عوام کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔‘
عمران کے دور حکومت میں بشریٰ بی بی سرکاری فیصلوں پر اثرانداز ہوتی رہیں : برطانوی جریدہ
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مفرور ہی ٹی آئی رہنما احمد چٹھہ کے مطابق ’ہمیں عمران خان کے حکم پر بحال کیا گیا ہے۔ ہمیں جھوٹے کیسوں میں سزائیں دے کر نااہل کیا گیا اور سیٹیں چھینی جارہی ہیں۔ لیکن ہم اپنے لیڈر کی ہر کال پر حاضر ہیں چاہے بلدیاتی الیکشن ہو یا کوئی بھی انتخاب پارٹی کارکنوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جس حد تک ہوسکتا ہے متحرک ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں دوسرے صوبوں کی نسبت سب سے زیادہ انتقامی کارروائیوں کا سامنا پنجاب میں ہے۔ اتنی سختی سندھ یا بلوچستان میں بھی نہیں جتنی یہاں کی جارہی ہے۔ لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا عوام ہمارے ساتھ ہیں۔’چاہے ہمیں دوسری جماعتوں کی طرح سیاست کرنے کی اجازت نہیں لیکن پھر بھی آٹھ فروری کو عوام نے عمران خان کو سب سے زیادہ ووٹ دیے۔ اب بھی پابندیوں کے باوجود ہر انتخاب میں کامیاب ہوں گے۔‘
تاہم سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے بقول: ’تحریک انصاف کی پہلے درجے کی قیادت پر مقدمات ہیں اور کئی جیل میں بند ہیں۔ دوسرے درجے کی قیادت بھی مشکلات سے دوچار ہے۔ لہٰذا عمران خان نے اپنے وفا دار اور قابل اعتماد ساتھیوں پر انحصار کر کے اچھا سیاسی فیصلہ کیا ہے۔‘ سلمان غنی کے بقول: ’سیاسی جماعتوں کو گرفتاریوں یا سزاؤں سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ نومئی واقعات کے بعد پی ٹی آئی قیادت اور کارکن مشکل میں ہیں لیکن اس سے ان کا ہمدردی کا ووٹ بڑھ رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کی سیاست وفاق کا فیصلہ کرتی ہے مگر ایسا نہیں کہ تحریک انصاف پر سختیوں کی وجہ سے ووٹ بینک ختم ہو رہا ہے۔ البتہ عمران خان سیاسی حکمت عملی بہتر کر لیں اداروں سے مزاحمت ترک کردیں تو سختیاں ختم ہوسکتی ہیں اور پی ٹی آئی بھی ن لیگ یا پی پی پی کی طرح دوبارہ سیاسی عروج حاصل کر سکتی ہے۔
