پی ٹی آئی نے ترکی کے صدر کی آمد پر احتجاج کی کال کیوں دے دی؟

اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے تحریک انصاف ریاستی مفادات کو نقصان پہنچانے اور ملکی سالمیت پر حملہ آور ہونے کا کوئی موقع ضائع کرتی دکھائی نہیں دیتی۔پی ٹی آئی نے ترکیہ کے صدر طیب اردگان کی آمد سے 3 دن قبل 8فروری کو احتجاج کی کال دے کر اپنی اسی مکروہ روایت کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔کیونکہ جب بھی کوئی غیر ملکی اہم شخصیت پاکستان آرہی ہوتی ہے یا پاکستان میں کسی بین الاقوامی پروگرام کا انعقاد ہونا ہو تو پی ٹی آئی ملک میں افراتفری پیدا کرنا، وفاق پر حملہ آور ہوکر عدم استحکام کرنا لازم سمجھتی ہے۔
مبصرین کے مطابق اپنی ماضی کی روایت کے عین مطابق ڈیڈ لائن سے پہلے ہی پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو سبوتاژ اسی لئے کیا تھا تاکہ وہ پورے انہماک سے ملک میں امن عامہ اور استحکام کے لئے مسائل پیدا کرسکے حالانکہ پی ٹی آئی قیادت اچھے سے جانتی تھی کہ 11فروری کو ترکیہ کے صدر سرمایہ کاروں کے ایک وفد کے ہمراہ پاکستان آرہے ہیں اور ترکیہ کے اس اعلیٰ سطحی وفد کے حکام سے بڑے تجارتی معاہدے متوقع ہیں تاہم تحریک انصاف نے ذاتی مفادات کو ریاستی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے ایک بار پھر 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کے نام پر انتشار پھیلانے کا اعلان کر دیا ہے تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کی روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بار پی ٹی آئی کو احتجاج کے نام پر وفاق پر حملے کی اجازت دینا تو کجا انھیں خیبرپختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں میں کسی بڑے احتجاجی جلسے، جلوس یا ریلی کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق ریاستی املاک پر حملہ آور ہونے اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کی بھرپور ٹھکائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ نام نہاد احتجاج کے نام پر ریاستی املاک پر دھاوا بولنے کے کوشش کرنے والے یوتھیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور ان کو نشان عبرت بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کسی کو ریاستی املاک پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس نے یوتھیوں کو قابو کرنے کے حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں جبکہ پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کو لا ہور میں مینار پاکستان کے سائے تلے آٹھ فروری کو جلسے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 8 فروری کو پی ٹی آئی کو نہ صرف جلسے کی اجازت نہیں ملے گی بلکہ اس کے بعد شرپسندی کرنے والوں کی زبردست ٹھکائی کی حکمت عملی بھی مرتب کر لی گئی ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے آٹھ فروری کو مینار پاکستان کے سائے تلے احتجاجی جلسے کی اجازت کی درخواست دی ہے اور ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت ملنا تو ممکن نہیں اس لئے تحریک انصاف پلان بی کے طور پر 8 فروری کو گھروں میں بیٹھ کر یوم سیاہ منا سکتی ہے تاہم کسی کو سڑکوں کو بلاک کرنے اور شرپسندی کرنے کی قطعا اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق حکومتی جارحانہ حکمت عملی کی وجہ سے تحریک انصاف کے رہنما بھی چھپتے پھر رہے ہیں۔ ابھی تک رہنماؤں کی جانب سے 8 فروری کے حوالے سے کوئی تیاریاں نظر نہیں آ رہی ہیں جبکہ تاحال جلسے یا یوم سیاہ کے حوالے سے پارٹی کارکنان کو کوئی ہدایت نامہ بھی جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی مشاورت کی گئی ہے۔ تاہم دوسری جانب پولیس حکام نے صوبائی دارالحکومت میں امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ پولیس افسران کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔
عمران اور شہباز کا وجود ایک دوسرے کی بقا کے لیے ضروری کیوں ہے ؟
خیال رہے کہ لاہور میں چھ سے آٹھ فروری تک کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کی پہلی ریجنل کانفرنس ہو رہی ہے۔ جس میں رکن ممالک کے مندوبین کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے مبصرین شرکت کر رہے ہیں۔ آٹھ فروری ہی کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیوں کے درمیان کرکٹ میچ بھی ہے۔ ان دونوں اہم ایونٹس کی وجہ سے لاہور سخت ترین سیکورٹی زون ہوگا۔ محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق سیکورٹی کے اس قدر کڑے حالات میں مزید کوئی پرابلم قابل برداشت نہیں کی جائے گی اور احتجاج کرنے والوں کے ساتھ سختی کیے جانے کے واضح امکانات موجود ہیں۔
