PTIکا بشریٰ اور علیمہ خان گروپ آمنے سامنے کیوں آ گئے؟

پاکستان تحریک انصاف میں علیمہ خان اور بشریٰ بی بی گروپ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ جس کے بعد پارٹی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان اور سینیٹر مشال یوسفزئی کے درمیان بیان بازی نے پارٹی کے اندر جاری کشمکش کو نئی شدت دے دی ہے۔ علیمہ خان کی جانب سے مشال یوسفزئی پر سنگین الزامات کے بعد، مشال یوسفزئی نے غیر متوقع ردعمل دیتے ہوئے علیمہ خان کے بیان کو اے آئی جنریٹڈ اور وقت کا ضیاع قرار دے دیا، جس کے بعد پی ٹی آئی کے اندر اختلافات، شکوک اور الزامات کا طوفان مزید تیز ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے اندر اس وقت صورتحال اس حد تک کشیدہ ہو چکی ہے کہ قیادت کے قریبی حلقے ایک دوسرے کے کردار اور نیت پر سوالات اٹھاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ علیمہ خان کا بشریٰ بی بی کی ترجمان سینیٹر مشال یوسفزئی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی خیر خواہ ہیں۔ مشال یوسفزئی جن ہدایات پر ٹی وی پر بیٹھ کر جھوٹ بولتی ہیں، وہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہیں، لگتا یہی ہے کہ مشال یوسفزئی اور شیر افضل مروت کو انہیں ٹارگٹ کرنے کا باقاعدہ ٹاسک دیا گیا ہے۔

علیمہ خان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے جیل میں واضح طور پر کہا تھا کہ مشال یوسفزئی ٹولے کو جا کر بتا دیا جائے کہ ایجنسیاں انھیں استعمال کرنے کے بعد کرش کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے خبر جان بوجھ کر لیک کی گئی تاکہ 8 فروری کے احتجاجی پروگرام سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض ٹی وی پروگرام اسکرپٹڈ ہوتے ہیں اور مخصوص اینکرز اور تجزیہ کار بانی پی ٹی آئی کے ملک چھوڑنے سے متعلق بیانیہ آگے بڑھا رہے ہیں۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عمران خان کے باہر جانے سے معیشت اور دہشت گردی کے مسائل حل ہو جائیں گے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق معلومات چھپائی جا رہی ہیں اور جیل انتظامیہ اہل خانہ اور وکلا کو مسلسل ملاقات کی اجازت نہیں دے رہی۔

دوسری جانب سینیٹر مشال یوسفزئی نے علیمہ خان کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے ان بیانات کو اے آئی جنریٹڈ قرار دے دیا۔ مشال یوسفزئی کا کہنا تھا کہ علیمہ خان عمران خان کی بہن ہونے کے ناطے ان کے لیے قابل احترام ہیں،  سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز یقینی طور پر جعلی یا اے آئی سے تیار کردہ ہیں۔ انھیں نہیں لگتا کہ علیمہ خان نے ان کے حوالے سے کوئی ایسی بات کی ہو گی ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان خود اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ اب صرف نورین نیازی میڈیا سے گفتگو کریں گی اور علیمہ خان کو میڈیا بیانات دینے سے روکا گیا تھا۔ مشال یوسفزئی کے مطابق اس سے قبل بھی ایسے بیانات سامنے آئے جنہیں بعد میں بانی پی ٹی آئی نے فیک قرار دیا۔ حتیٰ کہ 4 اکتوبر کی گرفتاری کے بعد ان کے فون کے مبینہ اسکرین شاٹس لیک کیے گئے جن میں ان کا ذکر تھا، تاہم عمران خان کے پوچھنے پر وہ بھی جعلی ثابت ہوئے۔ مشال یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اسی پس منظر میں وہ موجودہ بیان کو بھی فیک یا اے آئی جنریٹڈ سمجھتی ہیں اور اس پر ردعمل دینا وقت کا ضیاع سمجھتی ہیں۔مشال یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ جیسے ہی انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملے گی، وہ تمام معاملات براہ راست ان کے سامنے رکھیں گی۔

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات یہاں تک محدود نہیں رہے بلکہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ 8 فروری کے بعد مشال یوسفزئی کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ اس بیان نے پارٹی میں موجود خلیج کو مزید واضح کر دیا ہے اور یہ تاثر مضبوط ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی مختلف دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔

اقتدار کے نشے میں ڈوبے حکمران مصیبت کیوں بن جاتے ہیں

سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان کی طویل قید، قیادت کا خلا، بیانیے پر کنٹرول کی جنگ اور جیل سے باہر مختلف گروپس کی اپنی اپنی حکمت عملی نے پی ٹی آئی کو شدید داخلی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ علیمہ خان اور مشال یوسفزئی کے درمیان جاری بیان بازی محض ایک شخصی تنازع نہیں بلکہ پارٹی کے اندر طاقت، اعتماد اور اختیار کی جنگ کی عکاس ہے۔ اس ساری صورتحال نے نہ صرف پی ٹی آئی کارکنان کو کنفیوژن کا شکار کر دیا ہے بلکہ آنے والے دنوں میں پارٹی کی سیاسی سمت، احتجاجی حکمت عملی اور اندرونی نظم و ضبط پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا پی ٹی آئی قیادت اس بحران پر قابو پا کر پارٹی کو متحد رکھ پاتی ہے یا یہ اختلافات مزید گہرے ہو کر پی ٹی آئی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتے ہیں۔

Back to top button